پاکستان
06 جون ، 2022

استعفوں اور بائیکاٹ پر اختلافات، پی ٹی آئی کے اکثر ارکان قومی اسمبلی میں واپسی کے خواہاں

وزیراعظم کے انتخاب کیلئے ووٹنگ بائیکاٹ اور استعفوں کی تجویز دینے والی شخصیت کو سامنے ‏لایا جائے: ارکان کا مطالبہ— فوٹو:فائل
وزیراعظم کے انتخاب کیلئے ووٹنگ بائیکاٹ اور استعفوں کی تجویز دینے والی شخصیت کو سامنے ‏لایا جائے: ارکان کا مطالبہ— فوٹو:فائل

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں وزیراعظم کے انتخاب کے دوران ووٹنگ کے عمل کے بائیکاٹ اور استعفوں کے معاملے پر اختلافات سامنے آگئے۔

ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی نے سوالات اٹھانا شروع کردیے ہیں اور استعفوں سے متعلق پارٹی کے فیصلے پرتحفظات کا اظہارکیا ہے۔

ذرائع بتاتے ہیں کہ تحریک انصاف کے اکثریتی ارکان قومی اسمبلی میں واپسی کے خواہشمند ہیں اور ارکان نے مطالبہ کیا ہے کہ ووٹنگ بائیکاٹ اور استعفوں کی تجویز دینے  والی شخصیت کو سامنے ‏لایا جائے۔

ارکان کا کہنا ہے کہ پارٹی کو غلط مشورہ دے کر سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچایا گیا، ہمیں قومی اسمبلی میں واپس جا کر حکومت کو ٹف ٹائم دینا چاہیے۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے چیف وہب عامر ڈوگر بھی ووٹنگ کے بائیکاٹ کا مشورہ دینے والے سے لاعلم ہیں۔

عامر ڈوگر کا مؤقف ہے کہ بائیکاٹ نہ کیا جاتا تو راجہ ریاض اور دیگر منحرف ارکان ڈی سیٹ ہو چکے ہوتے۔

ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے ارکان نے پارلیمانی پارٹی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا اور کہا ہے کہ پارلیمانی پارٹی اجلاس بلا کر سب کو مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے، سیاسی خودکشی کی گئی، آئندہ الیکشن میں کون ووٹ دے گا؟

ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے متعدد ارکان قومی اسمبلی میں واپس جانے کیلئے پرتولنے لگے۔

اس حوالے سے پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ہم اپنے کسی رکن کو جعلی اسمبلی میں نہیں جانے دیں گے، یہ جعلی اسمبلی ہے جو اسمبلی میں جانا چاہتا ہے وہ پارٹی چھوڑ کر چلا جائے، اس حکومت نے لوٹے کے ذریعے الیکشن کمیشن ممبران لگائے اورحکومت لوٹے کے ذریعے چیئرمین نیب لگانے جارہی ہے۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM