دنیا کے وہ مقامات جہاں لوگوں کے مرنے پر پابندی عائد کی گئی

ایسی مختلف وجوہات کے باعث کیا گیا / تصاویر بشکریہ وکی پیڈیا
ایسی مختلف وجوہات کے باعث کیا گیا / تصاویر بشکریہ وکی پیڈیا

عام طور پر کسی جرم کی سخت ترین سزا سزائے موت ہوتی ہے مگر اس وقت کیا ہو جب موت کو ہی جرم قرار دے دیا جائے؟

یقین کرنا مشکل ہوگا مگر دنیا کے کچھ حصے ایسے ہیں جہاں کے حکام نے رہائشیوں کے مرنے کو غیر قانونی قرار دیا۔

مگر اس کی سزا کیا ہے؟ درحقیقت کوئی سزا نہیں کیونکہ جو فرد دنیا سے گزر جائے اسے کیا سزا دی جاسکتی ہے۔

مگر ان جگہوں پر لوگوں کی موت کو غیر قانونی قرار دینے کی وجوہات کیا تھیں اور کیا اب بھی وہاں پابندی برقرار ہے یا نہیں؟

اس بارے میں آپ ان مقامات کی تفصیلات کے ساتھ جان لیں گے جن کی حدود میں مرنے کی اجازت دینے سے انکار کیا گیا۔

Sellia، اٹلی

Sellia کا ایک منظر / فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا
Sellia کا ایک منظر / فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا

اگست 2015 میں جنوبی اٹلی کے اس قصبے کے میئر نے حکم جاری کیا تھا کہ یہاں کے رہائشیوں کو بیمار ہونے اور مرنے کی اجازت نہیں۔

چند سو افراد کی آبادی پر مشتمل اس قصبے میں زیادہ تر کی عمر 65 سال سے زائد ہے اور میئر کے مطابق ان کی موت درحقیقت قصبے کی ہلاکت ہے۔

تو ان کے مرنے پر پابندی کا بنیادی مقصد لوگوں کے اندر خود کو صحت مند رکھنے کی حوصلہ افزائی کرنا تھا اور جو فرد ہر سال اپنا طبی معائنہ نہیں کراتا، اس پر جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔

Cugnaux، فرانس

Cugnaux / فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا
Cugnaux / فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا

جنوبی فرانس کے اس گاؤں کے قبرستانوں میں جگہ ختم ہونے اور زیرزمین پانی کی سطح بڑھنے کے نتیجے میں انتقال کر جانے والے افراد کی تدفین ایک مسئلہ بن گئی تھی۔

جو جگہ دستیاب تھی وہ ایک فوجی ائیر بیس کے قریب تھی اور وہاں وزارت دفاع نے تدفین کی اجازت دینے سے انکار کیا تو 2007 میں میئر نے ایسے افراد کے لیے مرنا غیر قانونی قرار دے دیا جو اپنی تدفین کا انتظام قبل از وقت نہیں کرتے۔

یہ اعلان کام کرگیا اور وزارت دفاع نے لوگوں کی تدفین کی اجازت دے دی۔

Sarpourenx، فرانس

Sarpourenx کا ایک منظر / فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا
Sarpourenx کا ایک منظر / فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا

Cugnaux سے متاثر ہوکر 2008 میں جنوبی فرانس کے اس چھوٹے گاؤں کے میئر نے بھی رہائشیوں کے مرنے پر پابندی عائد کی۔

اس کی وجہ قبرستان میں گنجائش ختم ہونا تھا اور میئر نے اپنے حکم میں کہا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت سزا دی جائے گی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مقامی عدالت نے میئر کو قبرستان میں توسیع کی اجازت نہیں دی جبکہ مرنے کو غیر قانونی قرار دینے کے حکم کے خلاف بھی فیصلہ سنایا، جس پر مقامی افراد بھی میئر کے ساتھ ہوگئے۔

میئر اور لوگوں کے احتجاج کے باوجود کوئی فائدہ نہیں ہوا اور اب بھی وہاں مرنے پر پابندی عائد ہے۔

وہاں کسی فرد کو مرنے کی اجازت اسی وقت ہوتی ہے جب اس نے قبرستان میں پہلے سے جگہ حاصل کی ہوئی ہو، ورنہ کسی اور جگہ کا رخ کرنا پڑتا ہے۔

Biritiba-Mirim، برازیل

یہاں بھی یہ پابندی عائد کی گئی / فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا
یہاں بھی یہ پابندی عائد کی گئی / فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا

2005 میں مقامی قبرستان میں جگہ ختم ہونے پر اس قصبے کے میئر نے مرنے پر پابندی عائد کی۔

ساؤ پاؤلو کے قریب واقع اس قصبے کے قبرستان میں 50 ہزار قبروں کی گنجائش ختم ہونے کے بعد میئر نے یہ قانون نافذ کیا۔

اس قانون کا مقصد نئے قبرستان کی تعمیر کی اجازت نہ دینے پر وفاقی حکومت کے خلاف احتجاج کرنا تھا۔

چونکہ یہ قصبہ زراعت کے حوالے سے معروف ہے تو ماحولیاتی قوانین کو جواز بنا کر نئے قبرستان کی تعمیر روکی گئی۔

موت پر پابندی کے قانون کی خلاف ورزی پر سزا دینے کا تو کہا گیا مگر یہ نہیں بتایا گیا کہ سزا کیا ہوگی۔

ویسے وہاں 2010 میں نیا قبرستان تیار ہوگیا تھا تو بظاہر اب وہاں لوگوں کو مرنے کی اجازت ہے، مگر کب تک یہ کہنا مشکل ہے۔

لانجارون، اسپین

یہ جنوبی اسپین کا ایک قصبہ ہے / فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا
یہ جنوبی اسپین کا ایک قصبہ ہے / فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا

جنوبی اسپین کے اس قصبے میں 1999 میں حکام نے قبروں کے لیے جگہ نہ ہونے پر رہائشیوں کے مرنے پر اس وقت تک پابندی عائد کر دی جب تک نئے قبرستان کے لیے جگہ نہیں مل جاتی۔

اس حکم نامے میں رہائشیوں کو کہا گیا تھا کہ وہ اپنی صحت کا بہت زیادہ خیال رکھیں تاکہ وہ قبرستان کے لیے زمین خریدنے تک زندہ رہ سکیں۔

اس کے بعد کیا ہوا یہ واضح نہیں، یعنی زمین خریدی گئی یا نہیں اور وہاں اب بھی یہ قانون نافذ ہے یا نہیں، اس بارے میں تفصیلات موجود نہیں۔

لانگایربین، ناروے

لانگایربین کا ایک منظر / اے ایف پی فوٹو
لانگایربین کا ایک منظر / اے ایف پی فوٹو

ناروے کے اس قصبے میں 2 ہزار کے قریب افراد مقیم ہیں اور یہاں قبرستان بھی ہے مگر اسے دہائیوں سے استعمال نہیں کیا گیا۔

اس کی وجہ کافی حیران کن ہے۔

1950 میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ قبرستان میں دفن شدہ لاشیں ڈی کمپوز نہیں ہورہیں۔

یہاں کا موسم بہت سرد ہوتا ہے اور عموماً برف جمی رہتی ہے جس کے باعث وہاں دفن لاشوں میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، جس سے جان لیوا جراثیم پھیلنے کا خطرہ بڑھتا ہے۔

جراثیموں کو پھیلنے سے روکنے کے لیے وہاں 1950 میں لوگوں کے مرنے پر پابندی عائد کی گئی اور قریب المرگ افراد کو ناروے کے مختلف حصوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔

Itsukushima، جاپان

Itsukushima / فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا
Itsukushima / فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا

یہ ہیرو شیما کے ساحلی علاقے میں واقع ایک جزیرہ ہے جہاں 8 ویں صدی میں ایک عبادت گاہ تعمیر کی گئی جس کے بعد اسے مقدس مقام قرار دے دیا گیا۔

صدیوں تک وہاں لوگوں کو داخل ہونے کی بھی اجازت نہیں تھی مگر اب 2 ہزار کے قریب افراد وہاں رہائش پذیر ہیں۔

19 ویں صدی کے آخر میں وہاں لوگوں کے مرنے پر پابندی عائد کی گئی اور اب قریب المرگ افراد کو قریبی جزائر میں منتقل کیا جاتا ہے۔

اس جگہ کوئی قبرستان یا اسپتال موجود نہیں۔

مزید خبریں :