12 اکتوبر ، 2015
دمشق.......شامی فورسز اور اس کی اتحادی ملیشیاو دیگر فورسز نے روسی جیٹ طیاروں کے تعاون سے حما صوبے میں کامیاب پیشقدمی کی ،روسی جنگی طیاروں نے اسی علاقے میں بیس فضائی حملے کیے، جن میں داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب حزب اللہ اور دیگر فورسز نے کفر نبودہ کا شمالی علاقہ اپنے قبضے میں کر لیا، اس شدید لڑائی میں 60 افرادہلاک ہو گئے، ادھر نیٹو نے کہا ہے کہ شامی تنازعے میں روسی عسکری مداخلت سے اس بحران کی شدت میں صرف اضافہ ہو سکتا ہے۔
برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق لندن میں قائم شامی آبزرویٹری نے ایک بیان میں بتایاکہ پیر کے دن شامی حکومت کی اتحادی فورسز اور حزب اللہ کے جنگجوؤں نے حما کے کفر نبودہ نامی علاقے میں کامیاب پیش قدمی کی ہے۔ ان علاقوں میں شامی فورسز کو جہادیوں کی شدید مزاحمت کا سامنا تھا لیکن آبزرویٹری کے مطابق روسی عسکری مداخلت کے باعث ان فورسز کو نہ صرف حوصلہ ملا ہے بلکہ وہ فوجی مدد سے بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
شام کے بحران پر نظر رکھنے والی غیر سرکاری تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے تصدیق کی کہ پیر کے دن حزب اللہ اور دیگر فورسز نے کفر نبودہ کا شمالی علاقہ اپنے قبضے میں کر لیا، کفر نبودہ وہی علاقہ ہے، جہاں سے جہادی شام کے متعدد اہم شہروں سے رابطے میں ہیں۔
ادھر روسی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہاکہ وہ اپنی اس فضائی کارروائی میں انتہا پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ کے جنگجوؤں کو نشانہ بنا رہی ہے لیکن ایسے شواہد بھی ملے ہیں کہ ایسے بہت سے حملے بھی کیے گئے ہیں، جن میں دیگر باغی گروہوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان میں سے ایسے اعتدال پسند باغی گروہ بھی شامل ہیں، جن کو امریکا کی حمایت بھی حاصل ہے۔
دوسری جانب مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے سربراہ اسٹولٹن برگ نے کہا ہےکہ روسی عسکری مداخلت سے شامی تنازعہ مزید پیچیدہ ہو جائے گا۔