Can't connect right now! retry
Advertisement

دنیا
05 نومبر ، 2017

پاناما لیکس کے بعد ’پیراڈائز لیکس ‘کا تہلکہ


پاناما لیکس کے بعد تحقیقاتی صحافیوں کے بین الاقوامی کنسورشیم (آئی سی آئی جے) نے ’پیراڈائز لیکس‘ جاری کردی ہیں جن میں1 کروڑ 34 لاکھ سے زائد دستاویزات سامنے آئی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پیراڈائز لیکس میں 25 ہزار سے زائد کمپنیوں کا انکشاف کیا گیا ہے جبکہ لیکس کا بڑا حصہ کمپنی ایپل بائی کی دستاویزات پر مشتمل ہے۔

یہ دستاویزات سنگاپور اور برمودا کی دو کمپنیوں سے حاصل ہوئیں۔ پیرا ڈائز پیپرز جرمن اخبار نے حاصل کیے اور آئی سی آئی جے کے ساتھ شیئر کیے۔

دستاویزات میں 180 ممالک کی 25 ہزار سے زائد کمپنیاں، ٹرسٹ اور فنڈز کا ڈیٹا شامل ہے جبکہ ان پیپرز میں 1950 سے 2016 کا ڈیٹا موجود ہے۔

اس تحقیقاتی کاوش میں 67 ممالک کے 381 صحافیوں نے حصہ لیا جن میں آئی سی آئی جے کے رکن اور دی نیوز کے سینیر رپورٹر عمر چیمہ بھی شامل ہیں۔

پاکستان میں صرف جنگ گروپ انٹرنینشل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلزم سے وابستہ ہے۔

یہاں یہ بات واضح کی جاتی ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ ہر آف شور کمپنی غیرقانونی طور پر قائم کی گئی ہو۔

پیراڈائز لیکس میں پاکستانی نام

سابق وزیراعظم شوکت عزیز

پیراڈائز لیکس میں سابق وزیراعظم شوکت عزیز کا دو آف شور ٹرسٹ سے تعلق سامنے آ یا ہے۔

ایک ٹرسٹ میں سٹی بینک کی جانب سے ڈائریکٹر کے طور پر ان کا نام سامنے آیا ہے جبکہ شوکت عزیز نے انٹارکٹک ٹرسٹ کے نام سے دوسرا ٹرسٹ خود بنایا۔ ان کی اہلیہ اور بچے ٹرسٹ کے بینی فشری بنے۔

دستاویزات کے مطابق وزیر خزانہ بننے سے کچھ پہلے شوکت عزیز نے ڈیلاویر (امریکا) میں ٹرسٹ قائم کیا جسے برمودا سے چلایا جارہا تھا۔

پیراڈائز لیکس کے مطابق بطور وزیر خزانہ اور وزیراعظم شوکت عزیز نے کبھی یہ اثاثے ظاہر نہیں کیے۔

شوکت عزیز نے نیویارک سے اپنے وکیل کے ذریعے بتایا کہ انہیں ٹرسٹ پاکستان میں ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ وہ ’سیٹلر‘ (Settlor) تھے۔ ان کے مطابق ان کے بیوی بچوں کو بھی ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ وہ بینی فشری تھے، بینی فشل اونر نہیں۔

خیال رہے کہ شوکت عزیز 1999 میں شوکت عزیز وزیر خزانہ مقرر ہوئے جبکہ 28 اگست 2004 کو وزارتِ عظمٰی کا قلم دان سنبھالا اور 15 نومبر 2007 کو بطور وزیراعظم سبکدوش ہوئے۔

شوکت عزیز نے 1969 میں سٹی بینک میں شمولیت اختیار کی، 2007 کے بعد سے شوکت عزیز بیرون ملک مقیم ہیں۔

این آئی سی ایل کے سابق چیئرمین ایاز خان نیازی

ایاز خان نیازی کے برٹش ورجن آئی لینڈ میں چار آف شور اثاثے سامنے آئے ہیں۔ ان میں سے ایک اینڈالوشین ڈسکریشنری ٹرسٹ (Andalusian Discretionary Trust) نامی ٹرسٹ تھا۔ باقی تین کمپنیاں تھیں جن کے نام یہ تھے: اینڈالوشین اسٹیبلشمنٹ لیمیٹڈ، اینڈالوشین انٹرپرائسز لیمیٹڈ اور اینڈالوشین ہولڈنگز لمیٹیڈ (Andalusian Establishment Limited, Andalusian Enterprises Limited and Andalusian Holdings Limited)

ان سب کو 2010 میں اس وقت قائم کیا گیا تھا جب ایاز نیازی این آئی سی ایل کے چیئرمین تھے۔

ایاز نیازی کے دو بھائی حسین خان نیازی اور محمد علی خان نیازی بینی فشل اونر تھے جبکہ ایاز نیازی، ان کے والد عبدالرزاق خان اور والدہ فوزیہ رزاق نے بطور ڈائرکٹر کام کیا۔

شیرات آئل اینڈ گیس کمپنی

پاکستان سے شیرات آئل اینڈ گیس کمپنی کا نام بھی پیراڈائز لیکس میں سامنے آ یا ہے۔

تفصیلات کے مطابق شیرات آئل اینڈ گیس کمپنی کے تین آف شور اکاونٹس سامنے آئے ہیں۔

شیرات آئل اینڈ گیس کمپنی نےڈی ٹی ایچ لائسنس کے لیے بھی نیلامی کی بولی بھی دی تھی۔

بین الاقوامی نام

پیراڈائز پیپرز میں شامل سب سے بڑا بین الاقوامی نام برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوئم کا ہے۔ دستاویز کے مطابق ملکہ الزبتھ نے آف شور کمپنیوں میں کئی ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کی۔ دستاویز میں جن بین الاقوامی شخصیات کے نام آئے ہیں ان میں امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن، امریکی وزیر تجارت ولبر راس، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 13 قریبی ساتھی، کینیڈین وزیراعظم کے قریبی ساتھی و مشیران، اردن کی سابق ملکہ نور، یورپ میں نیٹو کے سابق کمانڈر ویزلے کلارک بھی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ مائیکروسافٹ، ای بے، فیس بک، نائیکی اور ایپل جیسی بڑی کمپنیوں کے حوالے سے بھی اہم انکشافات کیے گئے ہیں جبکہ گلوکارہ میڈونا اور پاپ سنگر بونو کی بھی آف شور کمپنیاں سامنے آئی ہیں۔

برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوئم

پیراڈائز پیپرز میں برطانیہ کی ملکہ الزبتھ کے حوالے سے یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ انہوں نے میڈیکل اور کنزیومر لون کے شعبے میں کام کرنے والی آف شور کمپنیوں میں کئی ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ دستاویز کے مطابق ملکہ برطانیہ کی ذاتی اسٹیٹ کمپنی ڈچی آف لنکاسٹر نے 2007 تک کے مین آئی لینڈز کے ایک فنڈ میں سرمایہ کاری کی جس نے آگے ایک پرائیوٹ ایکوئٹی کمپنی میں سرمایہ کاری کرتی تھی۔ یہ کمپنی غریب افراد کو ادھار پر گھریلو اشیاء فراہم کرتی تھی جس پر شرح سود 99.9 فیصد تک تھا۔

اردن کی سابق ملکہ نور

اس کے علاوہ اردن کی سابق ملکہ نور کا نام بھی سامنے آیا ہے جو جرسی نامی جزیرے میں دو ٹرسٹوں کی استفادہ کنندہ (بینیفیشری) کے طور پر سامنے آئی ہیں۔

سابق امریکی جنرل ویزلے کلارک

یورپ میں نیٹو کے سپریم کمانڈر رہنے والے سابق امریکی جنرل ویزلے کلارک بھی ایک آن لائن گیمبلنگ کمپنی کے ڈائریکٹر تھے اور اس کمپنی کی ذیلی آف شور کپمنیاں بھی ہیں۔

مائیکروسوفٹ کے شریک بانی پال ایلن

اس کے ساتھ ساتھ مائیکروسوفٹ کے شریک بانی پال ایلن اور ای بے کے بانی پائری اومیڈیار کا نام بھی سامنے آئے ہیں اور ان کی جانب سے بھی آف شور کمپنیوں میں سرمایہ کاری کا انکشاف ہوا ہے۔

معروف امریکی گلوکارہ میڈونا

معروف امریکی گلوکارہ میڈونا اور پاپ سنگر بونو نے بھی آف شور کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی۔

کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کے مشیر اسٹیفن برونفمین

اس کے علاوہ کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کے قریبی ساتھی اور مشیر اسٹیفن برونفمین کا نام بھی پیراڈائز پیپرز میں ہے جبکہ موجودہ امریکی وزیر تجارت ولبر راس نے بھی روسی بااثر شخصیات کے لیے کام کرنے والی ایک کمپنی سے مالی فائدے حاصل کیے۔ انہوں نے کے مین آئی لینڈز میں موجود متعدد کمپنیوں کے ذریعے نیویگیٹر ہولڈنگ نامی جہاز رانی کی کمپنی میں سرمایہ کاری کی۔

پیراڈائز پیپرز میں دنیا کی بڑی کمپنیوں کی جانب سے ٹیکس بچانے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کی تفصیلات بھی درج کی گئی ہیں۔ دستاویز کے مطابق فیس بک نے اربوں ڈالر کا منافع آئرلینڈ کے ذریعے ’کے مین‘ آئی لینڈ منتقل کیا جہاں ٹیکس شرح صفر فیصد ہے۔ فیس بک کچھ ملکوں میں اشتہارات سے ملنے والے منافع پر ٹیکس ادا نہیں کرتی۔

کھیلوں کی ملبوسات بنانے والی کمپنی نائیکی جیسی بڑی کمپنی نے ہالینڈ میں ایسا سیٹ اپ بنا رکھا ہے جس کے ذریعے یورپ اور مشرق وسطیٰ سے ملنے والے منافع کے بڑے حصے پر ٹیکس نہیں دینا پڑتا۔ اس خطے سے ملنے والا منافع تقریباً ساڑھے 8 ارب یورو تک پہنچتا ہے۔ کمپنی نے امریکا سے باہر تقریباً 12.25 ارب ڈالر جمع کیے جن پر 2 فیصد سے بھی کم ٹیکس دیا۔

دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کے حوالے سے یہ تفصیلات آئی ہیں کہ یورپی یونین کے کمیشن نے گزشتہ سال ایپل کو حکم دیا تھا کہ وہ ٹیکس کی مد میں 13 ارب یورو آئرلینڈ کو ادا کرے۔ یہ مقدمہ اب بھی یورپی عدالت انصاف میں زیر سماعت ہے۔

پیراڈائز پیپرز کیا ہیں؟

گزشتہ برس جاری ہونے والے پاناما پیپرز پاناما کی مشہور لاء فرم موزیک فونسیکا کی دستاویزات پر مبنی تھے لیکن اب جاری ہونے والے پیراڈائز پیپرز کمپنی ’’ایپل بائی‘‘ کی دستاویز پر مشتمل ہیں۔ پاناما پیپرز میں 50 ممالک کے 140 نمایاں افراد کے نام سامنے آئے تھے۔ پاناما لیکس میں ایک کروڑ پندرہ لاکھ دستاویزات سامنے آئیں تھیں اور اس کام کے لیے 376 صحافیوں نے کام کیا تھا۔

پیراڈائز پیپرز میں 47 ممالک کے 127 نمایاں افراد کے نام شامل ہیں۔ پیراڈائز لیکس میں ایک کروڑ 34 لاکھ دستاویزات شامل ہیں اور اس کام کے لیے 67 ممالک کے 381 صحافیوں کی خدمات حاصل کی گئیں۔

پیراڈائز لیکس کا بڑا حصہ کمپنی ایپل بائی کی دستاویزات پر مشتمل ہے اور یہ دستاویزات سنگاپور اور برمودا کی دو کمپنیوں سے حاصل ہوئی ہیں۔ پیرا ڈائز پیپرز پہلے جرمن اخبار نے حاصل کیے اور آئی سی آئی جے کے ساتھ شیئر کیے۔

ان میں 180 ممالک کی 25 ہزار سے زائد کمپنیاں، ٹرسٹ اور فنڈز کا ڈیٹا شامل ہے۔ پیراڈائز پیپرز میں 1950 سے لے کر 2016 تک کا ڈیٹا موجود ہے ۔

پیراڈائز پیپرز میں جن ممالک کے سب سے زیادہ شہریوں کے نام آئے ہیں ان میں امریکا 25 ہزار 414 شہریوں کے ساتھ سرفہرست ہے۔ برطانیہ کے 12 ہزار 707 شہری، ہانگ کانگ کے 6 ہزار 120شہری، چین کے 5 ہزار 675 شہری اور برمودا کے 5 ہزار 124 شہری شامل ہیں۔

Advertisement