Can't connect right now! retry
Advertisement

بلاگ
25 اپریل ، 2017

میرا بہاولپور، پیارا بہاولپور

میرا بہاولپور، پیارا بہاولپور

زندہ قومیں اپنے ثقافتی ورثے کی ہمیشہ حفاظت کرتی ہیں کیونکہ ان کا شاندار ماضی اس ورثے میں نمایاں ہوتا ہے، ہمارے یہاں مغلیہ دور سے پہلے کی تاریخ پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی قابل ذکر کام ہوا ہے۔

ایسے میں بہاولپور کے لوگوں نے اپنے عظیم ماضی کو محفوظ کرنے اور نئی نسل سے متعارف کرانے کے لیے جس مہم کا آغاز کیا اور اس کی دیکھا دیکھی ملتان، لاہور اور دوسرے شہروں میں بھی پراجیکٹس شروع کیے گئے ہیں۔

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے شعبہ فائن آرٹس کے سربراہ ڈاکٹر نصراللہ خان نے اس حوالے سے بتایا کہ ہم نے کوشش کی ہے کہ بہاولپور کا شاندار ماضی صرف کتابوں میں ہی نہ رہ جائے بلکہ اس کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کیا جائے۔

تقریباً ڈیڈھ برس پہلے اسلامیہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر قیصر مشتاق کی ہدایت پر  طلبہ نے اپنے شہر کی ثقافت کو نمایاں کرنے کے لیے’ہمارا بہاولپور، پیارا بہاولپور‘ کے سلوگن کے تحت شہر کی چند منتخب دیواروں کو  15فٹ بلند اور 12 فٹ چوڑے 60 پینلز سے مزین کر کے سب کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔

مزید برآں اسلامیہ یونیورسٹی کے اولڈ عباسیہ کیمپس جو نواب آف بہاولپور کے زمانے کی یادگار ہے کے سامنے واقع یونیورسٹی چوک میں 14 فٹ بلند اسٹیل کا ایک مونومنٹ بنایا گیا ہے، اس ساری مہم کا مقصد بہاولپور کے تاریخی ورثے کو نئی نسل سے متعارف کروانا تھا۔

مقامی حکومت نے بھی اس مہم کو آگے بڑھاتے ہوئے شہر کے 7قدیم دروازوں کی تعمیر نو کی، 5دروازوں کا تو وجود ہی ختم ہو چکا تھا جن کو دوبارہ تعمیر کیا گیا۔

شہر کی خوبصورتی میں اضافے کے حوالے سے کمشنر بہاولپور ڈویژن ثاقب ظفر نے دریائے ستلج کے ریلوے برج پر رات کو رنگ برنگی روشنیوں کا اہتمام کیا، آج کل دریا میں پانی بھی موجود ہے، شام ہوتے ہی شہری وہاں آ کر روشنیوں کا نظارہ کرتے ہیں جو دریا کے پانی میں بہت بھلی معلوم ہوتی ہیں۔

اسلامیہ یونیورسٹی کے فرجاد فیض نے بتایا کہ بہاولپور کے مشہور اسپیشل ایجوکیشن کالج کی دیواروں کو بھی تصاویر سے مزین کیا گیا ہے، جن میں شہر کی تہذیب و  ثقافت کو نمایاں کیا گیا ہے۔

پاک آرمی نے بھی نور محل اور دربار محل میں لیزر لائٹس کی مدد سے قوس قزح کے مختلف رنگبکھیر کر  شہر کی خوبصورتی میں اضافہ کیا ہے۔

اس قسم کی مثبت سرگرمیاں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ پاکستانی قوم اپنے ثقافتی ورثے کی قدر و قیمت سے نہ صرف آگاہ ہے بلکہ اس کی حفاظت سے بھی غافل نہیں۔

(صاحبزادہ محمد زابر سعید بدر 50کتابوں کے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ ممتاز صحافی، محقق اور ابلاغ عامہ کی درس و تدریس سے وابستہ ہیں)

Advertisement