20 اپریل ، 2014
ڈیلس …راجہ زاہد اختر خانزادہ/ نمائندہ خصوصی… بین الاقوامی سطح پر خواتین کو نسلی امتیاز کی بنیاد پر درپیش مسائل اور ایک منصوبہ بندی کے تحت خواتین کی نسل کشی کے اقدامات کو روکنے کیلئے امریکامیں قائم فلاحی تنظیم جینڈر سائیڈ اویرنیس پروجیکٹ کی بانی اور صدر بیورلی ہل کا کہنا ہے کہ خواتین کو دنیا بھر میں نسل کشی کا سامنا ہے جبکہ چین اس فہرست میں سب سے آگے ہے اور بھارت دوسرے نمبر پر ہے۔ ڈیلس میں ساؤتھ ایشیا ڈیموکریسی واچ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ساتھ ہونے والے ایک اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے بیورلی ہل کا کہنا تھا کہ ساؤتھ ایشین ممالک کی اکثریت میں یہ مسائل ہیں جبکہ ترقی یافتہ ممالک بھی اس ضمن میں پیچھے نہیں ہیں جس کیلئے ضرورت اس اَمر کی ہے کہ ہم عوام میں اس سے متعلق شعور اْجاگر کریں تاکہ ان مسائل پر قابو پایا جا سکے۔ انہوں نے کہاکہ یہ کام ایک دن یا چند سالوں میں نہیں ہو گا بلکہ اس کیلئے 100 سال سے زائد کا عرصہ درکار ہے اور ابھی سے اس کیلئے اگر کوششیں نہ کی گئیں تو صورتحال مزید ابتر ہوتی چلی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ فطری طور پر بھی جہاں مردوں کی پیدائش ہوتی ہے وہاں عورتوں کی بھی پیدائش ہوتی ہے اور قدرت کا جو نظام بنایا گیا ہے اْس کے مطابق مردوں کی نسل عورتوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے جو کہ 105 مردوں کے مقابلے میں 107 عورتوں کی ہوتی ہے جس میں تھوڑی بہت کمی بیشی دیکھی گئی ہے۔ انہوں نے اعداد و شمار بتاتے ہوئے کہاکہ ہر سال 2 ملین لڑکیوں کو پیدائش سے قبل ہی ابارش کر کے دنیا میں آنے سے پلے ہی فارغ کر دیا جاتا ہے انہوں نے کہاکہ پہلی عالمی جنگ میں 20 ملین جبکہ ایڈز سے 25 ملین اور دوسری عالمی جنگ میں 70 ملین لوگ لقمہ اجل بنے تاہم اب تک خواتین کی نسل کشی کے تحت 117 ملین لڑکیوں اور خواتین کو لقمہ اجل بننا پڑا جو کہ ہمارے لئے حیرت کا باعث ہے۔ انہوں نے کہاکہ چین میں 10 فیصد‘ بھارت اور افغانستان میں سات سات فیصد خواتین کی نسل کشی (Missiy) کی گئی انہوں نے کہاکہ اْس میں وہ اعداد و شمار بھی ہیں جن کے تحت حاملہ خواتین ڈلیوری کے دوران طبی سہولیات کی عدم فراہمی کے باعث لقمہ اجل بنیں جس میں افغانستان سرفہرست ہے۔ انہوں نے کہاکہ افغانستان میں کم عمر لڑکیوں کی شایاں اور ان کے ماں بننے کی وجہ سے یہ اموات واقع ہوئیں انہوں نے کہاکہ اس مسئلہ کو بین الاقوامی سطح پر اْجاگر کرنے کیلئے ایک ایگزی بیشن کے اہتمام کا پروگرام ہے جس میں 117 ملین بچیوں کے جوتے مختلف ممالک سے جمع کئے جا رہے ہیں تاکہ اس نمائش کے تحت اس بات کا احساس اْجاگر کیا جا سکے کہ کتنی خواتین اب تک دنیا بھر سے Missiy ہو گئی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بعض جگہوں پر مردوں کو اثاثہ جبکہ لڑکیوں کو بوجھ تصور کیا جاتا ہے انہوں نے کہاکہ وہ اس ضمن میں یو این او کو بھی اس مسئلہ کی اہمیت سے آگاہ کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے تمام ممالک میں قانون موجود ہیں مگر اْس پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہاکہ ساؤتھ ایشیا ڈیموکریسی واچ کی جانب سے جینڈر سائیڈ پروجیکٹ کی مدد اس کام میں سنگ میل ثابت ہو گی۔ اس موقع پر بورڈ کے صدر ڈاکٹر قیصر عباس‘ اراکین سید فیاض حسن‘ آفتاب صدیقی‘ راجہ زاہد اختر خانزادہ‘ مظفر کشمیری‘ سراج بٹ‘ اٹارنی توصیف کمال اور دیگر نے جینڈر سائیڈ کو اپنی جانب سے بھرپور مدد و تعاون کا یقین دلایا اور کہاکہ ساؤتھ ایشیا ڈیموکریسی واچ اس کام میں جینڈر سائیڈ پروجیکٹ کا بھرپور ساتھ دے گی اور آئندہ آنے والی نمائش میں بھی اس پروگرام اور نمائش کو اسپانسر کرے گی۔