Time 04 اپریل ، 2025
سائنس و ٹیکنالوجی

سائنسدانوں نے دنیا کا سب سے چھوٹا پیس میکر تیار کرلیا

سائنسدانوں نے دنیا کا سب سے چھوٹا پیس میکر تیار کرلیا
یہ دنیا کا سب سے چھوٹا پیس میکر ہے / فوٹو بشکریہ نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی

سائنسدانوں نے امراض قلب کے شکار افراد کے لیے دنیا کا سب سے چھوٹا پیس میکر تیار کیا ہے۔

یہ اتنا چھوٹا ہے کہ کسی سرنج کے سرے کے اندر بھی فٹ ہوسکتا ہے۔

یعنی اسے انجیکشن کے ذریعے بھی جسم کے اندر داخل کیا جاسکتا ہے اور مریضوں کو تکلیف دہ طویل سرجری کی ضرورت نہیں ہوگی۔

امریکا کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے ماہرین نے اس پیس میکر کو تیار کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ جسم میں کچھ عرصے رہنے کے بعد خون میں تحلیل ہو جاتا ہے تو یہ ایک عارضی حل ہے۔

اسے ایسے مریضوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جن کے دل کو مختصر المدت کے لیے مدد کی ضرورت ہوتی ہے، جیسے دل کے مسائل کے شکار نومولود بچے۔

مگر اسے ہر عمر کے افراد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اسے روشنی سے توانائی ملتی ہے جو کہ زیادہ متاثر کن پیشرفت ہے۔

اس پیس میکر کو ایسی وائرلیس وئیر ایبل ڈیوائس سے منسلک کیا جاسکتا ہے جو مریض کے سینے پر لگائی جاسکتی ہے۔

جب اس چھوٹی ڈیوائس کو دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی کا علم ہوتا ہے تو اس پر ایک لائٹ چمکنے لگتی ہے جس سے پیس میکر متحرک ہو جاتا ہے۔

ڈیوائس کی روشنی مریض کی جِلد، ہڈیوں اور مسلز سے گزرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اگرچہ یہ پیس میکر بہت چھوٹا ہے اور اس کی موٹائی ایک ملی میٹر کے قریب ہے مگر یہ کسی بڑے پیس میکر جتنا ہی کام کرسکتا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق اس ڈیوائس کے جانوروں اور انسانوں پر تجربات کامیاب رہے جبکہ ان کا کہنا تھا کہ اس کی تیاری کا بنیادی مقصد دل کے نقص کے شکار نومولود بچوں کے علاج میں مدد فراہم کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں ایک فیصد بچوں کی پیدائش دل میں نقص کے ساتھ ہوتی ہے اور سرجری کے 7 دن بعد ان بچوں کے دل خودکار طور پر ٹھیک ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مگر یہ 7 دن بہت زیادہ اہم ہوتے ہیں، اب ہم اس ننھے پیس میکر کو بچوں کے دلوں تک پہنچا کر اس سے منسلک ڈیوائس کو متحرک کرسکتے ہیں اور پیس میکر کو نکالنے کے لیے اضافی سرجری کی بھی ضرورت نہیں۔

اس ڈیوائس کے حوالے سے تحقیق کے نتائج جرنل نیچر میں شائع ہوئے۔

مزید خبریں :