Can't connect right now! retry
Advertisement

بلاگ
06 اکتوبر ، 2017

نواز شریف کیلئے لمحہ فکریہ، پہلا گواہ فارغ

اب سابق وزیراعظم نوازشریف کے گھر سے بھرپور آواز آئی ہے کہ وہ اپنی پارٹی سے مشاورت کریں نہ کہ ان مشیروں سے جو کہ گاڑی، جھنڈے اور دوسری مراعات کیلئے ان کے اردگرد جمع رہے ہیں یعنی ان کے چھوٹے بھائی وزیر اعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے بھرے مجمع میں یہ مشورہ دیا ہے۔

پہلے تو اس طرح کی صدا سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان بلند کرتے رہے ہیں مگر ان کی بات پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی کیونکہ وہ ہیں تو ’’آؤٹ سائیڈر‘‘ ہی۔ اب شہبازشریف نے اپنا وزن چوہدری نثار کے پلڑے میں ڈال دیا ہے جس کو نوازشریف آسانی سے رد نہیں کرسکتے۔

شہبازشریف اور چوہدری نثار کی دوستی بہت پرانی ہے اور وہ ہمیشہ مختلف اہم امور پر یکساں خیالات رکھتے ہیں۔ 28 جولائی کو سپریم کورٹ کا پانامہ کیس کا فیصلہ آنے سے کچھ دیر پہلے چوہدری نثار جو اس وقت وزیر داخلہ تھے نے کافی کھل کر نوازشریف پر تنقید کی تھی اور گلہ کیا تھا کہ باوجود اس کے کہ وہ نون لیگ کے بہت سینئر رہنما ہیں انہیں بھی چند ماہ سے مشاورت سے باہر رکھا گیا ہے اسی گلے کی بنیاد پر ہی انہوں نے نئی کابینہ جو شاہد خاقان عباسی کی سربراہی میں بنی تھی میں شامل ہونے سے انکار کر دیا تھا۔

اس سے قبل وہ کابینہ کے اجلاس میں بھی اپنے تنقیدی خیالات کا کھل کر اظہار کر چکے تھے اور نوازشریف نے بطور وزیراعظم ان کی بات کو بڑے تحمل سے سنا تھا۔ جب شہبازشریف نے کچھ مشیروں کو تنقید کا نشانہ بنایا جن کا انہوں نے نام تو نہیں لیا تو دراصل ان کا ٹارگٹ نوازشریف ہی تھے مگر دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا ان مشیروں نے سابق وزیراعظم کو اس رستے پر ڈالا جس سے شہبازشریف اور چوہدری نثار کی جوڑی انہیں منع کرتی رہی۔

ان دونوں حضرات کو ہمیشہ یہ بڑا زعم رہا ہے کہ ان کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بڑے اچھے تعلقات ہیں اور وہ نوازشریف حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ہمیشہ پل اور فائر فائٹنگ کا کام کرتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ ان کے یہ تعلقات نوازشریف کے کہاں کام آئے ہیں جب نوازشریف کو ہمیشہ مختلف امور بشمول ڈان لیکس پر دیوار کے ساتھ لگایا جاتا رہا۔

یہ نوازشریف کیلئے لمحہ فکریہ ہے کہ اب جبکہ شہبازشریف نے بھی چوہدری نثار کی بات کو ہی سرعام دہرا دیا ہے تو انہیں کیا کرنا چاہئے۔ ایک راستہ تو یہ ہے کہ وہ ان مشیروں جن کا وزیراعلیٰ نے ذکر کیا ہے کو اپنے سے دور رکھیں اور دوسرا آپشن یہ ہے کہ شہبازشریف اور چوہدری نثار کو بتائیں کہ قصور مشیروں کا نہیں ہے ان کا اپنا ہے جو تمام مشورے انہماک سے سنتے ہیں اور کچھ پر عمل بھی کرتے ہیں۔

ان مشیروں میں سے ایک کو تو ہم بڑے اچھے طریقے سے جانتے ہیں جو نوازشریف کی ٹیم میں ان کے بار بار اصرار کے بعد شامل ہوئے تھے۔ وہ ’’مڈل کلاسئیے‘‘ ہیں یہی ان کا بہت بڑا ’’جرم‘‘ ہے۔ وہ کیسے ایسے ’’کلب‘‘ میں شامل ہوگئے جو صرف ایلیٹ کیلئے ہے۔ جو کام وہ پہلے کر رہے تھے اس سے ان کی روزی روٹی بہت اچھی چل رہی تھی اور عزت واحترام بھی کافی تھا۔ ان صاحب نے مشیر بن کر مالی طور پر تو کافی نقصان کیا ہے۔ انہیں نہ تو کرسی اور نہ ہی جھنڈا چاہئے تھا۔ لہٰذا اگر ان کو مشیر بنا کر نوازشریف نے کوئی بہت غلط کام کیا ہے تو ’’قصور‘‘ سابق وزیراعظم کا ہے۔

نیب نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف احتساب عدالت میں اثاثہ جات ریفرنس میں اپنا پہلا گواہ اشتیاق علی جو کہ ایک نجی بینک کے افسر ہیں پیش کیا ہے۔

اس کی گواہی سے ریفرنس ہوا میں اڑتا نظر آرہا ہے اور گواہ ’’فارغ‘‘۔ اسحاق ڈار کے وکیل خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ نیب نے بینک ریکارڈ حاصل کرنے کیلئے کوئی خط اشتیاق علی کو براہ راست نہیں لکھا۔ انہوں نے گواہ سے پوچھا کہ کیا ان کے پاس نیب کے خط کی اصل کاپی موجود ہے تو اشتیاق علی نے جواب دیا کہ ان کی نقول موجود ہیں۔

وکیل نے کہا کہ خط میں تو اسحاق ڈار کے نام پر بینک اکائونٹ کی تفصیل مانگی گئی تھی ایچ ڈی ایس کمپنی کی نہیں تو پھر آپ نے یہ کیوں فراہم کی۔ اس پر گواہ گھبرا گئے اور جواب دیا کہ آپ نے درست کہا ہے کہ ایچ ڈی ایس کمپنی کی تفصیلنہیں مانگی گئی تھی۔ وکیل نے دستاویزات گواہ کو دکھاتے ہوئے پوچھا کہ کیا یہی وہ نیب میں لے کر گئے تھے، کیا یہاں بھی لے کر آئے ہیں اپنی پٹاری دیکھیں شاید مل جائیں تو گواہ نے جواب دیا کہ نیب کے تفتیشی افسر کو تصدیق شدہ کاپی فراہم کی اصل دستاویزات نہیں، وہ اصل دستاویزات عدالت کو فراہم کر دیںگے۔

پھر خواجہ حارث نے پوچھا کہ کیا تصدیق شدہ کاپی اس اکائونٹ کی تفصیلات کو ا سکین کر کے بنائی گئیں تو اشتیاق علی نے جواب دیا کہ یہ میری موجودگی میں اسکین کر کے تصدیق شدہ کاپی تیار کی گئی۔ خواجہ حارث نے پوچھا کیا تصدیق شدہ کاپی تیار ہونے کے بعد کوئی ٹمپرنگ تو نہیں کی گئی تو گواہ نے نفی میں جواب دیا۔ جب استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ تصدیق شدہ کاپی کو گواہ نے تصدیق نہیں کیا تو وکیل نے جج محمد بشیر سے کہا کہ یہ نوٹ کر لیں۔

گواہ نے کہا کہ 2001ء میں تیار کی گئی دستاویزات نہ تو انہوں نے خود تیار کیں اور نہ ہی وہ اس وقت بینک کے ملازم تھے تو خواجہ حارث نے پوچھا کہ کیا یہ درست ہے کہ جس نے یہ تصدیق کی اس کا نام، تاریخ اور عہدہ ہی درج نہیں تو گواہ نے آہستہ سے کہا درست ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں اشتیاق علی بولے کہ انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ دستاویزاتاسکین کس نے کی۔

خواجہ حارث نے کہا یہ تو کہہ رہے ہیں کہ سب کچھ سسٹم نے تیار کیا مگر میں بتائوں گا کہ یہ سسٹم نے تیار کیا ہی نہیں۔ خواجہ حارث نے کہا کہ استغاثہ کا پہلا گواہ غیر متعلقہ ہے اور اس کا اس ریفرنس سے کوئی براہ راست تعلق نہیں ہے، گواہ نے نہ تو خود ریکارڈ تیار کیا نہ ہی اس کی موجودگی میں تیار کیا گیا، بینک دستاویزات اشتیاق علی کے پاس کبھی رہی ہی نہیں، دستاویزات 2006ء سے 2011ء کی ہیں مگر گواہ خود 2005ء میں بینک کے ساتھ وابستہ ہوا، اسحاق ڈار کا اکائونٹ 2006ء میں بند ہوا مگر نیب نے 2011ء کی آخری ٹرانزیکشن اسٹیٹمنٹ ریفرنس کے ساتھ لگا دی ہے۔

اس سے قبل اشتیاق علی نے کہا کہ 16 اگست 2017ء کو نیب کا سمن موصول ہوا جس میں تمام ریکارڈ کے ساتھ نیب میں پیش ہونے کی ہدایت کی۔ 28 اگست کو نیب کے روبرو پیش ہو کر تمام ریکارڈ فراہم کر دیا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اسحاق ڈار کی اہلیہ جو ایچ بی ایس سیکورٹی کمپنی کی سی ای او ہیں ان کے نام پر بینک اکائونٹ کھولا گیا جس پر عدالت نے پوچھا یہ تمام دستاویزات کس نے تیار کی تھیں تو جواب ملا آفس کے کمپیوٹر پر تیار ہوئی تھیں پوچھنے پر گواہ نے کہا یہ دستاویزات ہاتھ کی لکھی ہوئی نہیں ہیں۔

خواجہ حارث نے دستاویزات کے غیر تصدیق شدہ ہونے پر اعتراض اٹھایا جس پر نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ کسٹمر اسٹیٹمنٹ کی تصدیق شدہ کاپی لگائی گئی ہے۔ وکیل نے اعتراض کیا کہ یہ دستاویزات تو گواہ نے تیار ہی نہیں کیں تو نیب کے پراسیکیوٹر نے کہا کہ تمام سیل شدہ دستاویزات تفتیشی افسر کے پاس موجود ہیں۔ گواہ نے بتایا کہ 29 اگست کو وہ دوبارہ نیب میں پیش ہو کر اسحاق ڈار اور ان کے خاندان کے بینک اکائونٹس کی تفصیلات فراہم کر دی تھیں۔ یہ دستاویزات بینک کے ہیڈ کواٹرز نے نیب کے حوالے کرنے کو کہا تھا۔

یہ رہی پانامہ تفتیشی ٹیم کی جعل سازی کے کمالات کی ایک چھوٹی سی جھلک۔ اس بینک میں اسحاق ڈار کا اکائونٹ 2006ء میں بند ہوا مگر جو اس ’’اکائونٹ‘‘ کی اسٹیٹمنٹ ریفرنس کے ساتھ لگائی گئی ہے اور عدالت میں پیش کی گئی ہے وہ 2011ء تک ہے۔

یہ بار بار کہا جاتا رہا ہے کہ جے آئی ٹی کی تفتیش انتہائی ناقص ہے اور اس نے جعلی دستاویزات پر انحصار کیا ہے۔ ایک ’’ہوا‘‘ کھڑا کرکے عدالتوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی اور کی جارہی ہے۔


یہ کالم 6 اکتوبر 2017 کے روزنامہ جنگ میں شائع ہوا۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Advertisement