31 مارچ ، 2025
کراچی: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ غزہ میں ظلم و ستم کا بازار گرم ہے، مظلوم فلسطینیوں کو ہماری مدد کی ضرورت ہے۔
عیدگاہ گراؤنڈ میں مفتی تقی عثمانی کی قیادت میں نماز عید کا اجتماع ہوا جس میں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے بھی نماز ادا کی۔
نماز عید کی ادائیگی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا اس وقت ملک مشکل حالات میں ہے، ملک میں سیاسی بحران ہے۔
فلسطین کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا اس وقت غزہ میں ظلم و ستم کا بازار گرم ہے، مظلوم فلسطینیوں کو ہماری مدد کی ضرورت ہے، سب مسلمانوں کو فلسطینی مسلمانوں کی مدد کرنی چاہیے۔
حافظ نعیم نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے فلسطینی ملبے کے ڈھیر پر رہنے پر مجبور ہیں، صیہونیوں نے معاہدے کی خلاف ورزی کرکے ہزاروں سال کی تاریخ دہرائی، وہ وقت دور نہیں جب اسرائیل پر اللہ کا عذاب آئے گا، اسرائیل کے ساتھ ہر اس ملک پربھی عذاب آئے گا جو اس کی پشتیبانی کررہے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے یہ بھی کہا کہ امت مسلمہ کے حکمرانوں کے پاس سب کچھ ہے لیکن غیرت و حمیت نہیں، اسرائیل کو بم اوربارود فراہم کرنے میں امریکا کا ہاتھ ہے، حکومت اور اپوزیشن امریکا کی مذمت کے بجائے تعلقات بڑھانےکی کوشش کر رہے ہیں، عید الفطر کے موقع پر پوری امت فلسطین کے ساتھ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دو صوبوں بلوچستان اورخیبرپختونخوا کے حالات خراب ہیں، حکومت کی طرف سے کوئی قدم نہیں اٹھایا جارہا جس سے یکجائی پیدا ہو، جب اپنے ہی لوگوں کو محروم کریں گے تو لوگوں میں غم و غصہ پیدا ہوتا ہے، لوگوں کو لاپتا کیا جاتا ہے ان پر بمباری کی جاتی ہے جو درست نہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا کہ ملک کے حالات ٹھیک کرنے کا راستہ گریٹر ڈائیلاگ ہے، عید کے بعد امن وامان، بجلی بلوں،چینی، آٹا مافیا کےخلاف تحریک شروع کریں گے، جماعت اسلامی کی جانب سے تمام صوبوں میں ریلیاں نکالی جائیں گی، عوام کی مرضی کے بغیر فارم 47 کے لوگوں کو مسلط کیا گیا ہے، اگرچاہتے ہیں دوریاں ختم ہو تو سب کو اپنی آئینی حدود میں جانا پڑےگا۔