پاکستان
13 جولائی ، 2017

نوازشریف کی کوئی آف شور کمپنی نہیں، جے آئی ٹی نے سپریم کورٹ کو گمراہ کیا

نوازشریف کی کوئی آف شور کمپنی نہیں، جے آئی ٹی نے سپریم کورٹ کو گمراہ کیا

پاناما پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے حاصل کردہ تمام چار غیرملکی دستاویزات یا رپورٹس جو جے آئی ٹی کی رپورٹ کے پہلے صفحے پر ایک بڑی کامیابی اور ’’اہم شہادت‘‘ کے طور پر پیش کی گئی ہیں، جے آئی ٹی کی غلط فہمی کی بنیاد پر غلط ہیں اور انہیں کسی بھی طور شہادت قرار نہیں دیا جاسکتا۔

جے آئی ٹی کی حتمی رپورٹ کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ غیر ملکی اتھارٹیز سے پوچھے گئے سوالات چالاکی سے اس طرح بنائے گئے تھے کہ معاملے کی پوری تصویر حاصل کرنے کے بجائے صرف مخصوص جوابات حاصل کیے جائیں، منتخب گواہوں کی جانچ کی گئی اور اہم گواہوں کو نظرانداز کردیا گیا اور رپورٹ ذہن میں پہلے سے طے شدہ ہدف رکھ کر تحریر کی گئی۔

ذیل میں وہ چار اہم شہادتیں ہیں جو جے آئی ٹی نے حاصل کی ہیں:

جے آئی ٹی کی رپورٹ کے پہلے صفحے پر تحریر ہے؛ ’’سمری آف دی انوسٹی گیشن‘‘ تحقیقات کے دوران جے آئی ٹی نے مندرجہ ذیل اہم دستاویزی شہادتیں حاصل کی ہیں۔ (اے) مریم نواز کا برٹش ورجن آئی لینڈ کی کمپنیوں، نیلسن انٹرپرائز لمیٹیڈ اور نیسکول لمیٹیڈ کا فنانشل انوسٹی گیشن ایجنسی، برٹش ورجن آئی لینڈ سے بینی فشل اونر ہونے کی تصدیق ہونا۔(والیوم v)؛ (بی) جبل علی فری زون اتھارٹی سے اس بات کی تصدیق ہونا کہ نواز شریف آف شور کمپنی ایف زیڈ ای کپیٹل، متحدہ عرب امارات کے چیئرمین ہیں۔ (والیوم vi اور IX) ؛(سی)متحدہ عرب امارات کی وزارت انصاف کی جانب سے اس کی تصدیق ہونا کہ مدعا علیہان کی جانب سے معزز عدالت میں جمع کرایا گیا خرید و فروخت کا معاہدہ جعلی تھا۔ (والیوم iii )؛ اور (ڈی) برطانوی فارنسک ماہر کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان اور جے آئی ٹی کے سامنے مدعا علیہان کی جانب سے جمع کرائی گئی ڈکلیئریشن آف ٹرسٹ جھوٹی/ ٹیمپرڈ تھی۔

فیصلہ کن تحقیقات پر مذکورہ بالا تجزیے پر متعلقہ مضمون میں تفصیلی بحث کی جارہی ہے۔

ذیل میں جے آئی ٹی رپورٹ کی چار اہم اور بڑی شہادتوں پر دی نیوز کے اخذ کردہ نتائج پیش کیے جارہے ہیں۔ (1) آف شور کمپنیوں نیلسن اور نیسکول کی بینی فشل اونرشپ: سیکورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی طرح جو کمپنیوں کو رجسٹر کرتی ہےا ور پاکستان میں ان کے کام کی نگرانی کرتی ہے، برٹش ورجن آئی لینڈ میں جو تنظیم آف شور کمپنیوں کو رجسٹر کرتی ہےا ور ان کی نگرانی کرتی ہے، وہ بی وی آئی فنانشل سروسز کمیشن (بی وی آئی ایف ایس سی) ہے۔ اس تنظیم سے حاصل کردہ ایک دستاویز کسی بھی شخص کے بینی فشل اونر ہونے کی فیصلہ کن شہادت ہوسکتی ہے۔

جے آئی ٹی نے بی وی آئی حکومت کو باہمی قانونی معاونت کے لئے لکھا تاکہ ان آف شور کمپنیوں کی بینی فشل اونرشپ کے بارے میں معلومات حاصل کی جائیں لیکن انہیں کوئی معلومات نہیں ملیں۔ جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں جو کیا ہے وہ دلچسپ ہے۔

مندرجہ ذیل نکات ماضی میں پیش آنے والے واقعات کی ترتیب اور اب جے آئی ٹی نے جو کیا اس کی وضاحت کرتے ہیں۔(i) 2012 میں بی وی آئی کی فنانشل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے منی لانڈرنگ کے واقعات کو دیکھنے کے لئے ایک عام تحقیقات کا آغاز کیا اور خدمات فراہم کرنے والوں سے زیادہ تر سیاسی طور پر معروف شخصیات کی ملکیت (پولیٹکل ایکسپوزڈ پرسنز)مخصوص کمپنیوں کی تفصیلات تلاش کیں۔دیگر کے ساتھ بی وی آئی کے ادارے ایف آئی اے نے خدمات فراہم کرنے والے ادارے موساک فونسیکا کو بھی 12 جون 2012 کو لکھ کر آف شور کمپنیوں کی تفصیلات مانگیں جن کا مبینہ طور پر شریف خاندان سے تعلق تھا؛ نیلسن اور نیسکول۔

اس نجی فرہم موساک فونسیکانے جون 2012 میں اپنے جواب میں انکارپوریشن کی تاریخ وغیرہ کے حوالے سے دونوں کمپنیوں کی تفصیلات فراہم کیں اور یہ بھی لکھا کہ مریم نواز بینی فشل اونر ہیں اور موساک کو اس بارے میں کوئی معلومات نہیں ملیں کہ ان کمپنیوں سے کوئی ٹرسٹ وابستہ ہے۔

بعدازاں موساک کی لیک ہونے والی دستاویزات پاناما پیپرز بن گئیں جنہیں انٹرنیشنل کنسورشیم آف انوسٹی گیٹیو جرنلسٹس(آئی سی آئی جے) نے جاری کیا تھا۔ (ii) جب پاکستان میں پاناما کیس سپریم کورٹ لے جایا گیا تو شریف خاندان کی جانب سے کہا گیا کہ مریم نواز آف شور کمپنیوں نیلسن اور نیسکول کی ٹرسٹی ہیں اور حسین نواز بینی فشل اونر ہیں۔ مزید یہ بھی قرار دیا گیا کہ موساک کے کچھ اہلکاروں نے ہوسکتاہےکہ چیزوں کو کنفیوز کردیا ہو اور غلط طور پر لکھا دیا ہو کہ حسین نواز کے بجائے مریم نواز بینی فشل اونر ہیں۔

شریف خاندان کے وکلا کی جانب سے فاضل عدالت کے سامنے یہ بیان کیا گیا کہ یہ غلطی نجی فرم کے ایک اہلکار کی جانب سے کی گئی ہے اور اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ برٹش ورجن آئی لینڈ کی ایف آئی اے نے کبھی مریم نواز کو بینی فشل اونر قرار نہیں دیا اور موساک اور بی وی آئی کی ایف آئی اے کے درمیان یہ خط و کتابت ان کی تفتیش کا محض ایک مرحلہ تھا اور کوئی حتمی نتیجہ نہیں تھا جو اخذ کیا گیا ہو۔ اور ویسے برٹش ورجن آئی لینڈ کی ایف آئی اے ایک تفتیشی ایجنسی ہے اور کسی آف شور کمپنی کی دیگر تفصیلات یا بینی فشل اونر کی تصدیق نہیں کرسکتی اور برٹش ورجن آئی لینڈ کی ایف ایس سی اس حوالے سے متعلقہ تنظیم ہے۔

بی وی آئی کا ادارہ ایف آئی اے صرف اس صورت میں ایسی کوئی معلومات شیئر کر سکتا ہے جب اس نے برٹش ورجن آئی لینڈ کی متعلقہ تنظیم بی وی آئی ایف ایس سی سے براہ راست تصدیق حاصل کی ہو۔ اس کو ایک طرف رکھتے ہوئے کہ شریف خاندان نے سپریم کورٹ کے سامنے کیا پوزیشن لی تھی، ایک نجی فرم کی خط و کتابت کو یہاں شہادت کی بنیاد نہیں بنایا جاسکتا اور فیصلہ کن شہادت صرف وہ دستاویز ہوسکتی ہے جس میں برٹش ورجن آئی لینڈ کی حکومت نے واضح انداز میں تصدیق کی ہو کہ کون ان آف شور کمپنیوں کا بینی فشل اونر ہے۔

(iii) اب جے آئی ٹی نے جو کیا وہ مضحکہ خیز ہے۔ جے آئی ٹی نے ایم ایل اے کی درخواست کے ذریعے برٹش ورجن آئی لینڈ کی ایف آئی اے کو دو خط بھیج کر چالاکی سے سوال کیے، ایک 12 جون 2012 کو برٹش ورجن آئی لینڈ کی ایف آئی اے کے ذریعے موساک فونسیکا کو اور موساک کا جواب 22 جون 2012 کو بی وی آئی کے ادارے ایف آئی اے کو بھیجا گیا اور اس سے ان دو خطوں کی تصدیق کے بارے میں پوچھا گیا۔

نوٹ کرنے کی یہ دلچسپ بات ہے کہ جے آئی ٹی نے برٹش ورجن آئی لینڈ کی ایف آئی اے سے یہ نہیں پوچھا کہ وہ نیلسن اور نیسکول کی بینی فشل اونر شپ کی تصدیق کرے، حقیقی سوال اور دو خطوں کی سادہ سی تصدیق طلب کی گئی جو پاناما پیپرز کا حصہ تھے اور پہلے ہی سپریم کورٹ میں جمع کرائے جاچکے تھے۔ یہ خطوط کسی حقیقت کی تصدیق نہیں کر رہے تھے اور ان میں صرف ’’معلومات‘‘ تھیں جو ایک رجسٹرڈ نجی قانونی فرم نے فراہم کی تھیں۔

نجی فرم کی یہی معلومات فاضل عدالت میں مسترد ہوگئی تھیں اور اگلا قدم برٹش ورجن آئی لینڈ کی حکومت کے ذریعے ’’بی وی آئی ایف ایس سی‘‘ سے تصدیق کرانا ہوسکتا تھا۔ اس پر روشنی ڈالنا اہم ہے کہ جے آئی ٹی سوالات پوچھنے میں اس قدر محتاط تھی کہ اس نے برٹش ورجن آئی لینڈ کے ادارے ایف آئی اے سے یہ بھی نہیں پوچھا کہ وہ آف شور کمپنی کے بینی فشل اونر کی تصدیق کرے۔

یہ خطوط برٹش ورجن آئی لینڈ کے ادارے ایف آئی اےکی جانب سے تحریر کیے گئے تھے اور یہ حقیت ہے کہ موساک فونسیکا نے ان کا جواب دیا تھا لہذا برٹش ورجن آئی لینڈ کی ایف آئی اے سے جے آئی ٹی نے ان دو خطوط کے بھیجے جانے اور وصول کیے جانے کی تصدیق چاہی تھی جو اس نے کردی۔

اب جے آئی ٹی نے ان دو خطوط کی تصدیق کی بنیاد پرحتمی رپورٹ میں اپنی فائنڈنگ دی کہ برٹش ورجن آئی لینڈ کے ادارے ایف آئی اے کی جانب سے ان خطوط کی تصدیق کی بنیاد پر یہ بات کسی شک کے بغیر ثابت ہوگئی ہے کہ ان دو کمپنیوں کی بینی فشل اونر مریم نواز ہیں۔ یہ جے آئی ٹی کے ارکان کا آف شور کمپنیوں کو سمجھنے کا معیاراور وہ ’’کسی شک کے بغیر‘‘ اس نتیجے پر پہنچے تھے۔ نہ صرف یہ بلکہ حسین نواز نے جے آئی ٹی کو ایک کمپنی جے پی سی اے لمیٹیڈ کا ایک خط فراہم کیا، جس نے آف شور کمپنیوں نیلسن اور نیسکول کا 2014 میں سیکریٹریل انتظام سنبھالا تھا، یہ کام اس سے قبل مینروا کمپنی کرتی تھی۔ تاہم جے آئی ٹی نے اس خط کو کسی تصدیق کے بغیر یکسر نظرانداز کر دیا۔

جے پی سی اے کے خط میں تحریر تھا کہ ’’یہ تبادلہ خیال اور ملاقاتیں حسین نواز شریف سے ہوئیں جو ان کے نیلسن اور نیسکول کمپنیز کے بینی فشل اونر ہونے کی حیثیت سے کی گئیں، اس سلسلے میں 2 فروری 2006 کو لاہور، پاکستان کی مریم صدر نے بطور ٹرسٹی ڈکلیئریشن آف ٹرسٹ پر دستخط کیے تھے اور وہ حسین نواز کی جانب سے ٹرسٹ پر مکمل شیئر کپیٹل ہولڈ کر رہی تھیں۔

ہم مزید تصدیق کرتے ہیں کہ جے پی سی اے لمیٹیڈ نے کبھی مسز صفدر سے ملاقات نہیں کی نہ ہی ہم نے ان سے نیسکول یا نیلسن کے حوالے سے معاملات میں کوئی براہ راست ہدایت لی ہے۔ یہ بہت افسوسناک بات ہے کہ وہ خطوط جن کی برٹش ورجن آئی لینڈ کے ادارے ایف آئی اے نے موجود ہونے کی تصدیق کی، کہتے ہیں کہ موساک کے پاس کوئی اطلاع نہیں ہے کہ نیسکول یا نیلسن سے کوئی ٹرسٹ وابستہ ہے لیکن جے آئی ٹی رپورٹ نے اسے اس طرح تبدیل کردیا کہ ’’کمپنیوں سے وابستہ کوئی ٹرسٹ نہیں ہے‘‘۔یہ حقائق کو واضح طور پر مسخ کرنا تھا۔

جے آئی ٹی کی رپورٹ کے والیوم ون کے صفحہ 45 پر تحریر ہے؛ مسٹر ایرل جارج (ڈائریکٹر فنانشل انوسٹی گیشن ایجنسی، بی وی آئی)کی جانب سے خطوط کی تصدیق اور اس پر موساک فونسیکا اینڈ کمپنی (بی وی آئی) (آئی سی آئی جے کی جانب سے پاناما پیپرز میں جاری کیا گیا) کا جواب: (1)جے آئی ٹی کی ایم ایل اے کے جواب میں مسٹر ایرل جارج (ڈائریکٹر فنانشل انوسٹی گیشن ایجنسی، بی وی آئی)نے مس جے، نزبیتھ میڈرو (موساک کی منی لانڈرنگ رپورٹرنگ آفیسر)سے ہونے والی خط و کتابت کی جون 2012 کے دوران نقول درست ہونے کی تصدیق کی ہے۔(مذکورہ خطوط/ خط و کتابت کی نقول اینکسچر ڈی سے منسلک ہے) (2) جے آئی ٹی کو اپنے خط میں مسٹر ایرل جارج نے مندرجہ ذیل کی تصدیق کی ہے؛ (اے) 12 جون 2012 کی تاریخ کا ایک خط (ریفرنس نمبر ’’ایس اے آر# 1478‘‘)برٹش ورجن آئی لینڈ کے ادارے ایف آئی اے کی جانب سے جاری ہوا تھا اور اس پر مسٹرایرل جارج کے دستخط تھےجس میں موساک فونسیکا اینڈ کمپنی کی منی لانڈرنگ رپورٹنگ آفیسر نزبیتھ میڈرو سے دونوں کمپنیوں، نیلسن اور نیسکول کے بارے میں متعدد سوالات کیے گئے تھے۔

 (بی) ایجنسی کو 22 جون 2012 کو موساک سے ایک جواب موصول ہوا۔ جو نیلسن کے حوالے سے ایجنسی کے اٹھائے گئے سوالات کے جوابات دیے گئے تھے۔ (سی) ایجنسی کو ج22 جون 2012 کو موساک فونسیکا سے ایک جواب موصول ہوا جس میں نیسکول کے حوالے سے ایجنسی کے اٹھائے سوالات کا جواب دیا گیا تھا۔ (3) ایم ایل اے کی درخواست کے جواب میں مسٹر ایرل جارج کی جانب سے خطوط کی تصدیق یہ ظاہر کرتی ہے کہ مس جے، نزبیتھ میڈرو (منی لانڈرنگ رپورٹنگ آفیسر، موساک فونسیکا اینڈ کمپنی)نے 22 جون کو اپنے دو خطوط میں برٹش ورجن آئی لینڈ کے ادارے ایف آئی اے کو مندرجہ ذیل معلومات فراہم کی تھیں؛(اے)حوالہ: نیلسن انٹرپرائز لمیٹی--بی سی # 114856(نقل منسلک ہے):خطوط کے مندرجات ذیل میں یہ ہیں۔ (i)کمپنی کی بینی فشل اونر مریم صفدر ہیں جن کا پتہ Saroor Palace,Bazoue al eman st, Ruwais, Jeddah  ہے ، حوالے میں آسانی کے لئے پاسپورٹ کی نقل منسلک ہے۔ (ii)آپ کو مطلع کیا جاتا ہے کہ ہمیں مذکورہ بالا کمپنیوں سے متعلق یا ان سے وابستہ کسی نام، رابطے کی تفصیلات اور سیٹلر، ٹرسٹی اور کسی ٹرسٹ کے بینی فشری کے بارے میں کچھ موصول نہیں ہوا ہے۔ (بی)حوالہ:نیسکول لمیٹیڈ-- بی سی # 77606 (نقل منسلک ہے): خط کے مندرجہ ذیل میں یہ ہیں۔

(2) اوپر نیسلن کے معاملے سے متعلق جیسے ہی ریمارکس ہیں۔  (4)نتائج: مریم صفدر (مدعا علیہ نمبر 6) اور حسین نواز شریف (مدعا علیہ نمبر7) کے دفاع میں اپارٹمنٹس کی بینی فشل اونر شپ اور ٹرسٹ ڈیڈ کے حوالے سے جے آئی ٹی اور معزز سپریم کورٹ کے سامنے پیش کی گئی تصدیق شدہ دستاویزات درست نہیں ہیں۔  (اے)مسٹر ایرل جارج کی جانب سے مذکورہ دستاویزات کی تصدیق اور ان کی برٹش ورجن آئی لینڈ کے اٹارنی جنرل آفس کے باضابطہ سرکاری ذریعے سے وصولی کسی شک کے بغیر یہ ثابت کرتی ہے کہ مریم صفدر نیلسن اور نیسکول آف شور کمپنیوں کی 2012 میں بینی فشل اونر تھیں لہذا ایون فیلڈ پراپرٹیز کی مالک تھیں۔ (بی) اس سے یہ تصدیق ہوتی ہے کہ ان کمپنیوں سے کوئی ٹرسٹ یا ٹرسٹی وابستہ نہیں تھا۔ جے آئی ٹی کی آف شور کمپنیوں کے بارے میں سمجھ بوجھ اور اخذکردہ نتائج اور ’’کسی شک کے بغیر‘‘ ثابت کرنے والی شہادت حقیقت میں جے آئی ٹی کے خلاف چارج شیٹ ہے۔

 یہ نوٹ کرنے کی اہم بات ہے کہ یہ نکتہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے 13 سوالات میں شامل تھا اور جے آئی ٹی نے وزیراعظم نواز شریف کے خلاف اس حوالے سے کوئی اپنی کوئی فائنڈنگ نہیں دی ہے۔یہ نہایت ضروری اور اہم ہے کہ یہ نہ صرف جے آئی ٹی کی جانب سے غلط طور پر پیش کرنا ہے بلکہ ٹرسٹ ڈیڈ کی موجودگی کی تصدیق کر نے والی مخصوص دستاویزات اورقانونی نمائندگی کی غیر موجودگی میں اسے پڑھا بھی نہیں جاسکتا۔

یہ بھی کہ برٹش ورجن آئی لینڈ کا ادارہ ایف ائی اے ٹرسٹ ڈیڈ کی موجودگی کی تصدیق کے لئے نمائندہ اتھارٹی نہیں ہے۔ جو کچھ اس نے کیا وہ یہ کیا کہ اس نے یہ تصدیق کردی کہ دو خطوط اپنا وجود رکھتے ہیں۔  (2)وزیراعظم نواز شریف کی آف شور کمپنی۔ جےآئی ٹی کی جانب سے اپنی حتمی رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ وزیراعظم نواز شریف کی بھی ایک غیر اعلان شدہ آف شور کمپنی ’’ایف زیڈ ای کپیٹل‘‘ دبئی میں ہےجس کے وہ چیئرمین ہیںاور وہ اس سے اپریل 2014 تک تنخواہ بھی وصول کر رہے تھے۔ جے آئی ٹی نے یہ نتیجہ یواے ای کے حکام کے ساتھ ایم ایل اے کے تحت خط و کتابت کی بنیاد پر اور جبل علی فری زون اتھارٹی کے جوابات سے اخذ کیا ہے۔اس پہلو کو تلاش کرنا سپریم کورٹ کے فیصلے کے 13 سوالات کا حصہ نہیں تھا لیکن یہ وزیراعظم نواز شریف کے خلاف ایک بہت بڑا الزام تھا۔ آیا یہ الزام بھی ہے یا کسی غلط کام کی شہادت ہے؟ مندرجہ ذیل نکات صورتحال کو واضح کرتے ہیں۔ (i)فری زون اسٹیبلشمنٹ کمپنیز کسی طرح بھی برٹش ورجن آئی لینڈ ، جرسی یا دیگر آف شور جورسڈکشن میں قائم ہونے والی آف شور کمپنیز کی طرح نہیں ہیں۔اس طرح کی کمپنی پورے متحدہ عرب امارات کے فری زون میں تشکیل دی جاسکتی ہے۔

یواے ای کے فری زون میں سیکڑوں پاکستانی ایسی کمپنیوں کے مالک ہیںجو ہرگز آف شور کمپنیاں نہیں ہیں۔ لفظ ’’آف شور‘‘ واضح طور پر صورتحال میں سنسنی پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا گیا اور اس سے تعصب بھی جھلکتا ہے۔ (ii) متحدہ عرب امارات کے فری زون اسٹیبلشمنٹ کے قوانین میں نہ تو چیئرمین کا کوئی ٹائٹل ہے اور نہ ہی کارپوریٹ قانون میں چیئرمین سے تعلق کا کوئی تصور موجود ہے۔ یہ قوانین ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے مفت دستیاب ہیں اور جے آئی ٹی کے ارکان کسی ایم ایل اے کے بغیر اس کاجائزہ لے سکتے تھے۔ جہاں شیئر ہولڈر مالک ہے اور مینجمنٹ کے لئے جمع کرائی گئی اتھارٹی کو مینجر کہا جاتا ہے۔

(iii) وزیراعظم کے بیٹے حسین نواز نے دی نیوز سے تصدیق کی کہ نہ تو وزیراعظم نواز شریف کا اس کمپنی زیڈ ایف سی کپیٹل میں ایک بھی شیئر ہے اور نہ ہی انہوں نے اس کمپنی سے کبھی تنخواہ وصول کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی کوئی شہادت نہیں ہے کہ وزیراعظم کا مذکورہ کمپنی میں کوئی شیئر ہے یا ان کے اکاؤنٹ میں تنخواہ منتقل کی گئی۔

حسین نواز نے دی نیوز کو بتایا کہ اگر اس کمپنی کی جانب سے نواز شریف کے اکاوئنٹ میں کوئی بھی تنخواہ منتقل کی گئی ہو تو شریف خاندان کو اس پر سزا دی جانی چاہئے جبل علی فری زون اتھارٹی کے خط میں تنخواہ وغیرہ کا ذکر کچھ اپوائنٹ منٹ لیٹرز سے تھا جو معمول کے مسودے پر مشتمل تھا۔ شریف خاندان کا اصرار ہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے اس کمپنی سے کبھی تنخواہ وصول نہیں کی اور جے آئی ٹی کے اس ضمن میں ثبوت صرف ردی ہیں یا پھر کسی غلط فہمی کا نتیجہ ہیں۔

شریف خاندان کے ذرائع کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کمپنی سے مالی فوائد حاصل نہیں کر رہا یا حصص یافتگان میں شامل نہیں ہے تواس حقیقت کا اعلان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ کوئی شخص کمپنی کا چیئرمین ہے۔(iv) شریف خاندان کا موقف غلط ہوسکتا ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ جے آئی ٹی رپورٹ وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے انہیں تنخواہ کی فراہمی یا کمپنی کی ملکیت کو ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے۔

جے آئی ٹی کے پاس اب بھی موقع ہے کہ وہ اپنے اس الزام اور دیگر کو ثابت کرنے کے لئے کمپنی کی شیئرہولڈنگ کا ثبوت اور وزیراعظم کو تنخواہ کی منتقلی کا ثبوت فراہم کرے بصورت دیگر اس سب کو ردی سمجھا جائے گا۔ (3)دبئی کا معاہدہ اورنوٹرائزیشن جعلی ہے۔ جے آئی ٹی کی جانب سے معزز عدالت کے سامنے پیش کی گئی تیسری ’’اہم شہادت‘‘ یہ ہے کہ اس نے مدعا علیہان کی جانب سے معزز عدالت میں جمع کرائی گئی جعلی خرید و فروخت کے معاہدے کی تصدیق متحدہ عرب امارات کی وزارت انصاف سے حاصل کر لی ہے۔

یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ جے آئی ٹی کے سوالات نہایت چالاکی سے تیارکئے گئے تھے اور بظاہر ایسالگتاہے کہ منفی جوابات کے حصول کیلئے متعلقہ غیر ملکی حکام کو غلط تفصیلات یا حقائق فراہم کئے گئے تھے ۔متحدہ عرب امارات کے محکمہ انصاف کی طرف سے جے آئی ٹی کو جواب میں بتایاگیاہے کہ شریف فیملی اورال آحلی اسٹیل کے درمیان 1980ءمیں معاہدے کا کوئی ریکارڈ موجودنہیں مگر یہ کوئی ثبوت ہے نہ یہ معاہدے کو جعلی ثابت کرتاہے ۔بات بہت ہی سادہ ہے کہ جے آئی ٹی ال آحلی اسٹیل جو کہ اب بھی آپریشن ہے ،سے رابطہ کرسکتی تھی اوران کے گواہ کا بیان ریکارڈکرسکتی تھی مگر مشترکہ تفتیشی ٹیم نے ایسانہیں کیا اورصرف مخصوص گواہان سے اس بارے میں پوچھا۔ال آحلی اسٹیل ملز مالکان کے قریبی مصدقہ ذرائع نے دی نیوز کو اس بات کی تصدیق کی کہ اسٹیل ملز حکام سے کسی نے رابطہ نہیں کیا ۔ نہ صرف یہ بلکہ دبئی سے جدہ اسکریپ مشینری کی ترسیل سے متعلق اگلاسوال بھی ایسا ہی تھا۔

دبئی حکام کو مشینری کی نقل وحرکت کی بجائے ’’اسکریپ مشینری ‘‘کی اصطلاح استعمال کرکے کنفیوژکیاگیا‘سوال میں  اسکریپ مشینری سے متعلق ایچ ایس کوڈبھی موجودنہیں‘ دی نیوزکے پاس دستیاب دستاویزات میں عربی اصطلاح استعمال کی گئی ہے جس کے معنی ’’اسٹیل ملزمشینری‘‘ کے ہیں۔اس سے واضح ہوتاہے کہ گمراہ کن جواب حاصل کرنے کیلئے یہ سوال پوچھا گیا اورسپریم کورٹ کو گمراہ کرنے کیلئے ایساکیاگیا۔

دی نیوزکے پاس دبئی کسٹم کی 22اوریجنل دستاویزی تصاویر موجود ہیں  جس میں 3ستمبر 2001ءسے 14ستمبر 2001ء کے درمیان ٹرک اور مشینری کی تفصیلات ہیں ۔یہ تفصیلات اور اصلی دستاویزات یہ ظاہر کرتی ہیں کہ اسکریپ کی منتقلی کا عمل بڑے پیمانے پر ہواتھا۔اگرچہ محکمہ انصاف کی جانب سے جے آئی ٹی کوبھیجے گئے  خط کی دیگر چیزوں  سے کچھ ثابت نہیں ہوتاتاہم اس میں شریف فیملی کے خلاف ایک چیز بہت ٹھوس ہے اور وہ ایک سوال کا جواب ہے کہ 2016ء میں شریف فیملی اور ال آحلی اسٹیل ملز کے درمیان معاہدے کی کوئی تصدیق ریکارڈ میں  موجود نہیں‘اس ضمن میں رابطہ کرنے پر حسین نوازنے بتایاکہ دستاویزات کی تصدیق اورتوثیق تین مختلف محکموں  وزارت انصاف‘امورخارجہ اورعرب امارات میں  پاکستانی ہائی کمیشن سے کرائی گئی تھی ۔ان کا کہنا تھاکہ ایسا ممکن نہیں کہ تین جگہوں سے ریکارڈ نہ ملے ۔یہ دعویٰ کیا جاتاہے کہ اصل حقائق سے متعلق وضاحت آئندہ چند روز میں دبئی سے آنے کا امکان ہے۔

معاہدے کی کاپیاں دونوں فریقین کے پاس موجود ہیں مگر اس کی تفصیلی چھان بین نہیں کی گئی۔شریف خاندان کے زرائع نے بتایا کہ اثاثوں میں اس حققیت کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ کوئی کمپنی کا چیئرمین ہے اگر وہ شیئر ہولڈر نہیں ہے اور کمپنی سے کوئی مالی فائدہ بھی نہیں لے رہا ۔ بصورت دیگر اس تمام کو حقائق کوسنسنی خیز بنانےکی ایک کوشش کے طور پر اور دانستہ معزز عدالت کو گمراہ کرنے کے طور پر دیکھا جائے گا۔

مزید یہ کہ وزیراعظم نواز شریف پر ہے کہ وہ اس بات کی تصدیق کریں کہ ان کے متحدہ عرب امارات میں تنخواہ کی منتقلی کیلئے کوئی غیراعلانیہ اکائونٹس نہیں ہیں اور نہ ہی اس رقم کو پاکستان میں اپنے اکائونٹس منتقل کیا گیا ۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے وقف نامے کی دستاویزات کے مطابق برطانوی کمپنی فری مین باکس نے 2006میں اس وقف نامے کی تصدیق کی تھی ۔

یہ بھی انتہائی دلچسپ امر ہے کہ جے آئی ٹی کی جانب سے برطانوی کمپنی ’کوئسٹ سولیسٹرز‘ کی خدمات لی گئی تھیں جو مبینہ طور پر پی ٹی آئی کے ایک کارکن کی ہے ، اس کمپنی نے فری مین باکس کو لکھا تھا کہ آیا انہوں  نے 2006میں حسین نواز اور مریم نواز کے درمیان وقف نامے کی تصدیق کی تھی۔

حسین نواز کے مطابق فری مین باکس نے کوئسٹ کو اپنے جواب میں کہا کہ یہ بات درست ہے کہ ان کی کمپنی نے 2006میں اس وقف نامے کے معاہدے کی تصدیق کی تھی ۔ جبکہ جے آئی ٹی نے اپنی حتمی رپورٹ میں اس حقیقت کا تذکرہ کبھی نہیں کیا ۔ اگر کوئی برطانوی لاء فرم اس طرح کی جعل سازی کرسکتی ہے تو یہ برطانیہ میں اپنا وجودمزید برقرار نہیں رکھ سکتی ۔ اس نقطے پر جے آئی ٹی کا رویہ سنجیدہ طور پر معتصبانہ تھا اور اس کا مقصد کوئی ہدف حاصل کرنا ہے۔

 

نوٹ: یہ خبر 13 جولائی 2017 کے جنگ اخبار میں شائع ہوئی ہے۔

مزید خبریں :