پاکستان جیت گیا، دشمن ہار گیا

Blog Updated On 6 March 2017 Written By Muhammad Zabir Saeed Badar

لاہور کے بارے میں کہا جاتا ہے ' کہ ’نہیں ریساں شہر لاہور دیاں‘اور پاکستان سپر لیگ کے فائنل کے موقع پر یہ ثابت بھی ہو گیا۔یوں تو سارا پاکستان ہی اس فائنل کا منتظر تھا لیکن اونچے برجوں والے شہر لاہور کو تو اس ایونٹ کی میزبانی کا شرف حاصل تھا۔

سارا شہر کسی دلہن کی طرح سجایا گیا تھا۔ پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر اورسارے پاکستان کی نظریں زندہ دلان لاہور کے جوش و خروش اور عزم و حوصلے پر تھیں۔

پاکستان سپر لیگ کا فائنل لاہور میں ہو گا" یہ اعلان ہونے کی دیر تھی کہ پاکستان کے چند کوتاہ بین سیاست دانوں نے گویا اس کو زندگی اور موت کا مسئلہ بناتے ہوئے پوائنٹ اسکورنگ شروع کر دی اور اس معاملے کو بھی آلودہ کرنے کی کوشش کی جس کو لاہوریوں نے اپنی روایتی زندہ دلی سے ناکام بنا دیا اور ’سوشل میڈیائی دانشوروں‘ کی دانش کو کلین بولڈ کرتے ہوئے ٹکٹیں بھی خریدیں اور گھروں میں لاہوری کھابوں کےپروگرام بھی بنا ڈالے۔

اس لیے تو کہا جاتا ہےکہ"کیا بات ہے لاہور کی۔۔ یا۔۔’’نہیں ریساں شہر لاہور دیاں‘ ۔قذافی اسٹیڈیم میں ہزاروں افراد کے ساتھ ساتھ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف سمیت بہت سی شخصیات موجود تھیںجن میں نجم سیٹھی ،چیئرمین پی سی بی شہریار خان،ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور، آئی جی پولیس مشتاق احمد سکھیرا،گورنر خیبرپختونخوا اقبال ظفر جھگڑا، مریم اورنگزیب، خواجہ سعد رفیق، رانا ثناء اللہ، ریاض پیرزادہ، ریحام خان اور دیگر شامل ہیں۔

گزشتہ روز ویسے بھی اتوار کی وجہ سے چھٹی کا دن تھا۔’سوشل میڈیائی خبروں‘ کے مطابق تو لاہور میں گویا کرفیو لگا دیا گیا تھا ۔سارے شہر کو سیل کر دیا گیا تھا لیکن حقیقت اس سے بالکل مختلف تھی۔سارا دن گلی محلوں میں لڑکے کرکٹ فیور میں مبتلا رہے اور پشاور زلمی یا کوئٹہ گلیڈی ایٹرز بنے میچز کھیلتے رہےجن کے پاس ٹکٹ تھے وہ شام ہونے کے بےچینی سے منتظر رہے۔

لاہور سارا دن اور فائنل کے دوران بھی کھلا رہا البتہ مشکوک افراد کی چیکنگ ضرور کی جاتی رہی لیکن یہ بہت ضروری تھا۔لاہور پریس کلب میں بڑی اسکرین پر ممبرز اور ان کی فیملیز کے لیے میچ دکھانے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ہم نے پریس کلب میں میچ دیکھا۔

علامہ اقبال ٹاؤن سے پریس کلب جاتے ہوئے لاہور کی شاہراہیں،بازار، راستے اور عمارات رنگ برنگی روشنیوں سے منور تھیں۔ پورا شہر گویا قوس قزائی رنگوں سے سجا ہوا تھا۔مجھے یوں لگا کہ لاہور کو اپنی خوبصورتی اور زندہ دلی دیکھ کر شاہان مغلیہ کا دور یاد آ رہا ہو گا جب اسے روشنیوں کا شہر کہا جاتا تھا۔

پریس کلب سے واپسی پر سارا شہر پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج رہا تھا۔ہر آنکھ میں خوشی اور سرشاری کی چمک تھی۔ہم نے پاکستان کو للکارنے والے بزدل دشمن کو شکست دے دی کر دنیا پر ثابت کر دیا کہ پاکستان ہمیشہ قائم رہنے کے لئے بنا ہے۔ دشمن یہ جان لے کہ دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو شکست نہیں دے سکتی۔

اہل پاکستان کے ساتھ ساتھ لاہوریوں نے بھی اپنی شاندار روایات کو قائم رکھا اور کسی قسم کا ڈر اور خوف اپنے اوپر مسلط نہیں ہونے دیا ۔نہ صرف بے خوف وخطر اور جرات کے ساتھ اسٹیڈیم گئے بلکہ اپنے گھروں میں بھی اس میچ کو ایک تہوار کی طرح منایا۔

یہ ایک طرح سے حکومت اور جمہوریت پر عوامی اعتماد کا اظہار بھی ہے۔ سوشل میڈیائی دانشوروں کی ساری دانش گویا گھاس چرنے چلی گئی۔جلی کٹی پوسٹیں کر کے نہ جانے کیا ثابت کرنے کی کوشش میں لگے رہے۔

زندہ دلان لاہور نے ایسے تمام لوگوں کے منہ پر بھی زور کا طمانچہ رسید کیا ہے اور پاکستان بھر سے کروڑوں افراد نے اسلحے سے دہشت گردی پھیلانے والے ظالمان کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیائی دہشت گردوں کو بھی چاروں شانے چت کر دیا ہے۔

یہ ایک پیغام ہے ان تمام افراد کے لئے جو پاکستان میں کسی بھی حوالے سے مایوسی پھیلانا چاہتے ہیں لیکن شاید وہ نہیں جانتے۔