Time 21 اپریل ، 2023
صحت و سائنس

ڈپریشن سے نجات دلانے کے لیے بہترین غذائیں

ڈپریشن موجودہ عہد میں تیزی سے پھیلنے والا مرض ہے / فائل فوٹو
ڈپریشن موجودہ عہد میں تیزی سے پھیلنے والا مرض ہے / فائل فوٹو

ڈپریشن وہ ذہنی مرض ہے جو موجودہ عہد میں بہت تیزی سے پھیل رہا ہے اور یہ لوگوں کی زندگی بدلنے کا باعث بنتا ہے۔

ڈپریشن ایک پیچیدہ ذہنی مرض ہے جس کے شکار افراد اکثر اداس رہتے ہیں جبکہ ہر وقت بے بسی کا احساس بھی ہو سکتا ہے۔

ہر فرد کو ہی زندگی میں کبھی نہ کبھی اداسی یا صدمے کے باعث ڈپریشن کی علامات کا سامنا ہوتا ہے۔

ڈپریشن محض 'دماغ' تک محدود رہنے والا مرض نہیں بلکہ اس کے نتیجے میں جسم بھی متاثر ہوتا ہے۔

مگر کچھ غذائیں اس کی علامات کی شدت میں کمی لانے میں مدد فراہم کر سکتی ہیں۔

غذا اور ڈپریشن کے درمیان تعلق

2017 کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ صحت کے لیے مفید غذا کے استعمال سے ڈپریشن کے شکار افراد میں بیماری کی علامات کی شدت میں کمی آتی ہے۔

اس مقصد کے لیے غذائی اجزا سے بھرپور غذاؤں کا زیادہ جبکہ جنک فوڈ اور میٹھے کا کم از کم استعمال کرنا چاہیے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ڈپریشن کے شکار افراد اپنی غذا سے اس بیماری کی علامات کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔

سیلینیم سے بھرپور غذائیں

کچھ تحقیقی رپورٹس کے مطابق غذا میں سیلینیم کا استعمال بڑھانے سے مزاج پر خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں جبکہ انزائٹی کی شدت میں کمی آتی ہے۔

یہ جز سالم اناج، سی فوڈ اور کلیجی میں پایا جاتا ہے جبکہ اس کے سپلیمنٹس بھی دستیاب ہیں۔

وٹامن ڈی

2019 کی ایک تحقیق کے مطابق وٹامن ڈی سے بھی ڈپریشن کی علامات کی شدت میں کمی آتی ہے۔

وٹامن ڈی مچھلی، کلیجی، انڈوں اور دودھ جیسی غذاؤں سے حاصل کیا جا سکتا ہے جبکہ دھوپ میں گھومنے سے بھی اس کا حصول ممکن ہے۔

اومیگا 3 فیٹی ایسڈز

تحقیقی رپورٹس میں عندیہ دیا گیا کہ اومیگا 3 فیٹی ایسڈز کے استعمال سے ڈپریشن کی شدت میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔

یہ غذائی جز مچھلی اور اخروٹ میں پایا جاتا ہے۔

اینٹی آکسائیڈنٹس

اینٹی آکسائیڈنٹس جسم میں گردش کرنے والے اس مضر مواد کو خارج کرتے ہیں جو قدرتی طور پر بنتا رہتا ہے۔

اگر جسم سے اس مواد کا اخراج نہ ہو تو تکسیدی تناؤ بنتا ہے جس کے نتیجے میں ڈپریشن اور انزائٹی سمیت متعدد امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔

پھلوں، سبزیوں اور گریوں پر مشتمل غذا میں اینٹی آکسائیڈنٹس کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے اور اس سے ڈپریشن کی علامات سے نجات بھی ملتی ہے۔

بی وٹامنز

وٹامن بی 12 اور بی 9 (فولک ایسڈ) اعصابی نظام بشمول دماغ کو تحفظ فراہم کرتے ہیں اور مختلف امراض جیسے ڈپریشن سے متاثر ہونے کا خطرہ کم کرتے ہیں۔

وٹامن بی 12 کا حصول انڈوں، گوشت، چکن، مچھلی اور دودھ کے استعمال سے ممکن ہے۔

اسی طرح فولک ایسڈ کے حصول کے لیے سبز پتوں والی سبزیاں، پھل یا ان کے جوس، گریاں، پھلیاں، دودھ سے بنی مصنوعات، انڈے، سی فوڈ اور سالم اناج کا استعمال کرنا چاہیے۔

زنک

غذا میں زنک کی مقدار بڑھانے سے مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے اور ڈپریشن کی علامات کی شدت میں بھی کمی آتی ہے۔

کچھ تحقیقی رپورٹس کے مطابق ڈپریشن کے شکار افراد کے جسم میں زنک کی سطح کم ہوتی ہے۔

یہ غذائی جز گائے اور چکن کے گوشت، پھلیوں اور گریوں میں کافی مقدار میں موجود ہوتا ہے۔

پروٹین

پروٹین جسمانی مسلز کے لیے اہم غذائی جز ہے اور یہ لوگوں کو ڈپریشن سے لڑنے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے۔

ہمارا جسم ایک پروٹین tryptophan کو استعمال کرکے ایک ہارمون سیروٹونین بناتا ہے جو ہمارے مزاج کو خوشگوار بناتا ہے۔

tryptophan پروٹین مچھلی اور چنوں میں پایا جاتا ہے۔

پرو بائیوٹیکس

کچھ غذائیں جیسے دہی کے استعمال سے معدے میں موجود صحت کے لیے مفید بیکٹریا کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے۔

تحقیقی رپورٹس کے مطابق ایسے بیکٹریا کی تعداد بڑھنے سے ڈپریشن سے متاثر ہونے کا خطرہ کم ہوتا ہے یا ڈپریشن کے شکار ہونے پر علامات کی شدت میں کمی آتی ہے۔

نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع تفصیلات پر مبنی ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ کریں۔

مزید خبریں :