احسن اقبال کی نصیحت اور قومی المیہ

میاں نواز شریف کی حکومت کے خاتمے تک پاکستان میں ایک ڈالر سو روپے کے لگ بھگ تھا لیکن اس وقت بھی ،عمران خان نواز شریف اور ان کی حکومت کو برا بھلا کہا کرتے تھے پھر عمران خان کی حکومت آئی تو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ڈالر کی قیمت کو180روپے تک پہنچا کر بھی عمران خان اس کا دفاع کرتے رہے ، اور پھرتحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے تک ملک کی معیشت کا بھی تقریباََ خاتمہ ہوچکا تھا۔

وجہ یہ تھی کہ عمران خان نے جہاں ایک طرف عوام سے کیے گئے وعدے پورے نہ کیے وہیں آئی ایم ایف سے کیے گئے وعدے بھی نہ نبھائے، جس کے جواب میں آئی ایم ایف نے پاکستان کو دیئے جانے والے ڈالر روک لیے اور معیشت تباہی کے دلدل میں دھنستی چلی گئی، غرض یہ کہ خان صاحب کی حکومت کے خاتمے کے بعدمیاں شہباز شریف کو حکومت سنبھالتے ہی دن میں تارے نظر آگئے اور اب وہ تارے عوام کو بھی دن اور رات نظر آنا شروع ہوگئے ہیں۔

حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان کی معیشت میں منصوبہ بندی کا شدید فقدان رہا ہے کیونکہ پاکستان کے منصوبہ سازوں نے ملکی درآمدات کو اس قدر بڑھا لیا ہے کہ وہ مجموعی برآمدات جو چھبیس ارب ڈالر ہیں اور اوورسیز پاکستانیوں کی ترسیلات زر جو بتیس ارب ڈالر کو پہنچ چکی ہیں دونوں کے مجموعے یعنی ساٹھ ارب ڈالر سے بھی تجاوز کرچکی ہیں، پھر پاکستان کو دوست ممالک اور عالمی اداروں سے لیا گیا سالانہ20 سے 25 ارب ڈالر کا قرض بھی زرمبادلہ کی شکل میں ادا کرنا ہوتا ہے لہٰذا پاکستان منصوبہ سازوں کی نااہلی کی بدولت ہر گزرتے دن کے ساتھ معاشی تباہی کی طرف جارہا ہے۔

 ایسے میں اگر احسن اقبال جیسے کسی درد مند وزیر نے اپنی قوم کو کوئی ایسی نصیحت کردی جو عموماََ ہر گھر میں والدین اپنے بچوں کو گھریلو حالات دیکھ کر کیاہی کرتے ہیں تو اپوزیشن جماعت کے سوشل میڈیا گینگ نے چائے کی پیالی میں طوفان مچادیا ہے، حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی قوم جو امیر ہونے کے باوجود نا اہل منصوبہ سازوں کی بدولت دنیا کی غریب ترین قوموں میں شمار ہونے لگی ہے ہر سال صرف چائے کی مد میں ساڑھے چھ سو ملین ڈا لر کا قیمتی زرمبادلہ خرچ کرتی ہے۔

 بی بی سی کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستانی قوم کا ہر فرد اوسطاََ سالانہ ایک کلو پتی کی چائے نو ش کرتا ہے یعنی پاکستانی قوم سالانہ 22 کروڑ کلو چائے استعمال کرتی ہے سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ آج تک پاکستانی حکومت نے یہ کوشش ہی نہیں کی کہ پاکستان جیسے زرعی ملک میں چائے کی فصل کاشت کرنے کی کوشش کی جائے اور سالانہ ساڑھے چھ سو ملین ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ بچایا جائے، لہٰذا قوم کی ایک بہت بڑی تعداد وفاقی وزیر احسن اقبال کے چائے کے کم استعمال کے مشورے کی حمایت کرتی ہے نہ صرف چائے بلکہ ایسی جو بھی اشیا پاکستان ڈالر دیکر درآمد کرتا ہے، ان کا استعمال قوم کو ملک کے ساتھ ہمدردی کے طورپر کم کردینا چاہیے۔

قارئین کی معلومات کیلئے عرض ہے کہ پاکستان سالانہ سترہ ارب ڈالر کا پیٹرول درآمد کرتا ہے، چار ارب ڈالر کی ایل این جی درآمد کرتا ہے، پیٹرول اور ایل این جی کااستعمال بھی قوم کو آدھا کردینا چاہیے، ہو سکے تو ایک دن چھوڑ کر پیٹرول اور سی این جی ڈلوائی جائے، حکومت کو باقاعد ہ ایک مہم چلانی چاہیے جس میں عوام میں درآمدی اشیا کے حوالے سے شعور بیدار کیا جانا چاہیے۔ اس موقع پر اپوزیشن جماعت کا سوشل میڈیا سیل احسن اقبال کے چائے کے کم استعمال کے مشورے پر مہم چلانے میں مصروف ہے، صورتحال اور معیشت کا تقاضا تو یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کا میڈیا سیل پاکستان کی ڈوبتی معیشت کی حقیقی تصویر عوام کے سامنے پیش کرے اور ان سے درخواست کرے کہ زرمبادلہ کے بہائو کو روکنے کیلئے درآمدی اشیا کازیادہ سے زیادہ بائیکاٹ کیا جائے۔

 اس وقت جاپان میں بھی مہنگائی عروج پر ہے یہاں بھی عوام کوبجلی کے کم استعمال کی ترغیب سرکاری سطح پر دی جارہی ہے جبکہ اس بات پر کوئی اپوزیشن جماعت حکومت کا مذاق نہیں اڑا رہی، لہٰذا حکومت اور اپوزیشن سے درخواست ہے کہ دونوں مل کر ملک کی معیشت کو تباہ ہونے سے بچائیں، ملک کو خود کفالت کی راہ پر ڈالیں تاکہ نہ صرف زرمبادلہ بچ سکے بلکہ ملک کی اندرونی معیشت میں بھی بہتری آسکے اور غریب آدمی کے حالات بہتر ہوں۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM