03 اپریل ، 2025
موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں موسم گرما میں درجہ حرارت بڑھنے سے ایسی ٹیکنالوجیز کی طلب بڑھ گئی ہے جو ماحول دوست طریقے سے بجلی کی فراہمی کو یقینی بناسکے۔
اب سائنسدانوں نے ایسی ٹرانسپیرنٹ ونڈو یا کھڑکی تیار کی ہے جو سورج کی روشنی کو بجلی میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
جی ہاں واقعی ڈنمارک سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے ایک نئی کھڑکی تیار کی ہے جو سورج کی روشنی کو اس وقت بجلی میں تبدیل کر دیتی ہے جب روشنی اس کے آر پار ہوتی ہے۔
یہ بنیادی طور پر ٹرانسپیرنٹ سولر سویل ٹیکنالوجی پر مبنی کھڑکی ہے جو بلند و بالا عمارات اور دفاتر کو ہی ماحول دوست پاور پلانٹس میں تبدیل کر دے گی۔
سٹی سولر نامی پراجیکٹ کے تحت اس کھڑکی کی تیاری پر کام کیا گیا جس کا مقصد 2050 تک تمام نئی عمارات کو ماحول دوست توانائی سے لیس کرنا ہے۔
سدرن ڈنمارک یونیورسٹی کے محققین نے آرگنیک سولر سیلز کو perovskite نامی میٹریل سے ملا دیا جس کی افادیت روایتی سولر سیلز جتنی 12.3 فیصد ثابت ہوئی۔
تحقیقی ٹیم کے مطابق یہ پینلز 30 فیصد تک ٹرانسپیرنٹ ہیں۔
اس سے قبل بھی اس طرح کے ٹرانسپیرنٹ سولر سیلز پر مبنی کھڑکیوں پر کام ہوا ہے مگر وہ سورج کی روشی کی توانائی کو جذب کرکے اتنی بجلی پیدا کرنے میں ناکام رہی جو کسی عمارت کی ضرورت کے لیے کافی ہو۔
مگر سٹی سولر پراجیکٹ کے مطابق انہوں نے ان مسائل پر قابو پالیا ہے۔
تحقیقی ٹیم کے مطابق ٹرانسپیرنٹ سولر سیلز توانائی کے حصول کے لیے ایک بڑا قدم ثابت ہوں گے۔
سائنسدانوں نے بتایا کہ بڑے شیشوں پر مشتمل کھڑکیوں کا استعمال موجودہ عہد کی دفتری عمارات میں عام ہوتا ہے اور اب انہیں توانائی کے حصول کے لیے بھی استعمال کیا جاسکے گا جس کے لیے اضافی جگہ یا عمارت کی ساخت میں کسی قسم کی تبدیلی کی ضرورت بھی نہیں ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ ان سیلز کے لیے جن میٹریلز کا استعمال کیا جا رہا ہے وہ بہت سستے ہیں اور انہیں بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔
ابھی اس پر کام جاری ہے تو یہ سولر کھڑکیاں کب تک عام افراد کے لیے دستیاب ہوں گی اس بارے میں ابھی کچھ کہنا مشکل ہے۔