09 اپریل ، 2012
لاہور… بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لئے انرجی کانفرنس لاہور میں جاری ہے۔ اپنے افتتاحی خطاب میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا کہنا تھا کہ توانائی بحران میں پنجاب سے امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے تمام عوام کو جینے کی یکساں سہولتیں مہیا کرنا ہوں گی۔ غیراعلانی اور غیرمنصفانہ لوڈ شیڈنگ سے مشکلات کا سامنا ہے۔توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لئے وفاقی حکومت اور صوبے سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔ وزیراعظم نے لاہور میں انرجی کانفرنس بلائی۔ جس میں چاروں وزرائے اعلیٰ، وزیراعظم آزاد کشمیر،گلگگت بلتستان کے سینئروزیر وفاقی وزرا اور دیگر نمائندوں نے شرکت کی۔فاٹا کی نمائندگی خیبر پختون خوا کے گورنر بیرسٹر مسعودکوثر نے کی۔ اپنے افتتاحی خطاب میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کوئلے اور گنے کی پھوک سے توانائی حاصل کرنے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکلر ڈیٹ کے خاتمے کے لئے اخراجات کم کرنا ہوں گے۔وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ توانائی کا بحران حل کرنے کیلئے ایک دوسرے پر الزام نہ لگائیں مل کر کام کریں۔ قربانیاں سب کو دینا پڑیں گی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان اسلم رئیسانی ایران پاکستان مجوزہ گیس پائپ لائن کو اپنے صوبے کے لئے فائدہ مند قرار دیا۔ خیبر پختون خوا کے وزیراعلٰی امیر حیدر ہوتی کا کہنا تھا کہ انرجی کانفرنس کی تجاویز پر عمل درآمد اہم ہو گا۔ وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ بے نظیر بھٹو کے دور میں توانائی کے کئی منصوبے شروع ہوئے۔ ان کی حکومت مدت پوری کرتی تو آج پاکستان کی تاریخ مختلف ہوتی۔ انرجی کانفرنس سے وفاقی وزیر پانی و بجلی نوید قمر، وزیر پٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین، گورنر خیبر پختونخوا بیرسٹر مسعود کوثر اور وزیراعظم آزاد کشمیر چودھری عبدالمجید نے بھی خطاب کیا۔