27 مارچ ، 2025
امریکا کے اٹلانٹک میگزین نے یمن سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کےجنگی منصوبے کی مزید تفصیلات جاری کردیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کے سینیئر ترین اہلکاروں نے گزشتہ دنوں اس امریکی میگزین کے ایڈیٹر ان چیف جیفری گولڈ برگ کو غلطی سے اس گروپ میں شامل کرلیا تھا جسے حوثی پی سی اسمال گروپ کا نام دیا گیا تھا۔
جیفری گولڈبرگ نے دعویٰ کیا تھا کہ دنیا کو تو یمن پر امریکی بمباری کا 15 مارچ کو امریکا کے ایسٹرن ٹائم 2 بجے دوپہر معلوم ہوا تاہم انہیں یہ اطلاع 2 گھنٹے پہلے ہی مل گئی تھی کہ ممکنہ طورپر حملے کیے جارہے ہیں۔
اٹلانٹک میگزین کا کہنا ہے کہ منصوبے کی پہلی قسط جاری کیے جانے کے بعد ایک صحافی نے وزیردفاع پیٹ ہیگسیتھ سے پوچھا تھا کہ آخر انہوں نے یمن کے خلاف جنگ کا منصوبہ سگنل میسیجنگ ایپ پرکیوں شیئر کیا تو انہوں نے جواب میں دعویٰ کیا تھا کہ کوئی بھی شخص اس میں جنگی منصوبے پرپیغامات نہیں بھیج رہا تھا۔
سگنل گروپ میں کوئی بھی خفیہ معلومات شیئر نہیں کی گئی
ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس تُلسی گیبارڈ اور سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلیف سینیٹ انٹیلی جنس کمیٹی کےسامنے پیش ہوئے تو گیبارڈ نے کہا کہ سگنل گروپ میں کوئی بھی خفیہ معلومات شیئر نہیں کی گئی جبکہ ریٹکلیف نے کہا کہ ان کی تمام ترچیٹ جائز اور قانونی تھی اوراس میں خفیہ معلومات شامل نہیں تھی اور صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا تو انہوں نے بھی اصرار کیا کہ یہ خفیہ معلومات نہیں تھی۔
میگزین کے مطابق جو معلومات سگنل گروپ میں شئیر کی گئیں، انہوں نے اس میں سے ہتھیاروں اورحملوں کے وقت سے متعلق بعض معلومات کو روک لیا تھا کیونکہ فوجی آپریشنز سے متعلق معلومات شائع کیے جانے سے امریکی فوجیوں کی جان کو خطرات لاحق ہوسکتے تھے۔
میگزین کے مطابق ہیگسیتھ، گیبارڈ، ریٹکلیف اور ٹرمپ کے بیانات کو اگر انتظامیہ کے بہت سے دیگر افسروں کے دعوؤں سے ملایا جائے کہ اٹلانٹک میگزین مذکورہ چیٹ کے مواد سے متعلق جھوٹ بول رہا ہے تو اس سے ادارہ اس نتیجے پر پہنچا کہ لوگوں کو وہ مواد خود دیکھ کرفیصلہ کرلینا چاہیے۔
اٹلانٹک میگزین کے مطابق ایڈیٹران چیف کو یمن پرحملوں کی اطلاع اہداف نشانہ بنائے جانے سے 2 گھنٹے پہلے مل گئی تھی۔ اگر یہ معلومات بالخصوص امریکی طیاروں کے یمن کی جانب پرواز کرنے کی اطلاع غلط ہاتھوں میں چلی جاتی تو امریکی پائلٹوں اور دیگر اہلکاروں کو کہیں زیادہ خطرات لاحق ہوسکتے تھے۔
حساس معلومات گروپ پر شیئر کرنا قومی سلامتی کیلئے خطرہ ہے
اسی لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی حساس معلومات سگنل چیٹ پر شیئر کرنا قومی سلامتی کیلئے خطرہ ہے۔
اٹلانٹک میگزین کے مطابق اس نے ٹرمپ انتظامیہ میں سی آئی اے، ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس کے دفتر، نیشنل سکیورٹی کونسل، محکمہ دفاع اور وائٹ ہاؤس سے اجازت مانگی کہ انہیں اعتراض تو نہیں ہوگا اگر ادارہ سگنل چیٹ کا تمام ترمواد شائع کردے؟ اس پر ان میں سے زیادہ تر جواب دینے میں ناکام رہے ۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکررٹری کیرولائن لیویٹ نے ای میل پرجواب دیا کہ گروپ پرخفیہ معلومات شئیر نہیں کی گئی تھی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اس بات کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ بات چیت عوام کیلئے جاری کردی جائے۔ اس میں حساس معلومات پر بات کی گئی تھی اور ہمیں اسے جاری کیے جانے پر اعتراض ہے۔
میگزین کے مطابق سی آئی اے کے ایک ترجمان نے مطالبہ کیا کہ جان ریٹکلیف کے اس چیف آف اسٹاف کا نام جاری نہ کیا جائے جو کہ ریٹکلیف نے سگنل گروپ میں لیا تھا۔
اس تناظر میں اٹلانٹک میگزین نے حملوں کی مزید تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ 15 مارچ یعنی حملے کے روز سگنل گروپ میں آپریشنل امور پر بھی بات ہوئی تھی۔
ایسٹرن ٹائم 11 بج کر 44 منٹ پر ہیگسیتھ نے لکھا کہ ٹیم اپ ڈیٹ، موسم موافق ہے۔ سینٹ کام سے تصدیق کرلی، ہم مشن لانچ کرنے جارہے ہیں، سینٹ کام یا سینٹرل کمانڈ مشرق وسطی میں فوج کی لڑاکا کمانڈ ہے۔
12 بج کر 15 منٹ پر لکھا کہ ایف 18 طیاروں نے پہلا حملہ کر دیا۔ایک بج کر 45 منٹ پر لکھا کہ ٹریگر بیسڈ ایف 18 کا پہلا حملہ شروع ہوگیا۔ ہدف دہشت گرد اپنے مقام پر ہے، اسٹرائیک ڈرونز ایم کیو نائن لانچ کردیے گئے ہیں۔
میگزین کے مطابق یہ سب امریکا کے پہلے جنگی جہاز کو لانچ کیے جانے سے 31 منٹ پہلے اور بنیادی حوثی ہدف کو قتل کیے جانے سے 2 گھنٹہ ایک منٹ پہلے بتایا جارہا تھا۔اگر یہ معلومات کسی غیرجانبدار شخص کومل جاتی جس کی رسائی سوشل میڈیا تک ہوتی تو حوثیوں کو امریکا کے اچانک کیے جانے والے حملے سے بچنے کی تیاری کا موقع ملا جاتا اور امریکی پائلٹوں کیلیے تباہ کن اثرات ہوتے۔
میگزین نے بتایا کہ ہیگسیتھ نے 2 بج کر 10 منٹ پر لکھا کہ مزید ایف 18 طیارے لانچ کردیے گئے ہیں جو کہ دوسرا حملہ تھا۔2 بج کر 15 منٹ پر لکھا کہ اسٹرائیک ڈرونز ہدف پر پہنچ گئے ہیں۔3 بج کر 36 منٹ پر لکھا کہ طیاروں سے دوسرا حملہ شروع کردیا گیا ہے اور سمندر سے پہلا ٹام ہاکس بھی لانچ کردیا گیا ہے۔مزید حملے بھی کیے جائیں گے۔آپریشنل سکیورٹی ہے۔ ہمارے جنگجوکامیاب ہوں۔
اس کے فوری بعد نائب صدر جے ڈی وینس نے ٹیکسٹ کیا کہ میں فتح کیلئے دعاکروں گا۔
دوپہر ایک بج کر 48 منٹ پر والز نے خفیہ معلومات براہ راست شیئر کرتے ہوئے ممکنہ طور پر صنعا پر حملے کے بارے میں لکھا کہ نائب صدر عمارت تباہ ہوگئی۔ اس میں کئی اہم افراد تھے۔ وزیردفاع، جنرل مائیکل کوریلا، انٹیلی جنس کمیونٹی کو مخاطب کرتے ہوئے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ شاندار کام کیا گیا ہے۔
6 منٹ بعد نائب صدر نے بظاہر تذبذب کی حالت میں پوچھا کہ کیا؟ جس پر 2 بجے والز نے جواب دیا کہ پہلا ہدف جو کہ حوثیوں کے میزائل سے متعلق شخص ہے،ہمارے پاس شناختی ثبوت ہے کہ وہ اپنی دوست کی عمارت میں داخل ہو رہا تھا کہ عمارت تباہ ہوگئی ہے۔
جے ڈی وینس نے ایک منٹ بعد لکھا، شاندار۔35 منٹ بعد سی آئی اے ڈائریکٹر نے لکھا کہ اچھا آغاز ہوا ہے، یمن کی وزارت صحت نے ان حملوں میں 53 افراد مارے جانے کی تصدیق کی تھی۔
اسی دوپہر ہیگسیتھ نے لکھا کہ سینٹ کام کی نظرہدف پر ہے۔سب نے اعلیٰ کام کیا ہے، رات کو بھی کئی گھنٹے تک حملے جاری رکھے جائیں گے اورابتدائی رپورٹ اگلے روز جاری کی جائے گی۔
اٹلانٹک میگزین کے مطابق یہ اب تک واضح نہیں کہ سگنل گروپ میں ایک صحافی کو شامل کیوں کیا گیا؟ والز جنہوں نے سگنل چیٹ میں گولڈ برگ کو شامل کیا تھا وہ خود اس بات کی تحقیقات کررہے ہیں کہ گولڈبرگ کو اس گروپ میں شامل کیسے کرلیا گیا؟