22 ستمبر ، 2015
کراچی…شوکت پیرزادہ…پاکستان کرکٹ میں یوں تو تنازعات کی ایک طویل تاریخ ہے جن میں 1970کی دہائی میں کیری پیکرز سیریز کھیلنے کے لیے جانے والے کرکٹرز پر پابندی اور 1980 کے عشرے میں جاوید میانداد کی کپتانی کے خلاف بغاوت جیسے تنازعات شامل ہیں۔ تاہم اسپورٹس فکسنگ کاواقعہ جب سامنے آیا تو پوری دنیائے کرکٹ میں ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوااور تین پاکستانی کرکٹرز کے حوالے سے جو معاملات سامنے آئے وہ اب تک زیربحث ہیں۔ ان کھلاڑیوں میں اس وقت کے قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان بٹ،اور دو فاسٹ بولرز محمد آصف اور محمد عامر شامل تھے۔
2010کے دورہ انگلینڈ میں ماہ اگست میں لارڈز میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچ کے دوران یہ کیس سامنے آیاجس کے بعد آئی سی سی اور برطانوی تحقیقاتی اداروں نے ان کرکٹرز کے خلاف تحقیقات شروع کی اور لگ بھگ سواسال کی تحقیقات کے بعدانھیں مذکورہ معاملے میں ملوث قرار دیتے ہوئے مختلف سزاؤں کا فیصلہ سنایا۔ جس میں جیل میں سزا بھگتنے کے علاوہ کرکٹ کھیلنے پر پابندی کی سزابھی شامل تھی۔
سزا اور پابندی کے معاملے میں سب سے کم مدت محمد عامرکی تھی جن پر پانچ برس کے لیے کرکٹ کھیلنے کی پابندی لگائی گئی کیونکہ وہ اس وقت کافی کم عمر اور کرکٹ کے نووارد کھلاڑی تھے جبکہ کپتان سلما ن بٹ پردس برس اور محمد آصف پرسات برس تک کرکٹ کھیلنے کی پابندی لگائی گئی۔تاہم اب ان تینوں کھلاڑیوں نے جیل کے بعد کرکٹ کھیلنے پر عائد پابندی کی مدت بھی پوری کرلی ہے۔
لیکن جب سے ان کی پابندیوں کی مدت ختم ہوئی ہے، تب سے ایک بحث چل نکلی ہے کہ انھیں دوبارہ ملکی اور بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے کی اجازت دی جائے گوکہ یہ ایسی کوئی معیوب بات بھی نہیں کیونکہ انھوں نے اپنی سزائیں پوری کرلی ہیں لیکن کرکٹ سے وابستہ ایک بہت بڑا طبقہ اس حوالے سے بالکل مختلف رائے رکھتا ہے۔اس طبقے میں پاکستان کرکٹ کے لیجنڈ اور سابق کپتان و کوچ جاوید میانداد اور سابق کپتان و سی ای او رمیز راجہ شامل ہیں۔
پاکستان کرکٹ کے ان دونوں بڑوں کا کہنا ہے کہ اگر ان سزا یافتہ کھلاڑیوں کو پھرسے موقع دیا گیا تو اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے لہٰذا اگر ایک مرتبہ پاکستان کرکٹ بورڈ مضبوطی سے اپنے قواعد ضوابط پر عمل کرے اور ایسے کرکٹرز پر تاحیات پابندی لگادے توآئندہ پاکستان اور پاکستان کی کرکٹ کو دنیا میں کوئی بھی تماشا نہیں بناسکے گا۔ دونوں لیجنڈ کرکٹرز کا کہنا ہے کہ ان تینوں کھلاڑیوں کو اب موقع نہیں دینا چاہیے تاکہ دیگر پلیئرز کو یہ پیغام جائے کہ ایسی حرکت کا مطلب کرکٹ سے مکمل کنارہ کشی ہوسکتی ہے۔
رمیز راجہ نے تو حال ہی میں پاکستان سپر لیگ ایونٹ کے لیے جو تجاویز دی ہیں ان میں ایک تجویز یہ بھی ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اسپورٹس فکسنگ میں سزا یافتہ کھلاڑیوں کو اس ایونٹ کا حصہ نہ بنائے۔
یہ نہایت ہی معقول تجویز ہے اس کے نتیجے میں پاکستان سپر لیگ جیسے اہم ایونٹ میں صحت مند مقابلوں کا رجحان پیدا ہوگا اور یہ پاکستان کے کرکٹ کے مستقبل کے لیے نہایت ہی اچھا اقدام ہوگا اس کے نتیجے میں اچھے ٹیلنڈڈ کرکٹرز قومی ٹیم کو دستیاب ہوں گے اور وہ منفی سرگرمیوں سے دور رہ کرملک وقوم کا نام روش کریں گے۔