رات کو نیند نہ آنے سے پریشان رہتے ہیں؟ تو اس کی وجہ یہ 5 عام طبی مسائل ہو سکتے ہیں

یہ ایک بہت عام مسئلہ ہے / فائل فوٹو
یہ ایک بہت عام مسئلہ ہے / فائل فوٹو

معروف شاعر مرزا غالب نے کہا تھا کہ ' موت کا ایک دن معین ہے، نیند کیوں رات بھر نہیں آتی'۔

بے خوابی ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا سامنا دنیا بھر میں کروڑوں افراد کو ہوتا ہے جس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں اور اکثر افراد کی نیند چند دن بعد ٹھیک ہو جاتی ہے۔

تاہم اگر بے خوابی کا سامنا مسلسل ہو اور معیار زندگی متاثر ہو تو اس پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

اگر نیند کی کمی کا مسئلہ دائمی شکل اختیار کرلے تو موٹاپے، امراض قلب اور ڈپریشن جیسے امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔

کئی بار  ہمارے جسم کے اندر چھپی کوئی بیماری یا ہماری عام عادت راتوں کو جگائے رکھنے کا باعث بنتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر آپ کے لیے سونا مشکل ثابت ہو رہا ہو یا آدھی رات کو جاگ جاتے ہیں یا صبح اٹھنے پر بھی تھکاوٹ طاری ہوتی ہے تو ہوسکتا ہے کہ آپ کسی بیماری کے شکار ہوں جس کا علم نہ ہو۔

ایسے ہی عام طبی مسائل کے بارے میں جانیں جو اکثر نیند اڑانے کا باعث بنتے ہیں۔

آپ کی غذا

ناقص غذائی عادات نیند کو متعدد وجوہات کے باعث متاثر کرتی ہیں۔

اگر آپ غذا میں پروٹین، چکنائی اور کاربوہائیڈریٹس کے توازن کا خیال نہیں رکھتے تو بلڈ شوگر کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے اور ایسا ہونے پر بے خوابی کا مسئلہ عام ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق بلڈ شوگر کی سطح بڑھانے والی غذائیں جیسے چینی کا استعمال کم کرکے نیند کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

پراسیس غذاؤں کے استعمال میں کمی لانے سے بھی نیند کا معیار بہتر ہوتا ہے۔

کچھ مخصوص وٹامنز اور منرلز اچھی نیند کے لیے ضروری ہوتے ہیں اور ان کی کمی سے بھی بے خوابی کے مسئلے کا سامنا ہوتا ہے۔

وٹامن بی کو نیند کے معیار سے منسلک کیا جاتا ہے، اسی طرح میگنیشم، زنک اور دیگر غذائی اجزا کی کمی بھی نیند کو متاثر کرتی ہے۔

ماہرین نے بتایا کہ ایک اور عام غلطی سونے سے کچھ دیر قبل کھانے کی ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سونے کے وقت سے ایک یا 2 گھنٹے قبل کچھ کھانے سے گریز کریں۔

ہارمونز کا عدم توازن یا تھائی رائیڈ مسائل

ہارمونز جسم کے اندر قاصد کی طرح ہوتے ہیں جو صحت کے بارے میں کافی کچھ بتاتے ہیں۔

ہارمونز کا توازن بگڑنے یا تھائی رائیڈ مسائل سے بھی نیند متاثر ہوتی ہے۔

جسمانی گھڑی متاثر ہونا

بیشتر افراد جانتے ہیں کہ ٹیکنالوجی ہماری نیند کو متاثر کرتی ہے اور اس حوالے سے ڈیوائسز کی نیلی روشنی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

جسمانی یا حیاتیاتی گھڑی نیند اور جاگنے کے اوقات کو ریگولیٹ کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے، جب کسی فرد کا سونے کا وقت طے نہ ہو یا سونے سے قبل یا پورے دن نیلی روشنی کی زد میں رہا ہو تو بے خوابی کا سامنا ہوتا ہے۔

سونے سے ایک یا 2 گھنٹے قبل اسمارٹ فونز کو خود دور کر دیں تاکہ اچھی نیند کو یقینی بنا سکیں۔

سلیپ اپنیا (sleep apnea)

سلیپ اپنیا کے شکار افراد کی سانس نیند کے دوران بار بار رکتی ہے جس سے خراٹوں کے ساتھ ساتھ متعدد طبی پیچیدگیوں کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔

سلیپ اپنیا کے نتیجے میں رات میں جسم کو آکسیجن کی کمی کا سامنا ہوتا ہے اور نیند متاثر ہوتی ہے۔

تمباکو نوشی یا الکحل کا استعمال کرنے والے، موٹاپے یا ذیابیطس کے شکار افراد میں سلیپ اپنیا کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

انزائٹی اور تناؤ

پرتناؤ دن رات کو جگائے رکھنے کا باعث بن سکتا ہے اور اگر ایسا اکثر ہونے لگے تو یہ نیند کے دائمی مسائل کا باعث بن جاتا ہے۔

ویسے تو ہر فرد کو ہی کسی نہ کسی وجہ سے تناؤ کا سامنا ہوتا ہے، تاہم اگر اس کی روک تھام نہ کی جائے تو جسم دائمی تناؤ کی حالت میں چلا جاتا ہے۔

اس کے نتیجے میں نیند متاثر ہوتی ہے اور دیگر امراض کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔

سونے سے قبل مطالعہ یا کچھ لکھنے جیسی سرگرمیوں سے نیند کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع تفصیلات پر مبنی ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ کریں۔