Can't connect right now! retry
Advertisement

پاکستان
12 اکتوبر ، 2017

اثاثہ جات ریفرنس: اسحاق ڈار کے 5 بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات جمع

احتساب عدالت میں اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت کے دوران نیب نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے 5 بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات پیش کردیں۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے آمدن سے زائد اثاثے رکھنے سے متعلق وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے خلاف نیب کی جانب سے دائر ریفرنس کی سماعت کی۔

نیب نے شاہد عزیز اور طارق جاوید کو بطور گواہ پیش کیے جن پر اسحاق ڈار کے وکیل خواجہ حارث نے جرح کی، شاہد عزیز قومی سرمایہ کاری ٹرسٹ اسلام آباد کے ملازم ہیں جب کہ طارق جاوید لاہور کے نجی بینک میں افسر ہیں۔

دوران سماعت استغاثہ کے گواہ طارق جاوید نے اسحاق ڈار کی دو کمپنیوں اور اہلیہ تبسم اسحاق ڈار سمیت 5 بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات عدالت میں پیش کیں۔

نیب کے گواہ نے عدالت کو بتایا کہ پہلا بینک اکاؤنٹ تبسم اسحاق ڈار، دوسرا ہجویری مضاربہ اور تیسرا ہجویری ہولڈنگ پرائیویٹ کے نام پر کھولا گیا جب کہ ہجویری مضاربہ کے اکاؤنٹس عبدالرشید، نعیم محبوب اور ندیم بیگ آپریٹ کررہے تھے۔

گواہ طارق جاوید نے بتایا کہ اسحاق ڈار کی کمپنی ہجویری مضاربہ کی جون 1995 سے جنوری 2001 کی بینک اسٹیٹمنٹ بھی جمع کرائی ہے جب کہ بینک کے حکم پر نیب لاہور میں اکاؤنٹ کی تصدیق شدہ کاپیاں فراہم کیں۔

اس موقع پر اسحاق ڈار کے وکیل خواجہ حارث نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ گواہ کی دستاویز پر اعتراض ہے، عدالت میں تصدیق شدہ دستاویزات نہیں دی گئیں، کچھ صفحات غائب ہیں، کچھ پر نمبر موجود نہیں اور ترتیب بھی آؤٹ ہے، ایسی دستاویزات تو کوئی بھی تیار کر سکتا ہے۔

اس موقع پر معزز جج محمد بشیر نے ریمارکس دیے کہ ایسی بات نہیں یہ بینک کی دستاویزات ہیں، تصدیق شدہ کاپی منگوانے کا حکم دے دیتے ہیں۔

نیب پراسیکیوٹر عمران شفیق نے کہا کہ گواہ کی شہادت کو ابتدائی شہادت کے طور پر لیا جائے جب کہ وکیل صفائی کا اعتراض درست نہیں، یہ عدالت کا کام ہے کہ وہ شہادت کو بنیاد شہادت تسلیم کرے۔

اسحاق ڈار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ہم نے عدالت عظمیٰ میں بھی کہا تھا اس طرح کیس دو دن میں ختم ہوسکتا ہے، الیکٹرانک ٹرانزکشن ایکٹ 2000 کی شق 12 کا حوالہ ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے۔

اسحاق ڈار کے وکیل خواجہ حارث نے نیب کی جانب سے پیش کردہ گواہ شاہد عزیز پر جرح مکمل کرلی تاہم دوسرے گواہ طارق جاوید پر جرح مکمل نہ ہوسکی۔ 

احتساب عدالت نے اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت 16 اکتوبر تک ملتوی کرتے ہوئے نیب کے گواہ طارق جاوید کو آئندہ سماعت پر دوبارہ طلب کرلیا۔

احتساب عدالت کے اطراف پولیس اور ایف سی کے 200 اہلکار تعینات ہیں اور عدالت جانے والے غیرضروری راستوں کو بند کرتے ہوئے صرف ایک دروازے سے سائلین کو اندر جانے کی اجازت دی جارہی ہے۔

اسحاق ڈار کی پیشیاں:

وزیرخزانہ اسحاق ڈار آج احتساب عدالت کے روبرو چوتھی مرتبہ پیش ہوئے، اس سے قبل وہ 25 ستمبر، 27 ستمبر اور 4 اکتوبر کو اثاثہ جات ریفرنس کا سامنا کرنے کے لئے پیش ہوئے تھے۔

اسحاق ڈار کے خلاف نیب ریفرنس پر پہلی سماعت 14 اور دوسری 20 ستمبر کو ہوئی اور ان دونوں سماعتوں پر وہ پیش نہیں ہوئے تھے۔ 

 خیال رہے کہ 27 ستمبر کو احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثوں کے نیب ریفرنس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار پر فرد جرم عائد کی تھی تاہم اسحاق ڈار نے صحت جرم سے انکار کردیا تھا۔

سپریم کورٹ کے 28 جولائی کے پاناما کیس فیصلے کی روشنی میں نیب نے وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے خلاف نیب نے آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا ریفرنس دائر کیا ہے۔ 

سپریم کورٹ کی آبزرویشن کے مطابق اسحاق ڈار اور ان کے اہل خانہ کے 831 ملین روپے کے اثاثے ہیں جو مختصر مدت میں 91 گنا بڑھے۔

Advertisement