Time 05 جون ، 2024
صحت و سائنس

جسم پر مرتب ہونے والے حیرت انگیز اثرات جو آم کو پھلوں کا بادشاہ بناتے ہیں

آم کو پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے / فائل فوٹو
آم کو پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے / فائل فوٹو

موسم گرما کے ساتھ ہی بازاروں میں آموں کا ڈھیر لگ جاتا ہے جن کو دیکھ کر ہی منہ میں پانی بھر جاتا ہے۔

آم کو پھلوں کا بادشاہ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس کا ذائقہ ایسا ہوتا ہے کہ جتنا بھی کھا لیں دل نہیں بھرتا۔

مگر کیا اس پھل کو کھانے سے صحت کو بھی کوئی فائدہ ہوتا ہے یا نہیں؟

اس کا جواب یہ ہے کہ آموں کا ذائقہ ہی بہترین نہیں ہوتا بلکہ یہ پھل صحت کے لیے بھی بہت زیادہ مفید ثابت ہوتا ہے۔

آم سے صحت کو ہونے والے فوائد اس پھل کو کھانے کا مزہ دوبالا کر دیں گے۔

غذائی اجزا سے بھرپور

ایک آم سے جسم کو پروٹین، کاربوہائیڈریٹس، فائبر، قدرتی مٹھاس، وٹامن سی، وٹامن بی 6، وٹامن اے، وٹامن ای، وٹامن K، کاپر، فولیٹ، پوٹاشیم، میگنیشم اور ریبوفلوین جیسے اجزا ملتے ہیں۔

آم میں موجود وٹامن سی مدافعتی نظام کو طاقتور بناتا ہے جبکہ جسم کو آئرن جذب کرنے میں مدد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ خلیات کی صحت کو بہتر بناتا ہے۔

کیلوریز کی مقدار کم ہوتی ہے

اس پھل کا ایک اور فائدہ کیلوریز کی مقدار کم ہونا ہے۔

165 گرام آم میں 99 کیلوریز ہوتی ہیں اور ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کھانے کے آغاز میں آم جیسے پھل کھانے سے بسیار خوری کی روک تھام میں مدد ملتی ہے۔

ذیابیطس سے بچانے کے لیے مفید

سننے میں تو عجیب لگتا ہے کہ بہت زیادہ میٹھا ہونے کے باوجود آم کھانا ذیابیطس کا مریض بننے سے بچاتا ہے۔

مگر حقیقت تو یہ ہے کہ اعتدال میں رہ کر اس پھل کو کھانا ذیابیطس کے مریضوں کے لیے نقصان دہ نہیں ہوتا (البتہ ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں)۔

درحقیقت متعدد تحقیقی رپورٹس میں تازہ پھلوں کو کھانے کی عادت اور ذیابیطس کے خطرے میں کمی کے درمیان تعلق دریافت کیا گیا ہے۔

ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ روزانہ کچھ مقدار میں آم کھانے سے بلڈ شوگر کی سطح میں نمایاں کمی آتی ہے۔

ایک اور تحقیق میں بتایا گیا کہ وٹامن سی اور کیروٹین سے بھرپور پھلوں اور سبزیوں کو کھانے سے ذیابیطس کے شکار ہونے سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔

آم میں ان دونوں اجزا کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے تو ممکنہ طور پر ذیابیطس سے تحفظ ملتا ہے۔

مگر جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ اعتدال میں رہ کر کھانا ضروری ہے اور بہت زیادہ کھانے سے بلڈ شوگر کی سطح میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

صحت کے لیے مفید مرکبات کا حصول

آموں میں پولی فینولز نامی نباتاتی مرکبات موجود ہوتے ہیں جو جسم میں اینٹی آکسائیڈنٹس کے طور پر کام کرتے ہیں۔

اینٹی آکسائیڈنٹ سے خلیات کو جسم میں گردش کرنے والے مضر مواد سے تحفظ ملتا ہے۔

یہ مضر مواد خلیات کو نقصان پہنچا کر متعدد دائمی امراض کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

مدافعتی نظام مضبوط بنائے

یہ پھل مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے والے اجزا کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے۔

اس میں وٹامن اے موجود ہوتا ہے جو مضبوط مدافعتی نظام کے لیے اہم ہوتا ہے، اس وٹامن کی کمی سے مختلف بیماریوں کا خطرہ بڑھتا ہے۔

اسی طرح آموں میں موجود وٹامن سی امراض سے لڑنے والے خون کے سفید خلیات کی تعداد کو بڑھاتا ہے جبکہ خلیات کو مؤثر انداز سے کام کرنے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے۔

اس میں موجود دیگر اجزا جیسے کاپر، فولیٹ، وٹامن ای اور بی وٹامنز کی مختلف اقسام سے بھی مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے۔

دل کی صحت بہتر بنائے

آموں میں موجود میگنیشم اور پوٹاشیم سے خون کی روانی کا نظام مستحکم رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

ان اجزا سے خون کی شریانیں کشادہ ہوتی ہیں اور بلڈ پریشر کی سطح گھٹ جاتی ہے۔

اس پھل میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس بھی دل کی صحت کے لیے مفید ہوتے ہیں جو کولیسٹرول اور چکنائی کی سطح میں کمی لاتے ہیں۔

نظام ہاضمہ کے لیے مفید

یہ پھل نظام ہاضمہ کے لیے بھی بہترین ہوتا ہے۔

اس کو کھانے سے جسم کے لیے مختلف اجزا کو آسانی سے جذب کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔

آموں میں موجود amylases نامی غذائی جز کاربوہائیڈریٹس کو شکر میں بدل دیتا ہے جس سے جسم کو توانائی ملتی ہے۔

اسی طرح آموں میں پانی اور غذائی فائبر کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جس سے قبض اور ہیضے جیسے مسائل سے ریلیف ملتا ہے۔

بینائی کے لیے بھی فائدہ مند

آموں میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس سے بینائی کو فائدہ ہوتا ہے۔

یہ اینٹی آکسائیڈنٹس روشنی کو جذب کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں اور سورج کی شعاعوں اور نقصان دہ نیلی روشنی سے آنکھوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

اس پھل میں موجود وٹامن اے بھی بینائی کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔

وٹامن اے کی کمی سے بینائی کے مختلف مسائل کا خطرہ بڑھتا ہے۔

کینسر کی مخصوص اقسام کا خطرہ کم ہوتا ہے

آموں میں پولی فینولز کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے اور یہ نباتاتی مرکبات کینسر سے بچانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

پولی فینولز تکسیدی تناؤ سے تحفظ فراہم کرتے ہیں اور تکسیدی تناؤ کو کینسر کی متعدد اقسام کا باعث مانا جاتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع تفصیلات پر مبنی ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ کریں۔