دنیا
17 مئی ، 2022

برطانیہ میں 'منکی پاکس' کی وبا پھوٹ پڑی ،7 کیسز سامنے آگئے

ق منکی پاکس پہلی بار 1958 میں دریافت ہوا تھا، جس کا پہلا انسانی کیس 1970 میں ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں رپورٹ کیا گیا تھا —فوٹو: فائل
ق منکی پاکس پہلی بار 1958 میں دریافت ہوا تھا، جس کا پہلا انسانی کیس 1970 میں ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں رپورٹ کیا گیا تھا —فوٹو: فائل

برطانیہ میں مزید چار افراد میں منکی پاکس وائرس کی تشخیص ہوئی ہے، جس سے  وباء کے کیسز کی کل تعداد 7 ہوگئی ہے۔

برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق منکی پاکس کے  چاروں نئے مریض ہم جنس پرست( gay) یا (bisexual) مرد ہیں جو لندن میں اس بیماری سے متاثر ہوئے ۔

رپورٹس کے مطابق 4 میں سے  دو افراد ایک دوسرے کو جانتے ہیں لیکن منکی پاکس کے کسی بھی گزشتہ کیس سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے تاہم نرسوں اور ڈاکٹروں کو  نئی وبا کے متاثرہ مریضوں کے لیے 'ہوشیار' رہنے کا مشورہ دیا جارہا ہے۔

برطانیہ میں منکی پاکس کیسز کی تعداد 7 ہوگئی ہے—فوٹو: ڈیلی میل
برطانیہ میں منکی پاکس کیسز کی تعداد 7 ہوگئی ہے—فوٹو: ڈیلی میل 

ڈیلی میل کے مطابق7 مئی کو برطانوی محکمہ صحت نے اعلان کیا تھا کہ حال ہی میں نائیجیریا کا سفر کرنےوالے  ایک شخص کو منکی پاکس انفیکشن ہوا ہے ۔

تاہم ہفتے کے روز دو مزید کیسز  سامنے آئے ، متاثرہ دو افراد  ایک ہی گھر میں رہتے تھے لیکن ان کا ابتدائی کیس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

منکی پاکس کو اکثر چکن پاکس، خسرہ جیسی عام خارش کی بیماری سمجھا جاتا ہے جس کی وجہ سے اسے جلد تشخیص کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

برطانیہ کی ہیلتھ سکیورٹی ایجنسی کی چیف میڈیکل ایڈوائزر ڈاکٹر سوزین ہاپکنز نے کہا ہے کہ  'یہ  بیماری نایاب اور غیر معمولی ہے'۔

ان کا کہنا ہے کہ ہم  تیزی سے ان انفیکشن کی تحقیقات کر رہے ہیں کیونکہ شواہد بتاتے ہیں کہ لوگوں میں منکی پاکس وائرس قریبی رابطے سے پھیلتا ہے۔

ہیلتھ سکیورٹی ایجنسی کے مطابق  ہم جنس پرست اور (bisexual) مردوں پر زیادہ زور دیا جارہاہے کہ وہ  جسم پر کسی بھی غیر معمولی داغ  اور زخموں کے سامنے آنے پر  بغیر کسی تاخیر کے  ڈاکڑز سے رابطہ کریں۔

ماہرین کے مطابق یہ نایاب وائرل انفیکشن جو متاثرہ افراد میں سے دس میں سے ایک کی جان لے لیتا ہے ،لوگوں میں آسانی سے نہیں پھیلتا۔ یہ طویل عرصے تک آمنے سامنے رہنے یا جسمانی روابط کے دوران سانس  کے ذریعے پھیلتا ہے۔

 منکی پاکس کا پہلا کیس کب سامنے آیا؟

رپورٹس کے مطابق منکی پاکس پہلی بار 1958 میں دریافت ہوا تھا، جس کا پہلا انسانی کیس 1970 میں ڈیموکریٹک رپبلک آف کانگو میں رپورٹ کیا گیا تھا جبکہ  امریکا  میں پہلی بار 2003  اور برطانیہ میں ستمبر 2018 میں انسانی کیسز ریکارڈ  رپورٹ ہوئے تھے۔

بیماری کی علامات

منکی پاکس میں پہلے فلو ہوتا ہے اور پھر جسم پر نکلنے والے دانے انتہائی تکلیف دہ زخموں میں تبدیل ہوجاتے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کسی نے جلتی ہوئی سگریٹ زخموں پر رکھ دی ہو۔

اس بیماری میں مریض کے صحت یاب ہونے کا کوئی مخصوص وقت نہیں لیکن مریض کو مکمل اور توجہ اور دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔

مرض کیسے پھیلتا ہے؟

یہ جان لیوا مرض پہلے جانوروں کے ذریعے انسانوں کو متاثر کرتا ہے اور پھر انسانوں کے درمیان وائرل ہونے کا سبب بنتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق  منکی پاکس بندروں، چوہوں،گلہریوں اور دیگر چھوٹے ممالیہ جانوروں کے ذریعے پھیلتا ہے جبکہ یہ زیادہ تر  مغربی اور وسطی افریقا میں پایا جاتا ہے۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM