-----

ممبئی کے کلبھوشن نے پونے سے کمیشن حاصل کیا

Mumbai Kay Kulbhushan Nay Pune Say Commission Hasil Kia

ایاز اکبر یوسف زئی ... بلوچستان میں پکڑا گیا بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کا ایجنٹ کل بھوشن جادیو دراصل بھارتی نیوی کا حاضر سروس افسر تھا، اس کا تعلق ممبئی سے ہے۔

کلبھوشن نے پونے سے کمیشن حاصل کیا، جعلی نام حسین مبارک پاٹیل سے ایرانی ویزا لگوا کر چاہ بہار سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کیں، 2013ء میں بلوچستان آ گیا، ایجنڈا کراچی اور بلوچستان کی پاکستان سے علیحدگی تھا۔

’را‘ ایجنٹ کا اصل نام کل بھوشن جادیو جبکہ اس کے والد کا نا م سدھیر جادیوہے،اس کی اصل تاریخ پیدائش 16 اپریل 1970ء،جائے پیدائش اور رہائشی پتہ مکان نمبر 502 بی، سلور اوک پوائی، ہیرا نندنی گارڈنز، ممبئی ہے۔

کلبھوشن 1987ء میں انڈین نیشنل ڈیفنس اکیڈمی میں پونے میں شمولیت اختیار کی،یکم جنوری 1991ء انجینئرنگ برانچ سے کمیشن حاصل کیا۔

’را‘ ایجنٹ نے 2001ء میں بھارتی نیول انٹیلی جنس میں شمولیت اختیار کی، جس میں اس کا نمبر 41558زیڈ تھا ،بھارتی سرکاری دستاویزات کے مطابق اسے نیوی سے 2022ء میں ریٹائر ہونا ہے، اس کی بیوی اور دو بچے باپ سدھیر جادیو کے ساتھ رہتے ہیں۔

بھارتی ’را‘کے ایجنٹ کل بھوشن جادیو کی 2003ء میں ایران کے علاقے چاہ بہار میں پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے لیے تعیناتی ہوئی اور اس مقصد کے لیے ایک جعلی پاسپورٹ بنایا گیا ،جس پر ایرانی ویزا لگوایا گیا، جس پر اس کا جعلی نام حسین مبارک پٹیل تھا ، اس کی جعلی پیدائش 30اگست 1968ء ظاہر کی گئی تھی، اس کا جعلی پتہ سنگلی، مہاراشٹرا کا تھا جبکہ جعلی پاسپورٹ کا نمبر L9630722تھا۔

کل بھوشن نے پاکستان کے خلاف کام کا ’را‘ کی طرف سے باقاعدہ آغاز 2013ء میںکیا، ایران سے کل بھوشن حسین مبارک پٹیل بن کر بلوچستان میں گھسا اور باقاعدہ کارروائیوں کا آغاز کیا، اس کا ایجنڈا کراچی اور بلوچستان کی پاکستان سے علیحدگی تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دوران حراست بھارتی ایجنٹ نے انکشاف کیا ہے کہ وہ بلوچستان کے علاقے وڈ میں حاجی بلوچ سے رابطے میں تھا، حاجی بلوچ کالعدم تنظیموں کے دہشت گردوں کو بھی مالی اور لاجسٹک سپورٹ سمیت کراچی میں داعش کا نیٹ ورک مضبوط کر رہا تھا۔

بھارتی ایجنٹ نے انکشاف کیا کہ سانحہ صفورا کا ماسٹر مائنڈ بھی بلوچستان میں حاجی بلوچ سے رابطوں میں تھا، کراچی میں اس سانحے میں 45 اسماعیلی افراد کو بس کے اندر گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا۔

کل بھوشن یادیو نے انکشاف کیا تھا کہ کراچی میں فرقہ وارانہ قتل و غارت گری کیلئے مقامی دہشت گردوں کی مدد لی گئی، کراچی سمیت سندھ میں فسادات پھیلانے کے لیے کئی میٹنگز کیں۔