پاکستان
06 اکتوبر ، 2015

بدعنوان عناصر کے خلاف نیب سے تعاون کرینگے،چیئرمین انٹربورڈ

بدعنوان عناصر کے خلاف نیب سے تعاون کرینگے،چیئرمین انٹربورڈ

کراچی.....سید محمد عسکری..... اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے چیئرمین اختر غوری نے دعویٰ کیا ہے کہ بورڈ میں پوزیشنز بیچی جاتی تھیں جبکہ 24کروڑ روپے سالانہ پر بورڈ کو مافیا کے حوالے کر دیا جاتا تھا، بھرتیوں، تبادلوں و تقرریوں اور انتظامی و مالی مسائل سے متعلق فائلیں غائب کی جا چکی ہیں جبکہ سابق چیئرمین اور موجودہ کنٹرولر کا ریکارڈ تالے توڑ کر نکال لیا گیا ہے، وہ منگل کو اپنے دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔

اس سے قبل بورڈ میں موجود کچھ ملازمین نے احتجاج کیا، چیئرمین بورڈ اور سیکرٹری بورڈ کیخلاف نعرے بھی لگائے جس سے جزوی طور پر دفتری امور متاثر ہوئے تاہم چیئرمین بورڈ کی آمد کے بعد احتجاج ختم ہو گیا۔ چیئرمین بورڈ نے کہاکہ یہ احتجاج بھی مافیا نے کروایا ہے کیونکہ گورنر اور وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر ہم نے بدعنوان اور پوزیشن بیچنے والے عناصر کیخلاف کارروائی شروع کر دی ہے۔

جب میں نے چارج سنبھالا تو بورڈ کی حالت انتہائی خراب تھی، جب میں نے تمام ریکارڈ مانگا اور کرپشن روکنے کی کوشش کی تو میرے خلاف کچھ افراد اور ملازمین نے احتجاج کا پروگرام بنایا۔ انہوں نے بتایا کہ نیب اور اینٹی کرپشن نے سابق دور میں ہونے والی بھرتیوں، ٹھیکوں اور مالی و انتظامی امور سے متعلق ریکارڈ مانگا ہے، ہم ان سے بھرپور تعاون کریں گے۔

بدعنوان عناصر کیخلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے جو آخری کرپٹ افسر و ملازمین کو قانونی گرفت میں لانے تک جاری رہے گی۔ بورڈ میں میرٹ کو ترجیح دینے سے پوزیشن فروخت کرنے والے تنخواہوں تک محدود ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ ادارے کا تقدس ہر صورت مقدم رکھا جائے گا، تمام انتظامی معاملات کو شفاف اور ایمانداری سے یقینی بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں 80 فیصد یا اس سے زائد نمبر حاصل کرنے والے طلبہ انٹری ٹیسٹ میں بھی فیل ہوتے رہے ہیں جس سے بورڈ پر سوالیہ نشان لگتے رہے۔ مجھے تین برسوں کیلئے چیئرمین بورڈ تعینات کیا گیا ہے، میں یقین دلاتا ہوں کہ ان تین برسوں میں میں بورڈ کے تمام معاملات درست کر کے اسے ایک اعلیٰ مثال بنائوں گا۔

اس موقع پر اختر غوری نے ناظمین امتحانات کی جانب سے کئے گئے غیر قانونی تبادلوں کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ آئندہ جو بھی بورڈ میں تبادلے و ترقیاں ہوں گی وہ میرٹ اور چیئرمین کی منظوری سے ہوں گے۔انھوں نے کہا کہ ایک ہفتے کے اند بورڈ میں ڈیپوٹیشن پر تعینات اور ضم کئے گئے افراد کے بارے میں ٖفیصلہ کرلیا جائے گا۔

مزید خبریں :