-----

پاکستان، امریکا اور گریٹ گیم

Pakistan America Our Great Game

محمد زابر سعید بدر
برصغیر پاکستان و ہند کے لوگ شخصیت پرست ہیں،جس کی وجہ یہ ہے کہ ہزاروں سال سے اس خطے میں لاکھوں دیوی دیوتاؤں کی پرستش کی جا رہی ہے، اس کے علاوہ یہاں کے لوگ مظاہر پرست بھی ہیں۔

تاریخ اور ابلاغ عامہ پر میرا مطالعہ بہت زیادہ وسیع نہ سہی تاہم تھوڑا بہت ضرور ہے، اس لیے بعض واقعات اور شخصیات کا مطالعہ اور مشاہدہ قدرے بہتر انداز میں کر لیتا ہوں۔

قریبی احباب اکثر کہتے ہیں کہ یا تو مجھے غیبی اشارے ہوتے ہیں یا میرے مقتدر لوگوں سے گہرے تعلقات ہیں، حقیقت میں ایسی کوئی بات نہیں، میں ایک عام سا بندہ ہوں بس مشاہدہ کرنا گویا عادت سی بن گئی ہے۔

ایک اور نفسیاتی پہلو ہمارے عوام کا یہ ہے کہ ہم نے کبھی کسی انقلاب کا سامنا نہیں کیا، مغل شہنشاہیت کے زوال تک ہم ایک شہنشاہ کو اپنا مائی باپ تصور کرتے رہے۔

سن 1857ء میں ایک ناکام آزادی کی جنگ کے بعد ہم انگریز سامراج کے غلام ہو گئے، جو یہاں تجارت کرنے آئے تھے، جب کہ یورپ اور امریکا میں انقلابی تحریکیں اٹھیں اور انہوں نے فرد واحد کی حکمرانی کو ختم کر کے جمہوریت کی شمع روشن کی۔

ہمارے یہاں پہلے بھی شخصی حکومت تھی اور ہم بڑی آسانی سے انگریز کے جھانسے میں آگئے ان تاجروں نے بھی ہمیں بے وقوف بنایا اور ہم بن بھی گئے۔

سن1947ء میں جب پاکستان بنا تو جمہوریت کی خوبصورتی ہمیں سمجھ ہی نہ آئی، قدرت اللہ شہاب لکھتے ہیں کہ جنرل ایوب اس قسم کے حالات پیدا کر رہے تھے کہ عوام جمہوریت سے نالاں ہو جائیں اور بلا ٓخر 1958ء میں مارشل لا لگ گیا، تمام ذرائع ابلاغ حکومت کے کنٹرول میں آ گئے، پی پی او نافذ ہو گیا، وہ دن ہے اور آج کا دن ایک ہی کہانی چل رہی ہے، کردار البتہ بدل جاتے ہیں۔

ایٹم بم کا تحفہ دینے والے کو پاکستان توڑنے کا ذمہ دار قرار دیا گیا، ان کی صاحبزادی کو سیکیورٹی رسک کہا گیا، ایک کو پھانسی دے دی گئی، دوسری کو منظر سے ہٹا کر سڑک بھی دھلوا دی گئی۔

ایک اور جمہوری وزیر اعظم کو جلا وطن کیا گیا، اس وقت بھی بھٹو صاحب کہتے رہے کہ اس عدالت سے انصاف کی توقع نہیں، اب بھی جے آئی ٹی پر سوال اٹھ رہے ہیں اور جب بھٹو جیل میں تھے اور ان کی بیٹی اور اہلیہ سڑکوں پر رل رہی تھیں تو پاکستان کے لوگ اور ان کے ووٹر سوئے ہوئے تھے۔

سن1999ء میں دو تہائی اکثریت لینے والے نواز شریف جیل میں تھے اور ان کی بیٹی اور اہلیہ کراچی کی سڑکوں پر دھکے کھا رہی تھیں، تب بھی عوام پر کوئی اثر نہ ہوا اور آج بھی ایسا ہی ہے اور آئندہ بھی ایسا ہی ہوتا رہے گا کیونکہ اس ریوڑ نما ہجوم جس کو پاکستانی قوم کا نام دیا جاتا ہے ،اس میں وہ حمیت ہی نہیں جس سے کوئی انقلاب جنم لے سکے۔

ٹرمپ نے آخر وہ کہہ دیا، جس کا میں اپنے کالموں میں مسلسل ذکر کر رہا ہوں، ڈو مور اور ہم پاناما پاناما کو رو رہے ہیں۔

ریمنڈ ڈیوس نے اپنی کتاب میں سچ کہہ دیا کہ وہ کس طرح اور کس کے تعاون سے رہا ہو سکے اور عدالت میں وہ اپنے موبائل فون کے ذریعے امریکی سفیر سے مسلسل رابطے میں تھے، اسکے علاوہ جان کیری، زرداری، نواز شریف، حسین حقانی اور دیگر نے ان کی مدد کی۔

اس کا ایک اور پہلو بھی ہے کہ خون بہا کے عوض ریمنڈ ڈیوس کو دی جانے والی معافی کا مطلب امریکا کی جانب سے اس بات کو تسلیم کرنا تھا کہ ریمنڈ ڈیوس استثنیٰ کا حقدار نہیں یا اس کا کیس لڑنے والی ٹیم کو اس بات کی امید نہیں رہی کہ وہ انتظامیہ کو رضامند کرسکیں گے۔

دفتر خارجہ نے سفارتی استثنیٰ کا کوئی سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا اور یہ امر بھی ظاہر ہو گیا کہ مرنے والے دونوں افراد پاکستان کی خفیہ ایجنسی کے اہلکار نہیں بلکہ لٹیرے تھے، ان کے اہلخانہ نے 23کروڑ روپے کی خطیر رقم لے کر ریمنڈ ڈیوس کو جانے دیا تھا ۔

فوج، وفاقی اور صوبائی حکومت  نے اس واقعے کو جذباتی انداز میں لینے کی بجائے زمینی حقائق کے مطابق لیا، سفارتی استثنیٰ دینے سے گریز کیا مگر پاک امریکا تنازع بھی نہیں پیدا ہونے دیا۔

امریکا ہمیشہ سے ہی پاکستانی سیاست میں ضرورت سے زیادہ ملوث رہا ہے، چین ایک سپر پاور بن رہا ہے، امریکا کو اس کا سامنا کرنا ہے، اس کے لیے وہ کچھ بھی کرے گا اور وہ کر رہا ہے۔

بھارت کی حمایت میں وہ کھل کا سامنے آ گیا ہے، اسرائیل کو وہ ہمیشہ سے اپنی گود میں لیے بیٹھا ہے، مشرق وسطیٰ میں وہ مذہبی منافرت پھیلا رہا ہے اور ہم سمجھ نہیں پا رہے، ہمارے ساتھ وہ چھپن چھپائی کھیل رہا ہے۔

روس اور چین ہمارے ساتھ ہیں، امید ہے  ہمارے مقتدر حلقوں کے پیش نظر یہ بات ہو گی کہ امریکی بیڑا کبھی ہماری مدد کو نہیں آئے گا، اس نے پہلے بھی ہماری پیٹھ پر وار کیا اور آئندہ بھی کر سکتا ہے۔

ہمارے ہاں آج بھی میر جعفر اور میر صادق جیسے لوگ موجود ہیں اور ان سے برابر کام لیا جا رہا ہے، اس وقت کسی بھی حوالے سے سازشی کرداروں کو ناکام بنانا ہے۔

بے حمیت عوام سے امیدیں وابستہ کرنا حماقت ہے لیکن مجھے امید ہے کہ مقتدر حلقے پاکستان کے مستقبل کا سوچیں گے کیونکہ وہ، وہ سب کچھ جانتے ہیں جو عام افراد نہیں جانت، .گریٹ گیم نے طبل جنگ بجا دیا ہے اور ہم نے دانشمندی سے اپنا دفاع کرنا ہے۔

(صاحبزادہ محمد زابر سعید بدر 50کتابوں کے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ ممتاز صحافی، محقق اور ابلاغ عامہ کی درس و تدریس سے وابستہ ہیں، حال ہی میں بہترین میڈیا ایجوکیشنسٹ بھی قرار پائے ہیں)