Time 03 اپریل ، 2025
دنیا

سازشی نظریات کیلئے مشہور لورا لومر کی ٹرمپ سے ملاقات کے بعد 3 اہم سرکاری اہلکار برطرف

سازشی نظریات کیلئے مشہور لورا لومر کی ٹرمپ سے ملاقات کے بعد 3 اہم سرکاری اہلکار برطرف
فوٹو: فائل

امریکی میڈیا کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ  امریکی صدر ٹرمپ کی لورا لومر سے ملاقات کے بعد نیشنل سکیورٹی کونسل کے کم از کم 3 ملازمین کو برطرف کر دیا گیا ہے۔

امریکی میڈیا نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ لورا لوومر نے بدھ کے روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات میں نیشنل سکیورٹی کونسل کے کئی ارکان، بشمول صدر کے پرنسپل ڈپٹی نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر ایلس وونگ کو برطرف کرنے کا مطالبہ کیا تھا، ان کا دعویٰ تھا کہ یہ افراد صدر کے ساتھ وفادار نہیں ہیں۔

رپورٹس کے مطابق فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آیا پرنسپل ڈپٹی نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر ایلس وونگ بھی برطرف ہونے والوں میں شامل ہیں یا نہیں۔

امریکی میڈیا کا بتانا ہے کہ برطرف ہونے والے 3 افسران میں برائن والش، تھامس بوڈری اور ڈیوڈ فیتھ شامل ہیں۔ 

برائن والش ایک انٹیلیجنس ڈائریکٹر ہیں جو ماضی کے سینیٹر اور موجودہ امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کے ساتھ سینیٹ انٹیلیجنس کمیٹی میں اعلیٰ عہدیدار رہ چکے ہیں۔ 

تھامس بوڈری سینئر ڈائریکٹر برائے قانون سازی امور ہیں اور موجودہ قومی سلامتی مشیر مائیکل والٹز کے ساتھ ماضی میں کانگریس میں کام کرچکے ہیں۔

ڈیوڈ فیتھ سینئر ڈائریکٹر برائے ٹیکنالوجی اور نیشنل سکیورٹی ہیں جو ٹرمپ کے پہلے دور حکومت میں اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔

امریکی میڈیا نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ برطرفیاں لورا لوومر کے ساتھ ملاقات کے نتیجے میں کی گئیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جس وقت ٹرمپ نے لورا لومر سے ملاقات کی اس وقت قومی سلامتی کے مشیر مائیکل والٹز بھی ٹرمپ کے ساتھ موجود تھے۔

لورا لوومر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ صدر ٹرمپ اور اوول آفس کی رازداری کے احترام میں اپنی ملاقات کی تفصیلات ظاہر نہیں کریں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ انہیں صدر ٹرمپ سے ملاقات کا اعزاز حاصل ہوا اور انہیں اپنی تحقیقات پیش کرنے کا موقع ملا، وہ ٹرمپ کے ایجنڈے کی حمایت میں کام جاری رکھیں گی اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے افراد کی سخت جانچ پڑتال کی اہمیت پر زور دیتی رہیں گی۔

یہ ملاقات اس دوران ہوئی جب ٹرمپ اور ان کی اقتصادی ٹیم ممالک پر جوابی تجارتی ٹیرف عائد کرنے کے اعلان کی تیاری کررہی تھی۔

لورا لومر کون ہیں؟

خیال رہے کہ لورا لومر انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی ایک ایکٹوسٹ ہیں جو اپنے  سازشی نظریات کے حوالے سے جانی جاتی ہیں جن میں یہ بات بھی شامل ہے کہ نائن الیون حملہ امریکی حکومت کی جانب سے ہی کروایا گیا تھا۔

یہی وجہ ہے کہ اپنی انتخابی مہم کے دوران جب ٹرمپ نے نائن الیون حملے سے متعلق ایک تقریب میں شرکت کی تو ان کے ساتھ لورا لومر کی موجودگی پر امریکی میڈیا میں حیرانی اور غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔ 

غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق متنازع سمجھی جانے والی  لورا لومر ماضی میں مسلمانوں اور تارکین وطن افراد کے خلاف بھی بیانات دیتی رہی ہیں۔


مزید خبریں :