09 نومبر ، 2016
شریر طالب علم، بہترین کھلاڑی، کامیاب ٹی وی میزبان، بزنس مین، مصنف اور اب امریکی صدر، ڈونلد ٹرمپ کی زندگی کے ستر سال کامیابیوں اور ناکامیوں سے بھرا ایک طویل سفر ہے ۔
ٹرمپ 13 سال کے تھے تو کمرے سے چاقو ملا ، والد کو تشویش ہوئی تو فوجی اسکول میں داخل کروا دیا۔ڈونلڈ جان ٹرمپ اسکول میں بیس بال ٹیم کے کامیاب کپتان رہے ۔ 14 جون 1946 کو پیدا ہونے والے ٹرمپ نے 1971 میں والد سے رقم لے کر نیویارک میں ہوٹل خریدا ،1982 میں مین ہیٹن میں 28 منزلہ ٹرمپ ٹاور تعمیر کیا۔
ٹرمپ نے 1987 میں کامیاب کاروباری تجربات پر مبنی کتاب ’آرٹ آف دی ڈیل‘ لکھی اور لاکھوں ڈالرز اور شہرت کمائی،جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 1989 میں ریلیز ہونے ولی فلم ’بیک ٹو دی فیوچر ٹو‘ میں ولن کا کردار ٹرمپ کو مدنظر رکھ کر تخلیق کیا گیا۔
پیسوں کی ریل پیل ہوئی تو ٹرمپ ائیر لائن شروع کر دی اور پھر ’ٹرمپ پرنسیس‘ کے نام بڑی کشتی خرید لی۔ 1990کی کساد بازاری نے ان کے کاروبار کو نقصان پہنچایا اور ان کے کچھ ادارے دیوالیہ ہو گئے، ٹرمپ نے ہمت نہ ہاری، ائیر لائن اورکشی بیچ دی اور انٹرٹینمنٹ کی دنیا میں قدم رکھ دیا ۔
انہوں نے مس یونیورس کی فرنچائز خریدلی، ناکامیوں پر بھی کتاب لکھ ڈالی اور اس دوسری کتاب ’ آرٹ آف دی کم بیک‘ 'سے بھی خاصا پیسہ کمایا۔ سن 2000 میں '’دی اپیرنٹس‘ کے نام سے ٹی وی شو شروع کیا جو انتہائی کامیاب رہا۔ نوجوانوں کو کاروبار کے گر سکھانے کے لئے ٹرمپ یونیورسٹی بھی بنائی۔
ٹرمپ نے 1987 سے سیاسی سفر کا آغاز ری پبلکن پارٹی سے کیا،1999 تک اسی جماعت کے ساتھ رہے، 2001 سے 2009 تک ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ رہے جبکہ 2012 میں ایک بار پھر ری پبلکنز کا حصہ بن گئے۔ کامیابیوں سے فائدہ اٹھاتے اور ناکامیوں سے لڑتے ڈونلڈ جان ٹرمپ اب دنیا کے سب سے بڑے سمجھے جانے والے عہدے اوراس سے جڑے امتحان تک جاپہنچے ہیں۔