28 مئی ، 2012
اسلام آباد … پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی 31 مئی سے لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے سفارشات مرتب کرنا شروع کرے گی۔ کمیٹی چیئرمین سینیٹر رضا ربانی نے کہا ہے کہ لاپتہ افراد اور مسخ شدہ لاشوں کی وجہ سے آغاز حقوق بلوچستان پیکیج موٴثر نہیں ہوسکا۔ قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس سینیٹر رضا ربانی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوٴس میں ہوا، کمیٹی لاپتہ افراد کی بازیابی کے حوالے سے اپنی سفارشات مرتب کرنے کا عمل شروع نہ کرسکی۔ اجلاس کے بعد سینیٹر رضا ربانی نے میڈیا کو بتایا کہ ابھی کمیٹی اراکین کی جانب سے سفارشات ملنے کا عمل جاری ہے جو مکمل ہونے کے بعد کمیٹی سفارشات مرتب کرنا شروع کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ 31 مئی کو وزارت داخلہ کمیٹی کو انسداد دہشت گردی بل، قومی انسداد دہشت گردی اتھارٹی (نیکٹا) کی موجودہ صورتحال اور پاٹا،فاٹا ریگولیشن پر عملدرآمد کے بارے میں بریفنگ دے گی۔ رضا ربانی نے کہا کہ ڈرون حملوں کے خلاف اب عالمی رائے عامہ سخت ہوتی جا رہی ہے، بلوچستان میں لاپتہ افراد اور مسخ شدہ لاشوں کا سلسلہ بند ہونا چاہئے، بلوچستان کے مسئلے کا حل ڈائیلاگ، قانون کی حکمرانی اور خود مختاری میں ہے۔