28 مئی ، 2014
کراچی…ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے رکن سیدحیدرعباس رضوی نے گذشتہ دودنوں سے سندھ بھرکی جامعات میں اساتذاکی نمائندہ تنظیمFAPUASAفیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن کی جانب سے کی جانے والی ہڑتال اورتالابندی پرشدیدتشویش کااظہارکرتے ہوئے کہاہے کہ حکومت سندھ اورخاص طورپروزیراعلیٰ کو سندھ صوبے کی تمام جامعات کی خودمختاری کویقینی بناناچاہئے ناکہ دیگر انتظامی محکمہ جات کی طرح اپناسیاسی وحکومتی اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے صوبہ کی تمام جامعات کی خود مختاری کوپامال کرنے کی مذموم سازش نہ کی جائے۔حکومت کے اس عمل سے ایک طرف توسندھ بھرکی جامعات میں اساتذاشدیدبے چینی کاشکارہیں جبکہ دوسری طرف تمام جامعات کاتعلیمی ماحول اورسلسلہ ِ درس وتدریس بری طرح متاثرہورہاہے اورایم کیوایم سندھ بھرکی جامعات کوانتظامی سطح پرہرقسم کے سیاسی وانتظامی اثروروسوخ سے آزاد دیکھنا چاہتی ہے تاکہ سندھ کے طلبہ وطالبات اہلیت کی بنیادپرایک بہترتعلیمی ماحول میںآ گے بڑھ سکیں، اپنے بیان میں حیدر عباس رضوی نے وزیراعلیٰ سندھ کویہ باورکرایاکہ سندھ یونیورسٹی ایکٹ2013ء کی ایم کیوایم کے اراکین سندھ اسمبلی نے بھرپورمخالفت کی تھی اور ایکٹ2013ء انتہائی عجلت میں ایم کیوایم کے ارکان اسمبلی کی آوازکوعددی اکثریت کے بل بوتے پردباکرپاس کیاگیاتھااوراسی وقت سے سندھ یونیورسٹی ایکٹ2013ء کے حوالے سے شکوک وشبہات نے سراٹھاناشروع کردیاتھااورایسا واضح طورپردکھائی دے رہاتھاکہ اب سندھ کی جامعات بھی دیگرمحکمہ جات کی طرح سیاسی وحکومتی اثرورسوخ کی زدپرآچکی ہیں۔ایم کیوایم کے ارکان اسمبلی نے اسی دن یہ بات ریکارڈکاحصہ بنادی تھی کہ اگرسندھ یونیورسٹی ایکٹ2013ء اپنی موجودہ شکل میں سندھ کی جامعات پردھوپنے کی کوشش کی گئی توسندھ کی سیاست پراس کے دوررس اثرات رونما ہونگے اورایم کیوایم کے ارکان سندھ اسمبلی ،صوبے کی جامعات میں تعلیمی قتل عام کوکسی طوربھی برداشت نہیں کرینگے،انھوں نے وزیراعلیٰ سندھ سے مطالبہ کیاکہ FAPUASA سے کئے گئے تمام حکومتی وعدوں پرفی الفورعمل درآمدکویقینی بنایاجائے۔اورFAPUASA کی جانب سے ایکٹ میں پیش کی گئی ترامیم کوفی الفورسندھ یونیورسٹی ایکٹ کاحصہ بنایاجائے اوراس ضمن میں فوری اجلاس بلاکرضروری قانون سازی کومکمل کیاجائے۔حکومت کی جانب سے سندھ بھرکی جامعات کے لئے مختلف اہم آسامیوں جس میں وائس چانسلر،رجسٹرار،کنٹرول آف ایگزم نیشن اورڈائریکٹر فنانس کی آسامیوں کے لئے درخواست طلب کی گئی ہے وہ یونیورسٹی کوڈکے خلاف اور جامعات کی خودمختاری پرایک کاری ضرب کے مترادف ہے۔حیدرعباس رضوی نے اپنے بیان کے آخرمیں کہاکہ کل سندھ بھرکی جامعات سے آنے والے اساتذاوزیراعلیٰ ہاؤس پراحتجاج کرینگے اگران تمام مطالبات کومنظورنہ کیاگیاتوکہیں ایسا نہ ہوکہ اساتذاکی جانب سے کیاجانے والایہ احتجاج عوامی نوعیت اختیارکرلے۔