29 مارچ ، 2025
خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں 6 ماہ کے کشیدہ حالات، سڑکوں کی بندش اور خوراک کی قلت کے بعد بالآخر امن معاہدہ ہوگیا۔
جرگے کے مطابق فریقین نے آٹھ ماہ کے لیے امن معاہدے پر اتفاق کرلیا ہے جس کے بعد ٹل سے پاڑاچنار مرکزی شاہراہ اور پاک افغان شاہراہ کھولنے سمیت قیامِ امن کے لیے لائحہ عمل تیار کیا جا رہا ہے۔
جرگے کے فیصلے کے مطابق جو بھی فریق معاہدے کی خلاف ورزی کرے گا اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
امن معاہدے کے لیے ہونے والے جرگے میں فریقین کے عمائدین، ضلعی انتظامیہ اور دیگر حکام شریک ہوئے۔ ڈپٹی کمشنر ضلع کرم اشفاق احمد کا کہنا ہے کہ قبائلی عمائدین قیامِ امن میں بھی حکومت کے ساتھ تعاون کریں تاکہ جلد دیرپا امن قائم ہو سکے۔
ان کا کہنا تھاکہ فریقین میں امن معاہدہ ہونے سے عید کی خوشیاں دوبالاہوگئیں۔
خیال رہے کہ ضلع کرم میں فائرنگ کے واقعات اور جھڑپوں کے باعث تقریباً 6 ماہ سے شاہراہیں بند ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کو اشیائے خورونوش، دوائيں اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیا کی قلت کا سامنا ہے۔
فریقین میں فائرنگ کے واقعات میں اب تک متعدد افراد جان سے جاچکے ہيں۔