Time 26 نومبر ، 2022
بلاگ

جنرل قمر جاوید باجوہ، خداحافظ

ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں۔بڑے بڑوں کے نقارے خاموش ہوگئے۔ایوب خان کے اقتدار کا سورج سوا نیزے پر تھا تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ایک دن یہ آفتاب ڈھل جائے گا۔جنرل یحییٰ خان نے اقتدار سنبھالنے کے فوری بعد بلوچ رجمنٹ کے افسروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئندہ بیس سال تک کہیں نہیں جانے والے۔جنرل ضیاالحق’ لمن الملک‘کاناقوس بجا رہے تھے تو کسے خبر تھی کہ بہت جلدیہ بادشاہت فنا کے گھاٹ اُتر جائے گی۔عبرت کے سینکڑوں نشانات موجود ہیں مگر تاریخ کا سبق یہی ہے کہ کوئی اس طرف دھیان نہیں دیتا۔

جنرل ایوب خان کے دورِ اقتدار میں ان کے دو بیٹے گوہر ایوب اور اختر ایوب جویکے بعد دیگرے ان کے اے ڈی سی بھی رہے،انہوں نے فوج کی نوکری چھوڑ کر اپنے والد کی بہائی صنعتی انقلا ب کی گنگا میں ڈبکیاں لگانے کا فیصلہ کیا اور خوب دولت سمیٹی ۔گوہر ایوب نے اپنے سسر جنرل (ر)حبیب اللہ خٹک سے مل کر امریکی فرم جنرل موٹرز خرید کر اس کا نام گندھارا موٹرز رکھا اور دیکھتے دیکھتے پاکستان کی بڑی کاروباری شخصیات میں شمار ہونے لگے۔یہ وہ غلطی تھی جوایوب خان کے زوال کا سبب بنی اور اسی نسبت سے ان کے فرزند گوہر ایوب کوان کا گوہر زوال کہا گیا ۔ایوب خان کے بڑے صاحبزادے گوہر ایوب کی والدہ نے ان کا نام حبیب اللہ رکھا لیکن والدنے ان کا نام گوہر ایوب تجویز کیا۔ اسے حسنِ اتفاق کہئے یا کچھ اور کہ گوہر ایوب جن کا ابتدائی نام حبیب اللہ تھا، ان کے سسر کا نام بھی حبیب اللہ ہے۔م۔ب۔ خالد اپنی کتاب ’ایوان صدر میں سولہ سال‘ کے صفحہ نمبر 139 پر ’پسرانِ ایوب‘ کے عنوان سے لکھتے ہیں کہ ’ایوب خان ایوانِ صدر میں منتقل ہوئے تو بَری فوج کی طرف سے اے ڈی سی ان کے بیٹے کیپٹن گوہر ایوب تھے۔ تھوڑے ہی عرصے بعد کیپٹن گوہر ایوب نے پاک فوج سے ریلیز لی اور نجی کاروبار میں مشغول ہوگئے۔ ان کی جگہ ایوب خان کے دوسرے صاحبزادے کیپٹن اختر ایوب خان، صدرِ پاکستان کے اے ڈی سی بن کر تشریف لے آئے۔ تھوڑے عرصے بعد انہوں نے بھی پاک فوج سے ریلیز لے لی اور کاروبار میں مصروف ہوگئے۔ ایوب خان کے یہی 2 لڑکے فوج میں تھے جنہوں نے یکے بعد دیگرے فوجی ملازمت کو خیرباد کہہ دیا۔جس شخص کا پشتوں سے پیشہ آبا سپہ گری رہا ہو، جس نے مملکتِ خداداد پاکستان کے پہلے پاکستانی سپہ سالار ہونے کا بلند ترین اعزاز حاصل کیا ہو، جس نے اپنے خون پسینے سے بَری فوج جیسے مقدس ادارے کی آبیاری کی ہو اور جو صرف اپنے فوجی عہدے کی بدولت صدرِ پاکستان کے بلند ترین مقام تک پہنچا ہو، وہ اپنے لڑکوں کو عین عالمِ شباب میں جب وہ تقریباً 25 یا 26 برس کے ہوں اور صرف 4، 5 سال کی سروس کی ہو فوج سے ریلیز کرکے نجی کاروبار میں لگادے، یہ ناقابل فہم ہے۔ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب پریزیڈنٹ ایوب خان نے عہدِ صدارت میں یا باقی ماندہ زندگی میں کبھی نہ دیا۔‘

ایوب خان کے زوال کے بیشمار اسباب تھے مگر معروف بیوروکریٹ روئیداد خان اپنی کتاب ’’Pakistan a dream gone sour‘‘کے صفحہ نمبر 44پر لکھتے ہیں کہ گندھارا موٹرز سے بڑھ کر کسی چیز نے ایوب خان کی شہرت اور وقار کو داغدار نہیں کیا۔قومی اسمبلی کے ایوان میں ،اپوزیشن کے جلسوں میں ،گلیوں اور چوراہوں میں ہونے والی سرگوشیوں میں ہر طرف ایوب خان کے گوہرسے متعلق گفتگو ہورہی تھی۔‘

ایوب راج کے دوران ان کے فرزند گوہر ایوب کی گندھارا موٹرز کو کس طرح سے سرکاری ٹھیکے دیکر نوازا جاتا رہا،اس بات کا اعتراف خود جنرل ایوب خان کرتے ہیں ۔ان کی کتاب ’’Diaries of Field Marshal Mohammad Ayub Khan, 1966-1972‘‘کے صفحہ نمبر 121پر لکھا گیا ہے کہ اندرون ملک گاڑیوں اور ٹریکٹروں کی مینوفیکچرنگ شروع کرنے کے لئے ہمیں کم از کم زیادہ سے زیادہ گاڑیوں کے انجن تیا رکرنے کا آغاز کردینا چاہئے ،گندھارا موٹرز جہاں میرا بیٹا کام کرتا ہے ،اسے نوازنے کے لئے یہ فیصلہ مجھ پر مسلط کیا گیا۔درحقیقت یہ فیصلہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے قائم کی گئی ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی کی سفارش پر کیا گیا۔‘

الطاف گوہر اپنی کتاب 'ایوب خان، فوجی راج کے پہلے دس سال' کے صفحہ نمبر 448 پر لکھتے ہیں کہ ’ایوب خان کو اس نقصان کا بھی کوئی اندازہ نہ تھا جو ان کی ذات اور حکومت کو ان کے خاندان پر بدعنوانیوں کے الزامات کے نتیجے میں پہنچا تھا۔ وہ ایک غیر ملکی جریدے میں پاکستان کے بارے میں ایک تبصرہ پڑھ کر بہت غضب ناک ہوئے جس میں کہا گیا تھا کہ ایوب خان کے بیٹے گوہر ایوب نے اپنے والد سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انہیں 'افواہ سازی' کا کارخانہ الاٹ کرادیں کیونکہ ملک میں اس جنس کی سب سے زیادہ کھپت تھی۔‘

ایک طرف وہ سپہ سالار ہیں جنہوں نے اپنے حلف سے روگردانی کرتے ہوئے فوج کو سیاست میں ملوث کیا اور دوسری طرف جنرل جہانگیر کرامت جیسے آرمی چیف بھی ہیں جو اپنے دائرہ کار سے تجاوز کرنے کے بجائے استعفیٰ دے کر باعزت طریقے سے گھر چلے گئے۔ایک طرف ایوب خان جیسے جرنیل ہیں جن کی اولادوں نے دونوں ہاتھوں سے دولت سمیٹی اور دوسری طرف افواج پاکستان کے آخری کمانڈر انچیف جنرل گل حسن جیسے ایماندار افسر بھی ہیں جنہوں نے مرتے وقت کوئی اثاثہ نہیں چھوڑا۔ افواج پاکستان کے 16ویں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ 6سالہ دور مکمل کرنے کے بعد ریٹائر ہورہے ہیں ۔ان کا شمار کس طرح کے جرنیلوں اور سپہ سالاروں میں ہوگا،یہ فیصلہ تاریخ پر چھوڑ دینا چاہئے۔ہم تو بس انہیں خداحافظ کہہ سکتے ہیں۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔