27 جنوری ، 2017
آصف بشیر چوہدری ... وزیر اعظم کے صاحبزادوں حسین نواز اور حسن نواز نے لندن فلیٹس کی منی ٹریل سپریم کورٹ میں جمع کروا دی، دونوں بھائیوں نے اپنے اور بہن کے خلاف لگائے جانے والے الزامات کے تفصیلی جوابات اور متعلقہ دستاویزات بھی فراہم کر دی ہیں۔
جواب میں دبئی فیکٹری کی 1980ء میں فروخت، سعودی عرب میں عزیزیہ اسٹیل مل کی خریدو فروخت، میاں شریف کی التھانی فیملی کے ساتھ سرمایہ کاری کی سیٹلمنٹ، حدیبیہ پیپر ملزکی آڈیٹر رپورٹس، التوفیق ٹرسٹ کا قرضہ، نیسکول، نیلسن کمپنیوں کا کنٹرول سنبھالنے کی دستاویزات، ٹرسٹی سروسز کارپوریشن کی خدمات حاصل کرنے کے خط کی کاپی تاریخوں سمیت جمع کرا دی گئیں، قطری شہزادے کا دوسرا خط اورطارق شفیع کا بیان حلفی بھی منی ٹریل تفصیلات کا حصہ ہیں۔
وزیر اعظم کے صاحبزادوں حسن نواز اور حسین نواز کے جواب میں بتایا گیا ہے کہ حسین نواز نے 1996ء میں لندن میں اپنی تعلیم مکمل کی اور 1996ء سے 12 اکتوبر 99 ءتک وہ اپنے دادا کے ہمراہ خاندان کے کاروبار کے معاملات دیکھتے رہے۔
میاں محمد شریف جنہوں نے 1936ء میں لاہور میں اسٹیل کا ابتدائی کاروبار شروع کیا، بعد میں اتفاق فاؤنڈری کے نام سے پاکستان کی سب سے بڑی اسٹیل کی فیکٹری بنی، جسے بعد میں اتفاق گروپ کے نام سے جانا گیا ۔
اتفاق فاؤنڈری کی مشرقی پاکستان کے شہر ڈھاکا میں بھی اسٹیل مل تھی جو سقوط ڈھاکا کے بعد مشرقی پاکستان میں رہ گئی جبکہ دو ہفتے بعد لاہور میں اتفاق فاؤنڈری کو حکومت نے قومیا لیا، 1973 ءمیں میاں محمد شریف نے دبئی میں ایک اسٹیل مل شروع کی، مل کا نام گلف اسٹیل رکھا گیا، جسے بعد میں بیچ دیا گیا،مل دبئی حکومت کے تعاون اور بینک کے قرضے سے بنائی گئی،1979ء میں اتفاق فاؤنڈری کو ڈی نیشنلائیز کر کے مل شریف فیملی کو واپس کر دی گئی، 1989ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے گروپ پر کمرشل بینکوں کے ذریعے مالی پابندیاں عائد کیں اور بیرون ملک سے آنے والے 30 ہزار ٹن اسکریپ کو کراچی میں روک لیا جس کے بعد کمپنی کو شدید مالی خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔
سال 1990ء تک یہ کاروبار مشترکہ طور پر جاری رہا، 1990ء میں میاں محمد شریف نے رضاکارانہ طور پر 7 خاندانوں میں اثاثوں کو تقسیم کر دیا، صرف اسٹیل مل واحد مشترکہ اثاثہ رہی، جبکہ شوگر، ٹیکسٹائل اور دیگر ملیں تقسیم کر دی گئیں، 1990ء تا 93ء شریف فیملی نے حدیبیہ پیپرز ملز، چوہدری شوگر ملز، حدیبیہ انجینئرنگ، مہران رمضان ٹیکسٹائل ملز اور ایک اسپتال اور تعلیمی ادارے قائم کیے۔
سال1994ء سے 1996ءتک جب پیپلز پارٹی دوبارہ آئی تو گروپ کو دوبار ہ مالی مسائل کی جانب دھکیل دیا گیا اور دوبارہ اتفاق فاؤنڈریز، اتفاق برادرز اور برادرز اسٹیل ملز بند ہو گئیں، بعد میں ان ملز کے اثاثوں کو بیچ کر بینکوں کو 5 ارب 76 کروڑ روپے کے قرضے ادا کیے گئے اور سود میں بھی کسی قسم کی چھوٹ نہیں دی گئی۔
سال1999ء میں ایک فوجی آمر نے مارشل لاء لگا دیا، 14ماہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد خاندان کو جلا وطن کر دیا گیا ،تمام ریاستی ادارے شریف فیملی کے خلاف کرپشن کا ایک کیس بھی ثابت نہ کر سکے، حسن نواز نے 2001ء میں لندن میں پراپرٹی کا کاروبار شروع کیا، 2001ء میں مکہ میں میاں محمد شریف نے ایک اسٹیل مل لگائی جسے 2006ء میں اس کمپنی کو التوفیق گروپ نے خرید لیا۔
جواب میں بتایا گیا ہے کہ 12 اکتوبر 1999ءکو ہونے والی فوجی بغاوت میں شریف خاندان کی تمام کاروباری دستاویزات کو تحویل میں لے لیا گیا،جس کو بعد میں کبھی واپس نہیں دیا گیا، اس حوالے سے شریف فیملی کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ میں کئی درخواستیں بھی دائر کی گئیں، تاہم یہ دستاویزات واپس نہیں لوٹائی گئیں۔
شریف فیملی 26 نومبر 2007 ءتک سعودی شاہی خاندان کی مہمان رہی جہاں حسین نواز نے دادا کے ہمراہ اسٹیل مل لگائی، حسین نواز آج تک سعودی عرب کے رہائشی ہیں، مل کے لیے زیادہ ترمشینری دبئی سے خریدی گئی، گلف اسٹیل کی زیادہ تر مشینری کو العزیزیہ اسٹیل ملز میں استعمال کر لیا گیا، 29 اکتوبر 2004 ءکو میاں محمد شریف انتقال کر گئے، میاں محمد شریف نے اپنی زندگی میں حسین نواز کو بتایا کہ دبئی اسٹیل ملز سے حاصل ہونے والی رقم میں سے 12 ملین درہم مرحوم شیخ جاسم بن جابر التھانی کے ساتھ سرمایہ کاری میں لگا دیے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ شیخ جاسم کو کہا ہے کہ حسین نواز اس رقم کے وارث تصور ہوں گے، مرتے دم تک میاں شریف التھانی فیملی کے ساتھ رابطے میں رہے، بعد میں ان کے بیٹے شیخ حماد بن جاسم جو قطر کے وزیر خارجہ تھے کے ساتھ رابطے میں رہے۔
فوجی بغاوت کے بعد شیخ حماد پہلے غیر ملکی شخصیت تھے جو پاکستان کے دورے پر آئے، انہوں نے جنرل پرویز مشرف سے ملاقات میں کہا کہ شریف خاندان کے ساتھ قانون کے مطابق پیش آئیں۔
طارق شفیع نے بیان حلفی دیا ہے کہ میاں محمد شریف نے دبئی میں شیخ فہد بن جاسم کو 12 ملین درہم ان کی موجودگی میں ادا کیے۔
حماد بن جاسم نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ والد نے بتایا تھا کہ انہیں میاں محمد شریف نے 12 ملین ڈالر دیے ہیں، جواب میں بتایا گیا ہے کہ 2001 ءسے 2003 ءکے درمیان میاں محمد شریف نے 54 لاکھ امریکی ڈالرز عزیزیہ اسٹیل ملز میں سرمایہ کاری کرنے کیلئے التھانی فیملی سے حاصل کیے،اس حقیقت کا اعتراف شیخ حماد بن جاسم کے نمائندے ناصر خامص نے 2005ء میں اپنے بیان میں بھی کیا ہے۔
سعودی حکومت نے اسٹیل مل کے لیے زرعی اراضی پر صنعت کے قیام کی اجازت دی، اس فیکٹری کو 2005ء میں 63 ملین سعودی ریال میں فروخت کر دیا گیا، 2005ء کے اختتام پر شیخ حماد بن جاسم نے حسین نواز کو طویل مدتی امانت کے معاملے کو نمٹانے کی پیشکش کی، شیخ حمادنے حسین نواز کو بتایا کہ مرحوم میاں محمد شریف نے التھانی خاندان سے رقم کی واپس وصولی اور تقسیم کا اختیار حسین نواز کو دیا ہے، اس کے بعد التھانی فیملی کے نمائندے کی حسین نواز سے جدہ میں ملاقات ہوئی، اتفاق ہوا کہ التھانی فیملی 32 لاکھ 57 ہزار ڈالرز کے علاوہ 1980ء کے بعد سے لندن انٹر بینک آفر ریٹ کے مطابق بلند شرح منافع بھی ادا کرے گی۔
حسین نواز کو التھانی خاندان کے نمائندے نے بتایا کہ 2000 ءمیں 8 ملین ڈالرز التوفیق کمپنی کو سرمایہ کاری فنڈز کے لیے ادا کیے جا چکے ہیں۔
حسین نواز کو بتایا گیا کہ یہ رقم میاں محمد شریف کی ہدایت پر یہ رقم ادا کی گئی، اس کے علاوہ حسین نواز کو التھانی فیملی نے 8ملین ڈالرز مزید ادا کرنے تھے،بعد میں یہ طے پایا کہ 8 ملین ڈالرز کی یہ رقم التھانی خاندان کی دو آف شور کمپنیوں نیلسن اور نیسکول کے شیئرز کے عوض تصور کی جائے گی، نیلسن اور نیسکول وہ دو بے نامی کمپنیاں ہیں جو لندن کے پارک لین میں فلیٹ نمبر 16، 16 اے، 17 اور 17 اے، ایون فیلڈ ہاؤس،118 تا 127 پارک لین کی جائیدادوں کی مالک ہیں۔
میاں محمد شریف پہلے ہی حسن اور حسین نواز کی تعلیم کے دوران ان فلیٹس میں رہائش کا انتظام کر چکے تھے، حسن نواز 17 ایون فیلڈ ہاؤس میں رہائش پذیر رہے جبکہ جب باقی خاندان سعودی عرب میں جلا وطنی میں تھے۔
جواب کے ہمراہ حسین نواز کی جانب سے دونوں خاندانوں کے درمیان حسابات کی تفصیل، شرح منافع کے تعین کے لیے اس وقت کی دیگر کرنسیوں کے ریٹس کے چارٹ بھی منسلک کیے گئے ہیں۔
جواب میں بتایا گیا ہے کہ شریف خاندان نے نیلسن اور نیسکول کی بے نامی کمپنیوں کو 1993ء سے 96 19ءکے دوران کبھی نہیں بنایا بلکہ خاندان کے کاروبار کے حسابات میں التھانی خاندان سے یہ کمپنیاں اور ان کے تحت لندن کی پراپرٹی خریدی۔
ایک بزنس مین وقار احمد کو حسین نواز نے ان جائیدادوں کے قبضے اور بیریئر سرٹیفیکٹ کی وصولی کے لیے اپنا نمائندہ مقرر کیا، التھانی فیملی نے ناصر خامص کو اپنا نمائندہ مقرر کیا۔
التھانی فیملی کے نمائندے نے اس سلسلے میں حسین نواز سے جدہ میں متعدد ملاقاتیں کیں جبکہ کمپنیوں کی منتقلی کا عمل جنوری 2006 ء میں لندن میں مکمل ہوا۔
جواب میں مے فیئر کی تمام پراپرٹی کی دستاویزات حسین نواز کے نمائندے کو دے دی گئیں، حسین نواز نے اس دوران اپنی بہن مریم نواز کو ان کے نمائندے کے طور پر نیلسن اور نیسکول کمپنیوں کی معاملات کو دیکھنے کے لیے دستخطی اختیارات دیے، اس مقصد کے لیے منروا ٹرسٹ اینڈ کاروپوریٹ سروسز لمیٹڈ کمپنی قائم کی گئی، اس دوران سامبا فنانشل گروپ سے درخواست کی گئی کہ وہ منروا سے مریم نواز کو متعارف کرائے۔
حسین نواز کے سامبا فنانشل گروپ سے تعلقات تھے، 3 دسمبر 2005ء کے خط میں حسین نواز نے نیلسن اور نیسکول کے ملکیتی شیئرزتاحا ل حاصل نہیں کیے تھے، حسین نواز نے منروا کے ڈائریکٹر یو سا ہی سے جنوری 2006ء میں ملاقات کی، ملاقات منروا کی حتمی تعیناتی کے لیے کی گئی۔
جواب میں کہا گیا ہے کہ حسین نواز نے مریم نواز کو دستخطوں کا اختیار اس لیے دیا کہ ان کی عدم موجودگی میں مریم نواز ان کی دو بیویوں اور 7 بچوں کے درمیان وراثت کے معاملات شرعیت اور انصاف کے تحت طے کر سکیں،حسین نواز اور مریم صفدر کے درمیان 2 اور 4 فروری 2006ء کو جدہ اور لندن میں ایک ٹرسٹ ڈیڈ تیار کی گئی۔
جواب میں کہا گیا ہےکہ مریم صفدر کے بینیفیشل مالک ہونے سے متعلق ایک جعلی ڈیکلیئریشن تیار کیا گیا جسے نومبر 2016ء میں منظر عام پر لایا گیا۔
جواب میں کہا گیا ہے کہ حسین نواز نے کاروبار میں کبھی کوئی غیر قانونی اقدام نہیں اٹھایا اور حسن نواز نے بھی تمام مروجہ قوانین کی پابندی کی ہے، 2007ء میں حسین نواز نے جدہ میں ایک اور اسٹیل کا کاروبار شروع کیا جس سے انہوں نے اپنے والد کو بھی رقوم بھیجیں۔
جواب میں اس حوالے سے فنانشل ایڈیٹر کی رپورٹ بھی فراہم کی گئی ہے، جواب میں کہا گیا ہے کہ حسین نواز نے یہ رقم والد کو اس لیے بھیجی کہ وہ اپنی تمام توجہ سیاسی سرگرمیوں پر مرکوز رکھ سکیں۔
تحریری جواب میں کہا گیا ہےکہ حسین نواز کی جانب سے دیے گے تمام بیانات درست ہیں، ان بیانات کو غلط انداز میں پیش کیا گیا، شریف ِخاندان نے 1972ء میں دبئی کوئی رقم نہیں بھیجی۔
جواب میں کہا گیا ہے کہ حسین نواز کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے، قطر کی التھانی فیملی کو میاں شریف کو دی گئی رقوم کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں تھی، لندن میں مے فیئر کی جائیداد خریدنے میں بنیادی رقم مکہ کی اسٹیل مل کو فروخت کرکے دی گئی، حسن اور حسین نواز دوران تعلیم مے فیئر فلیٹس میں رہتے رہے، لیکن اس وقت یہ شریف فیملی کی ملکیت نہیں تھے اس حوالے سے کلثوم نواز سے منصوب بیان غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔
مریم نواز نے درست کہا کہ ان کی بیرون ملک کوئی جائیداد نہیں، اس بات کی سختی سے تردید کرتے ہیں کہ شریف فیملی نے بل واسطہ یا بلا واسطہ 1993ء سے 1996ء کے دوران مے فیئر کے 4 اپارٹمنٹس خریدے۔
جواب میں کہا گیا ہے کہ اس بات کی سختی سے تردید کرتے ہیں کہ شریف خاندان نے 1992ء سے 1994 ءکے دوران نیلسن اور نیسکول کمپنیاں قائم کیں، حقیقت یہ ہے کہ حسین نواز نے ان کمپنیوں کے شیئرز 2006ء میں خریدے، مریم صفدر کبھی بھی ان کمپنیوں کی بینیفیشل اونر نہیں رہیں، مے فیئر فلیٹس پر 1999ء میں کوئی قرضہ نہیں لیا گیا، 1999ء میں شریف خاندان کا مے فیئر فلیٹس سے تعلق ایک بیان حلفی کے طور پر جوڑا جا رہا ہے، یہ بیان حلفی نواز شریف کے سیاسی مخالفین نے تیار کروایا تھا۔
ریمنڈ بیکر کی کتاب میں اس حوالے سے لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں، شیزی نقوی کی جانب سے دیے گئے بیان حلفی کی کاپی بھی جواب کے ہمراہ منسلک کی گئی ہے۔
سپریم کورٹ کو دیے گئے جواب میں حسین اور حسن نواز نے کہا ہے کہ وہ سختی سے تردید کرتے ہیں کہ انہوں نے کبھی منی لانڈرنگ، ٹیکس چوری، اثاثہ جات کے غلط گوشوارے، غیر قانونی طور پر رقوم کی ترسیل اور حکومتی واجبات کی عدم ادائیگی جیسے اقدامات کیے۔
مے فیئر فلیٹس قطر کی التھانی فیملی سے حسابات کے دوران 32 لاکھ امریکی ڈالرز کی ایڈجسٹمنٹ کے طور پر کی گئی اور اس حوالے سے باقی ادائیگیوں کی تفصیلات بھی فراہم کر دی گئی ہے، ادائیگیوں کی تقسیم اس بڑی رقم کی ادائیگی کے نتیجے میں ہوئی جو التوفیق کمپنی کو سرمایہ کاری فنڈ کے لیے دیے جانے والے 8 ملین ڈالرز پر مشتمل تھی۔
جواب میں تردید کی گئی ہے کہ حسین نواز کا قومی ٹیکس نمبر موجود نہیں، ان کا قومی ٹیکس نمبر 4-0667548 ہے، حسین نواز کی جانب سے اپنی فیملی کو تمام تحائف مروجہ قوانین کے تحت دیے گئے اور نواز شریف، مریم نواز، حسین نواز اور حسن نواز نے ان تحائف کو کبھی نہیں چھپایا۔