ہم کب اپنے لیڈروں کو پہچانیں گے؟

موجودہ سیٹ اپ میں جو PDMکی نئی حکومت آئی ہے، اس کے 2تہائی وزرا اور عہدیدار NABکو مطلوب ہیں اور بیماریوں کا بہانا کرکے ضمانتیں کروا کر ساڑھے 3سال سے وقت گزار رہے تھے وہ اب سیدھے اجلاسوں میں شرکت اور دورے کر رہے ہیں۔

 وزیر اعظم شہباز شریف کو معلوم نہیں ہے کہ وہ حکومت چلا رہے ہیں یا ان کے بھائی جو لندن میں ہیں وہ حکومت چلا رہے ہیں۔ مفتاح اسماعیل جو اس وقت وزیر خزانہ ہیں، آیا کہ وہ وزیر خزانہ ہیں یا اسحاق ڈار جو عرصے سے بیمار بتائے جا رہے تھے۔ وہ اب آئی ایم ایف کی شرائط پر مفتاح اسماعیل کو آگاہ کر رہے ہیں کہ کن کن اداروں، چیزوں کو گروی رکھ کر لوگوں کو ریلیف دیا جائے۔

 اس پر مجھے یاد آیا کہ آج سے 10سے 15سال پہلے جب سونیا گاندھی کی حکومت تھی تو راقم تفریحی دورے پر بھارت گیا تھا۔ دلّی سے بنگلور گئے وہاں سے ہمیں اونچی پر فضاپہاڑی اُوٹی پر جانا تھا۔ جب اُوٹی پہنچے تو پتا چلا پورے شہر میں ایک جشن کا سماں تھا، گلی گلی میں چراغاں، ایک سیاستدان کے پوسٹر، بینرز لگے ہوئے تھے، جو حال ہی میں جیل سے ضمانت پر رہا ہو کر اپنے علاقے میں پہنچا تھا اور پورا شہر اس کے استقبال کے لیے جن میں بچے، بوڑھے اور جوان شامل تھے،اُمڈ آیا تھا اور خوش آمدید کے نعرے لگا رہا تھا۔

 راقم نے اپنے دوست جس کے ساتھ ہم اُوٹی گئے تھے اور جو پاکستان اور بھارت کی سیاست سے واقف تھا، سےپوچھا یہ کون شخص ہے؟ پتا چلا کہ موصوف قتل، کرپشن، غنڈہ گردی، ریپ، زمینوں پر قبضے جیسے جرائم میں ملوث رہے ہیں۔ ان کا ایسا استقبال دیکھ کر میں حیران رہ گیا تو میرے دوست نے بتایا کہ یہ عوام کا خیر خواہ ہے اور غربت دور کرنے میں آگے آگے رہتا ہے، ان کو حکومت ویسے ہی مل جاتی ہے۔

 اور یہ گزشتہ کئی سالوں سے ایم این اے بھی ہیں۔ ہم اوٹی 3دن رہے جو پہاڑی کی چوٹی پر واقع ہے۔ 3دن تک پورے شہر میں ڈھول ڈھمکا، ناچ گانے کی وجہ سے پہاڑی پر خوب انجوائے کیا۔ ایک سبق یہ ملا کہ پاکستان اس وقت ایسا نہیں تھا اور پتا چلا کہ بھارت کے 30فیصد چیف منسٹر، 60فیصد ایم ایل ایز،ایم پی ایزجرائم میں ملوث ہوتے ہیں اور ان کے مقدمات 20،20 برسوں سے عدالتوں میں چل رہے ہیں اور سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود مقدمات کے فیصلے نا معلوم وجوہات کی بناپر نہیں کئے جاتے۔ کرپشن پر کرپشن اور جرائم پر جرائم، اغوا برائے تاوان، لوٹ کھسوٹ میں ملوث ہونے کے باوجود ایم ایل اےسیاست کرتے ہیں اور عوام بھی ان سے خوش ہیں۔

ہمارے اس موجودہ سیٹ اپ میں بھی اکثریت برسوں سے اپنے کیس لڑ رہی ہے اور عدلیہ سے ان کو عبوری ضمانتیں بھی ملی ہیں۔ کب فیصلے ہوں گے؟ اِس بارے میں کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا بلکہ اب میڈیا نے بھی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پہلی مرتبہ بھارت کا موازنہ پاکستانی سیاست سے کیا ہے۔

 یہ چال چلن تو بھارت میں برس ہا برس سے چل رہا تھا مگر ہمارے ملک میں اب انکشاف ہوا ہے اور خوبصورت بات یہ ہے کہ حکومت میں آنے کے بعد وہ لوگ جو اپنے جرائم سے خائف تھے بر ملاعمران خان اور ان کی پارٹی پر لگا تار الزامات لگا رہے ہیں اور پی ٹی آئی کی دیکھا دیکھی انہی مقامات پر چھوٹے چھوٹے جلسے کر کے باور کرا رہے ہیں کہ قوم اب بھی PDMکے ساتھ ہے اور کسی پارٹی کا کوئی نقصان نہیں ہوا اور وہ ساتھ ساتھ اگلے الیکشن کی تیاری بھی کر رہے ہیں۔ عوام پریشان ہیں کہ اُن کا حقیقی لیڈر کون ہے؟ یہ کھیل کب تک چلے گا۔ قوم کب صحیح لیڈروں کو چن سکے گی اور پہچان سکے گی؟

قبل ازمسیح کاایک واقعہ سناتا ہوں کہ ایک چھوٹا سا لڑکا بھاگتا ہوا ’’شیوانا‘‘ (قبل از اسلام کے ایران کا ایک مفکّر) کے پاس آیا اور کہنے لگاکہ میری ماں نے فیصلہ کیاہے کہ وہ معبد کے کاہن کے کہنے پر عظیم بُت کے قدموں پر میری چھوٹی معصوم سی بہن کو قربان کر دے،آپ مہربانی کرکے اُس کی جان بچا دیں۔

شیوانا لڑکے کے ساتھ فوراً معبد میں پہنچا اور کیا دیکھتا ہے کہ عورت نے بچی کے ہاتھ پاؤں رسیوں سے جکڑ لیے ہیںاور چھری ہاتھ میں پکڑے آنکھیں بند کئے کچھ پڑھ رہی ہے۔بہت سے لوگ اُس عورت کے گرد جمع تھے اور بُت خانے کا کاہن بڑے فخر سے بُت کے قریب ایک بڑے پتّھر پر بیٹھا یہ سب دیکھ رہا تھا،شیوانا جب عورت کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ اُسے اپنی بیٹی سے بے پناہ محبت ہے اور وہ بار بار اُس کو گلے لگا کر والہانہ چوم رہی ہے مگر اِس کے باوجود معبد کدے کے بُت کی خوشنودی کے لیے اُس کی قربانی بھی دینا چاہتی ہے۔

 شیوانا نے اُس سے پوچھا کہ وہ کیوں اپنی بیٹی کو قربان کرنا چاہ رہی ہے توعورت نے جواب دیاکہ کاہن نے مجھے ہدایت کی ہے کہ میں معبد کے بُت کی خوشنودی کے لیے اپنی عزیز ترین ہستی کو قربان کر دوں تا کہ میری زندگی کی مشکلات ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائیں۔

شیوانا نے مسکرا کر کہا:مگر یہ بچّی تمہاری عزیز ترین ہستی تھوڑی ہے؟ اِسے تو تم نے ہلاک کرنے کا ارادہ کیاہے،تمہارے لیےجوہستی سب سے زیادہ عزیز ہے وہ تو پتّھر پر بیٹھا یہ کاہن ہے کہ جس کے کہنے پر تم ایک پھول سی بچّی کی جان لینے پر تُل گئی ہو،یہ بُت احمق نہیں ہے وہ تمہاری عزیز ترین ہستی کی قربانی چاہتاہے تم نے اگر کاہن کی بجائے غلطی سے اپنی بیٹی قربان کر دی تو یہ نہ ہو کہ بُت تم سے مزید خفاہو جائے اور تمہاری زندگی کو جہنّم بنا دے۔

عورت نے تھوڑی دیر سوچنے کے بعد بچّی کے ہاتھ پاؤں کھول دیئے اور چھری ہاتھ میں لے کر کاہن کی طرف دوڑی مگر وہ پہلے ہی وہاں سے بھاگ چکا تھا۔کہتے ہیں کہ اُس دن کے بعد سے وہ کاہن اُس علاقے میں پھر کبھی نظر نہ آیا۔دنیا میں صرف ’’آگاہی‘‘ کو فضیلت حاصل ہے اور واحد گناہ ’’جہالت‘‘ ہے،جس دن ہم اپنے ’’کاہنوں‘‘ کو پہچان گئے، ہمارے مسائل حل ہوجائیں گے۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM