29 مئی ، 2014
کراچی…حق پرست ارکان سندھ اسمبلی نے کراچی کو فراہمی آب کے منصوبے K-IVپر وفاقی و صوبائی حکومت کی عدم توجہی اور بے حسی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے کراچی کے عوام کے ساتھ زیادتی کے مترادف قرار دیا ہے ۔ حق پرست ارکان سندھ اسمبلی نے کہاکہ پانی انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے جس کے بغیر زندگی کا تصور نا ممکن ہے اور موجو دہ دنوں میں ملک بھر میں گرمی کی شدید لہر کے باعث قلت آب کے سبب عوام کا جینا محال ہوگیا ہے اور پانی کا سنگین بحران شہریوں کے لیے اذیت کا سبب بن رہا ہے اور شہر کے مختلف علاقوں کے عوام واٹر ٹینکر مافیا سے مہنگے اور منہ مانگے داموں پانی خریدنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ کے۔فور منصوبے کے تحت میگا سٹی کراچی کو 60کروڑ گیلن پانی یومیہ فراہم کیا جاسکتا ہے لیکن وفاقی حکو مت کی جانب سے کے ۔فور منصوبے کی تکمیل میں غیر سنجیدگی نظر آرہی ہے اور ملک کے معاشی حب کے باشندوں کے ساتھ حکومت وقت کی جانب سے رواں یہ سوتیلے پن کا رویہ انتہائی غیر مہذب ہے۔حق پرست ارکان اسمبلی نے وزیر اعظم نواز شر یف ، وزیر اعلیٰ سندھ اور متعلقہ وفاقی و صوبائی وزرا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کراچی میں پانی کی شدید قلت کا نوٹس لیتے ہوئے شہر میں کے ۔فور منصوبے سمیت دیگر ضروری اقدامات کرکے شہر کو ضروری مقدار میں پانی فراہم کرنے کیلئے ترجیحی بنیادوں پرکام کریں اور کراچی کے عوام کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں اور زیادتیوں کا فی الفور خاتمہ ممکن بنائیں ۔دریں اثناء حق پرست رکن سندھ اسمبلی نائلہ منیر نے پیر الٰہی بخش کالونی میں واقع انٹر میڈیٹ کے امتحانات کے قائم امتحانی مراکز گورنمنٹ ڈگری گرلز کالج اور آغا خان گرلزکالج کا دورہ کیااور پرنسپلز سے ملاقات کی اوران کے ہمراہ امتحانی مراکز کے مختلف کمروں کا دورہ کیا اور اساتذہ سے ملاقات کی اور امتحانات کے دوران نقل کی روک تھام کے لئے کئے جانیوالے اقدامات کا جائزہ لیا،اور کہاکہ وہ نقل کے رجحان کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے محنت اور لگن کے ساتھ تعلیم پر مکمل توجہ دیں ۔