بلاگ
Time 26 فروری ، 2024

خان نے سبق نہیں سیکھا!

امید تھی کہ عمران خان جیل میں اپنے ماضی، اپنے طرز سیاست اور اپنی غلطیوں پر غور کریں گے۔ اُن سے بہتری کی توقع تھی اور اب بھی ہے لیکن جو کچھ اُن کے حوالے سے آئی ایم ایف کو خط لکھنے سے متعلق بتایاگیا وہ انتہائی قابل اعتراض اور قابل مذمت ہے۔ پاکستان کا ایک بڑا سیاسی رہنما کیسے اپنی ذات،خواہ اُس کے ساتھ زیادتی بھی ہو رہی ہو ،کو آگے رکھ کر کوئی ایسی بات کر سکتا ہے جس سے پاکستان کو نقصان پہنچے اور جس کا براہ راست اثرعوام کی مشکلات کو کئی گنا بڑھادے۔ تحریک انصاف کے ایک رہنما نے حال ہی میں امریکا سے مطالبہ کیا کہ وہ الیکشن میں دھاندلی کے معاملہ پر خاموش رہنے کی بجائے پاکستان پر دباو ڈالے۔ 

ماضی قریب میں امریکا کی پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے حوالے سے’’ہم کوئی غلام ہیں‘‘ کا نعرہ بلند کرنے والی تحریک انصاف کے رہنما کے اس متنازع بیان پر پارٹی کے کچھ دوسرے رہنماوں نے فاصلہ اختیار کیا اور اُسے رد کیا لیکن چند دن بعد ہی عمران خان کے حوالے سے یہ بیان سامنے آ گیا کہ تحریک انصاف کے بانی چیئرمین آئی ایم ایف کو پاکستان میں الیکشن میں دھاندلی کے متعلق خط لکھ رہے ہیں جس میں پاکستان کیلئے آئی ایم ایف پروگرام کو الیکشن کے آڈٹ سےمشروط کرنے کا کہا جائے گا تا کہ جو حکومت بننے جا رہی ہے اُسے قرضہ نہ دیا جائے۔ اس بیان پر شور اُٹھا اور امید پیدا ہوئی کہ ہو سکتا ہے خان صاحب کو سمجھایا جائے کہ وہ ایسا نہ کریں کیوں کہ یہ پاکستان اور عوام کے مفاد میں نہیں۔ آئی ایم ایف پروگرام کو سبوتاژ کرنے کا مطلب پاکستان کو ڈیفالٹ کی طرف دھکیلنا ہے جس کے نتیجے میں ملک کے حالات نہ صرف بہت خراب ہو سکتے ہیں بلکہ پاکستان اور عوام کیلئے معاشی مشکلات اتنی بڑھ جائیں گی کہ جن کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ 

لیکن خان صاحب نہ سمجھے اور اُنہوں نے اخبار نویسوں سے بات کر کے خود تصدیق کی کہ اُنہوں نے آئی ایم ایف کو خط لکھ دیا۔ امید نہیں کہ آئی ایم ایف اس خط کو کوئی اہمیت دے گا لیکن خان صاحب نے جو کیا اُس سے ایک بار پھر وہ اور اُن کا طرز سیاست بُری طرح ایکسپوز ہو گئے۔ ماضی میں بھی پی ڈی ایم کی حکومت کے دوران خان صاحب کی مبینہ ہدایت پر آئی ایم ایف پروگرام کو سبوتاژ کرنے کو کوشش کی گئی تھی اور اس سلسلے میں ایک آڈیو لیک بھی سامنے آئی تھی جس میں شوکت ترین تحریک انصاف کی اُس وقت کی پنجاب اور خیبرپختونخوا حکومتوں کے وزرائےخزانہ کو فون کر کے ہدایت جاری کر رہے تھے کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے برخلاف وفاقی حکومت کو خط لکھے جائیں اور ان خطوط کو آئی ایم ایف کو لیک کر دیا جائے تاکہ پاکستان کو قرضہ نہ ملے۔ 

بظاہر مقصد اُس وقت بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے کہ عمران خان اور تحریک انصاف کی حکومت کے حصول کیلئے کچھ بھی کرنا پڑے تو کردینا چاہیے، چاہے اُس کا نقصان پاکستان اور عوام کو ہی کیوں نہ ہو۔ کچھ عرصہ قبل 9 مئی کے کریک ڈاون کے بعد امریکا میں مقیم تحریک انصاف کے ذمہ داروں کی طرف سے امریکا کے سیاستدانوں کو خط لکھے گئے اور امریکی انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا کہ پاکستان پر دباو ڈالنے کیلئے اُس کی فوجی امداد کو بند کر دیا جائے جس پر کافی تنقید ہوئی۔ اپنی گرفتاری سے قبل تحریک انصاف کو ’’ہم کوئی غلام ہیں‘‘ کا بیانیہ دینے والے عمران خان خود بھی امریکی سیاسی رہنماوں سے پاکستان پر دباو ڈالنےکیلئے بات کرتے رہے۔ 

وہ سب کچھ جو عمران خان اور تحریک انصاف نے کیا اگر یہ کوئی اُن کا مخالف رہنما یا سیاسی جماعت کرتی تو خان صاحب اور اُن کی پارٹی، اُن کے بارے میں کیا کہتے؟ پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سب سے بڑے رہنماہونے کے باعث عمران خان کو اپنے آپ کو بدلنا چاہئے، اپنے ماضی سے سبق سیکھنا چاہئے، عوام کی خاطر، پاکستان کی خاطر۔ لیکن لگتا ہے خان صاحب نے سبق نہیں سیکھا!


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔