19 مئی ، 2014
کراچی… محمدرفیق مانگٹ… بھارتی پارلیمنٹ بابوں سے بھر گئی۔نئی لوک سبھا میں1952کے بعد سب سے زیادہ خواتین اراکین منتخب ہوئیں۔ ہندوستانی پارلیمنٹ کی تاریخ میں کبھی بھی اتنے زیادہ بوڑھے اراکین منتخب ہو کر نہیں آئے جتنے حالیہ 16ویں لوک سبھا میں آئے۔ برطانوی اخبار”دی میل“ نے PRS قانون ساز تحقیق کے حوالے سے بتایا کہ کل اراکین میں سے47فی صد اراکین کی عمر55سال یا اس سے زیادہ ہے۔ رخصت ہونے والی 15ویں لوک سبھا میں43فی صد اراکین کی عمر55سال سے زائد تھی ،حالیہ انتخابات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایوان زیریں کیلئے عوام بوڑھے نمائندوں کو منتخب کر رہی ہے۔ 543کے ایوان میں صرف71اراکین کی عمرچالیس سال سے کم ہے جو کہ 13فی صد بنتی ہے ۔بھارتی پارلیمانی تاریخ میں سب سے زیادہ خواتین اراکین منتخب ہو کر آئی جن کی تعداد61ہے جو2009کے ایوان سے تعداد میں تین زیادہ ہیں۔حالیہ ایوان میں گر یجوایٹ اراکین کی تعدا د میں کمی ہوئی گزشتہ لوک سبھا میں79فی صد گریجوایٹ تھے جب کہ نو منتخب ایوان میں75فی صد گریجوایٹ ہیں۔حالیہ لوک سبھا میں سب سے زیادہ نا ن میٹرک اراکین منتخب ہوئے جو کہ ایوان کی مجموعی تعداد کا13فی صد ہے۔گزشتہ ایوان میں صرف تین اراکان نان میٹرک تھے۔ دس فی صد اراکین میٹرک پاس ہیں جب کہ گزشتہ لوک سبھا میں یہ تعداد 17فی صد تھی۔ چھ فی صد اراکین کے پاس ڈاکٹریٹ کی ڈگری ہے جب کہ گزشتہ لوک سبھا میں صرف تین فی صد ڈاکٹوریٹ ڈگری کے حامل تھے۔16ویں لوک سبھا میں27فی صد زرعی پیشے سے اور24 فی صد سیاسی اور سماجی شعبے سے تعلق رکھتے ہیں۔20فی صد نومنتخب اراکین کا اپنا بزنس ہے۔ پہلی لوک سبھا میں36 فی صد وکلاء، اس کے بعد زرعی پیشے سے وابستہ اور بزنس مین تھے۔نئی لوک سبھا میں بھی پہلی بار منتخب رکن ایک سابق آرمی چیف بھی ہیں۔16ویں لوک سبھا میں89فی صد مرد اور11فی صد خواتین ہیں، عمر کے لحاط سے نو منتخب اراکین میں سات فی صد کی عمر71سے 100سال کے درمیان ہے۔