19 جون ، 2014
لاہور........متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کی ہدایت پر ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی ،ارکان افتخار اکبر رندھاوا اور خالد سلطان نے حق پرست اراکین قومی اسمبلی اورایم کیو ایم سینٹرل پنجاب کے صدر واراکین کے ہمراہ پاکستان تحریک منہاج القرآن کے مرکزی سیکریٹریٹ جا کر ڈاکٹر طاہر القادری کے صاحبزادے ڈاکٹر حسین محی الدین و دیگر سے ملاقات کی اورالطاف حسین کی جانب سے پنجاب پولیس کے لاہور میں منہاج القرآن کے دفتر میں توڑ پھوڑ، کارکنان کے ساتھ وحشیانہ سلوک اورکارکنان کو بے دردی سے شہید کئے جانے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ۔ اس موقع پر ڈاکٹر حسین محی الدین سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پنجاب پولیس کی جانب سے منہاج القرآن کے کارکنان کے ساتھ جو ظلم و زیادتی کی گئی ہے وہ پنجاب کی تاریخ کا سب سے بدترین سانحہ ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، معصوم بچوں ،خواتین اور مردوں پر پولیس کی جانب سے اس طرح تشدد کیا گیا جیسے کہ وہ کوئی دہشت گرد ہیں جبکہ جو اصل دہشت گرد ہیں وہ آج بھی دندناتے پھر رہے ہیں اور معصوم عوام کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں جس کی ایک تازہ مثال خود ایم کیو ایم کی رکن قومی اسمبلی بیگم طاہرہ آصف ہیں جو آج زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں، اس کٹھن اور مشکل وقت میں الطاف حسین سمیت ایم کیو ایم کا ایک ایک کارکن تحریک منہاج القرآن کے کارکنان کے ساتھ ہے اور ہم ارباب اختیار سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پولیس کے وحشیانہ اورانسانیت سوز تشدد سے دوخواتین سمیت متعدد کارکنان کی شہادت کے المناک واقعات کا سنجیدگی سے نوٹس لیاجائے اور واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے ۔ اس موقع پر ڈاکٹر طاہر القادری کے صاحبزادے ڈاکٹر حسین محی الدین نے ایم کیو ایم کی جانب سے مکمل یکجہتی پرڈاکٹر خالد مقبول اور وفد کا شکریہ ادا کیا اورگزشتہ روز لاہور میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے شدید زخمی ہونے والی حق پرست رکن قومی اسمبلی بیگم طاہرہ آصف پر قاتلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ لاہور میں دن دھاڑے رکن قومی اسمبلی طاہرہ آصف پر قاتلانہ حملے نے ثابت کر دیا ہے کہ حکومت بری طرح ناکام ہو چکی ہے اور اپنے منطقی انجام کی جانب گامزن ہے۔بعد ازاں شہید کارکنان کے ایصال ثواب، زخمیوں اور بیگم طاہرہ آصف کی جلد و مکمل صیحتیابی کیلئے بھی خصوصی دعا کی گئی ۔