26 فروری ، 2025
کیا آپ کے خیال میں ایک رات نہ سونے سے صحت پر منفی اثرات مرتب نہیں ہوتے؟
تو ایک نئی طبی تحقیق کے نتائج دنگ کر دیں گے۔
درحقیقت محض ایک رات کی خراب نیند مدافعتی نظام پر منفی اثرات مرتب کرسکتی ہے۔
یہ بات کویت میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
Dasman Diabetes Institute کی تحقیق میں بتایا گیا کہ محض ایک رات کی خراب نیند بھی مدافعتی نظام پر نمایاں اثرات مرتب کرتی ہے اور جسم کے اندر ورم بڑھتا ہے۔
جسم کے اندر ورم بڑھنے سے مختلف دائمی امراض سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھتا ہے۔
اس تحقیق میں 237 صحت مند افراد کو شامل کیا گیا اور ان کی نیند کی عادات کا جائزہ وئیر ایبل ایکٹیویٹی ٹریکرز کے ذریعے لیا گیا۔
اس سے قبل بھی ناقص نیند اور موٹاپے کے دوران تعلق دریافت ہوچکا ہے مگر اس نئی تحقیق میں ان مخصوص مدافعتی میکنزمز کی نشاندہی کی گئی جو بے خوابی کے نتیجے میں متاثر ہوتے ہیں۔
تحقیق میں انکشاف ہوا کہ نیند کی کمی سے مدافعتی نظام پر سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں کیونکہ وہ مدافعتی خلیات بہت زیادہ متحرک ہو جاتے ہیں جو ورم پھیلانے کا کردار ادا کرتے ہیں۔
اسی طرح یہ بھی دریافت ہوا کہ ورم پھیلنے مدافعتی نظام کا توازن بگڑ جاتا ہے جس کے باعث اس کے لیے عام امراض سے لڑنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
محققین نے بتایا کہ نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ اسکرینوں کے سامنے زیادہ وقت گزارنے یا دیگر وجوہات کے باعث نیند متاثر ہونا مدافعتی نظام کے لیے تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ محض ایک رات کی خراب نیند سے دائمی امراض کا خطرہ بڑھتا ہے جبکہ مزاج اور ذہن پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر نیند کی کمی معمول بن جائے تو ذیابیطس، موٹاپے اور امراض قلب کا خطرہ سنگین حد تک بڑھ جاتا ہے جبکہ عام موسمی بیماریوں جیسے نزلہ زکام اکثر آپ کو شکار کرنے لگتے ہیں۔
اس سے قبل نومبر 2023 میں امریکا کی کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ایک رات کی خراب نیند سے جسمانی توانائی میں ہی کمی نہیں آتی بلکہ دل کی دھڑکن بے ترتیب ہونے کا خطرہ بھی نمایاں حد تک بڑھ جاتا ہے۔
خیال رہے کہ دل کی دھڑکن کی ترتیب بگڑنے سے ہارٹ فیلیئر، فالج اور دیگر امراض قلب کا خطرہ بڑھتا ہے۔
اس تحقیق میں 419 افراد کو شامل کیا گیا تھا۔
ان افراد کی دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی کے مسئلے کا سامنا تھا اور یہ دیکھا گیا کہ ان کی نیند کا معیار کیسا ہے۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ محض ایک رات کی خراب نیند سے دل کی دھڑکن کی ترتیب متاثر ہونے کا خطرہ 15 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔
اگر نیند کی کمی کا سلسلہ کئی دن یا ہفتوں تک برقرار رہے تو یہ خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔
تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ کئی بار بے خوابی کے مسئلے پر قابو پانا مشکل ہوتا ہے مگر اکثر کیسز میں لوگ اپنے نیند کے معیار کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔
محققین کے مطابق سونے کا ایک وقت طے کرلینا چاہیے اور روزانہ اسی وقت بستر پر جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سونے سے کچھ دیر قبل چائے یا کافی کے استعمال سے گریز کریں جبکہ ڈیجیٹل ڈیوائسز کو بھی دور رکھیں۔