پاکستان
18 جولائی ، 2014

کینیڈا کے ہفت روزہ سے جنگ گروپ کا کوئی تعلق نہیں،انتظامیہ

کینیڈا کے ہفت روزہ سے جنگ گروپ کا کوئی تعلق نہیں،پروپیگنڈے سے گریز کیا جائے
جنگ کا نام استعمال کرنے پر قانونی کارروائی کی جارہی ہے،انتظامیہ
کراچی (جنگ نیوز)کینیڈا سے نکلنے والے ہفت روزہ ’’ جنگ کینیڈا‘‘ اور اس میں شائع ہونے والی خبروں کا جنگ گروپ سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ مذکورہ ہفت روزہ نے پاکستان کو اسرائیل سے زیادہ شدت پسند اور حماس کو فلسطینیوں کی اصل قاتل قرار دیتے ہوئے جو خبر شائع کی اسے بنیاد بنا کر سوشل میڈیا پر جنگ گروپ کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کر دیا گیاہے۔جس پر جنگ گروپ کی انتظامیہ واضح طور پر تردید کرتی ہے کہ جنگ کینیڈا سے اس کا کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ۔مذکورہ ہفت روزہ مسی ساگا،کنیڈا میں مقیم صحافی مرزا یاسین بیگ شائع کرتاہے جس کا جنگ گروپ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔جنگ گروپ اپنے نام کے غلط استعمال پر مذکورہ ہفت روزہ اور اس کے مالک کے خلاف ٹریڈ مارک وکلاء کے ذریعے قانونی چارہ جوئی کر رہا ہے۔ جنگ گروپ پاکستان کا سب سے بڑا اور ذمہ دار میڈیا گروپ ہے اور ہمیشہ فلسطینیوں کی آزادی کا علمبردار رہا ہے اور اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتا ہے۔لہٰذا جنگ کینیڈا میں شائع ہونے والی خبروں کو بنیاد بنا کر جنگ گروپ کے خلاف پروپیگنڈے سے اجتناب کیا جائے۔جنگ گروپ اس بارے میں قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔کافی عرصے سے جنگ گروپ کے خلاف مختلف مفروضوں کی بنیاد پرمسلسل منفی اور زہریلا پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے۔مخصوص عناصر اس کام پر مامور کیے گئے ہیں جو تواترکے ساتھ جنگ، جیو گروپ کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈے میں مصروف ہیں۔کبھی ہمیں امریکا نواز کہا جاتا ہے ، کبھی اسرائیل نواز اور کبھی ’’را‘‘ سے تعلق جوڑا جاتا ہے اور کبھی ہندوستان ٹائمز میں شائع ہونے والی خبر ہم سے منسوب کر دی جاتی ہے۔اور کبھی ہمارے خلاف مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے اور اب یہی عناصرکسی ہفت روزہ ’’جنگ کینیڈا ‘‘ میں ، جس سے جنگ گروپ کا قطعاً کوئی تعلق نہیں،شائع ہونے والی ایک خبر کو بنیاد بنا کر جنگ گروپ کے خلاف پروپیگنڈہ کر رہے ہیں۔

مزید خبریں :