Can't connect right now! retry

بلاگ
14 ستمبر ، 2018

ایشیا کپ: تلخ یادیں، نئی قیادت اور باصلاحیت ٹیم

2016 کے ایشیا کپ میں بنگلہ دیش کے ہاتھوں شکست کے بعد پاکستانی کھلاڑی افسرہ کھڑے ہیں۔

ایشیا کپ کی آمد آمد ہے اور پاکستا ن کرکٹ کے دوسرے گھر یعنی متحدہ عرب امارات میں ایک بار پھر کرکٹ کا میلہ سجنے جا رہا ہے، اس مرتبہ سوائے ہانگ کانگ کے تمام ہی ٹیمیں مضبوط ہیں اس لیے امید ہے کہ شائقین کو دلچسپ اور سنسنی خیز مقابلے دیکھنے کو ملیں گے۔

ایشیا کرکٹ کپ کا آغاز 1984 سے ہوا اور اب تک اس کے 13 ٹورنامنٹس کھیلے جا چکے ہیں جس میں سے 6 بار بھارت اور 5 بار سری لنکا کامیاب ہوا ۔پاکستان کبھی بھی ایشیا کپ میں متاثر کن کارکردگی نہیں دکھا سکا اور صرف دو مرتبہ ہی یہ ایونٹ اپنے نام کرنے میں کامیاب ہوا۔

ایشیا کپ کے ون ڈے فارمیٹ میں سری لنکا کی فتوحات کا تناسب 69 فیصد ہے جو کہ سب سے زیادہ ہے۔ سری لنکا نے مجموعی طور پر 52 میں سے 35 میچوں میں مخالف ٹیموں کو شکست دی ۔

بھارت نے 48 میں سے 31 میچز میں کامیابی حاصل کی اور اس کی جیت کا تناسب 66 فیصد رہا۔

اگر ٹورنامنٹ کے ون ڈے فارمیٹ میں پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو گرین شرٹس نے 44 میں سے 26 میچوں میں کامیابی حاصل کی اور ان کی جیت کا تناسب 60 فیصد رہا۔

اسی طرح اگر 2016 میں ہونے والے پہلے ایشیاکپ ٹی ٹوئنٹی میں پاکستانی ٹیم ابتدائی مرحلے سے ہی باہر ہو گئی تھی اور اس کی جیت کا تناسب بھارت، بنگلا دیش اور افغانستان سے بھی نیچے رہا تھا۔

اس ٹورنامنٹ میں نومولود افغان ٹیم نے تین میں سے 2 ٹی ٹوئنٹی میچز میں کامیابی حاصل کی جب کہ تجربہ کار پاکستانی ٹیم 4 میں سے صرف 2 میچ جیت سکی۔

آخری بار بنگلا دیش میں ہونے والے ٹورنامنٹ میں قومی ٹیم کی نمائندگی شاہد آفریدی کر رہے تھے اور گرین شرٹس کو تجربہ کار شعیب ملک اور محمد حفیظ کی خدمات بھی حاصل تھیں لیکن اس کے باوجود قومی ٹیم ٹورنامنٹ کے پہلے مرحلے میں ہی باہر ہوئی۔

اس مرتبہ پاکستان اور بھارت کے علاوہ ٹورنامنٹ میں سری لنکا، بنگلا دیش، افغانستان اور ہانگ کانگ کی ٹیمیں شامل ہیں۔ افغانستان اور ہانگ کانگ کی ٹیمیں کوالیفائر مرحلہ کھیلنے کے بعد ٹورنامنٹ کے مرکزی مرحلے میں پہنچی ہیں۔

ٹورنامنٹ کا آغاز تو 15 ستمبر سے ہو گا لیکن شائقین کو کرکٹ کی دنیا کے سب سے بڑے معرکے یعنی پاک بھارت ٹاکرے کے لیے 19 ستمبر کا بے چینی سے انتظار ہے۔

ایونٹ میں شریک ٹیموں پر نظر ڈالیں تو بھارتی ٹیم کو ویرات کوہلی کی خدمات حاصل نہیں ہیں اور ان کی جگہ روہت شرما ٹیم کی قیادت کریں گے جو ایک میچ وننگ کھلاڑی ہیں۔

اس کے علاوہ بھارت کو شیکر دھون، مہندرا سنگھ دھونی، ہاردک پانڈیا اور کیدار جادھو جیسے خطرناک بلے بازوں کی خدمات بھی حاصل ہیں جو کسی بھی وقت میچ کا پانسہ پلٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

بنگال ٹائیگرز کو بیٹنگ میں شکیب الحسن، تمیم اقبال، لٹن داس اور مشفیق الرحیم سمیت بولنگ میں مشرفی مرتضیٰ، مہدی حسن اور مستفیض الرحمان کی خدمات حاصل ہیں جو کسی بھی بیٹنگ لائن کو تہس نہس کر سکتے ہیں۔

سری لنکن ٹیم میں بھی کپتان اینجلو میتھیوز، کوشال پریرا، تھسارا پریرا، اپل تھرنگا، لستھ ملنگا اور چندیمل جیسے تجربہ کار جیسے کھلاڑی شامل ہیں ۔

اصغر افغان کی قیادت میں افغان ٹیم کو بھی جارح مزاج محمد شہزاد کے علاوہ محمد بنی، راشد خان اور سمیع اللہ شنواری کی خدمات حاصل ہیں۔

دیگر ٹیموں کی طرح جارح مزاج فخر زمان اور نوجوان امام الحق سمیت تجربہ کار شعیب ملک کے علاوہ شاداب خان، فہیم اشرف، حسن علی اور محمد عامر کی موجودگی سے پاکستان ٹیم متوازن دکھائی دیتی ہے ۔

آئی سی سی کی جانب سے 2015 میں ایشین کرکٹ کونسل کی ڈاؤن سائزنگ کے بعد 2016 سے دو سال میں ایک ٹورنامنٹ کرانے کا فیصلہ کیا گیا اور اُس برس پہلا قرعہ ٹی ٹوئنٹی کے نام نکلا جو کہ بنگلہ دیش میں کھیلا گیا۔

اس ٹی ٹوئنٹی کپ میں بھارت نے میزبان ٹیم کو شکست دیکر فائنل اپنے نام کیا اور یوں بھارت ایشیا کرکٹ کپ کے پہلے ٹی ٹوئنٹی اور مجموعی طور پر چھٹی بار ٹورنامنٹ کا فاتح بنا۔

اگر ایشیا کپ میں پاکستان کی بات کی جائے تو اس ٹورنامنٹ میں گرین شرٹس کی کارکردگی زیادہ متاثر کن نہیں رہی ہے۔

آخری بار بنگلا دیش میں ہونے والے ٹورنامنٹ میں قومی ٹیم کی نمائندگی شاہدآفریدی کر رہے تھے اور تجربہ کار شعیب ملک اور محمد حفیظ کی موجودگی کے باوجود قومی ٹیم ٹورنامنٹ کے ناک آؤٹ مرحلے میں ہی باہر ہو گئی۔

لیکن اس بار پاکستان کرکٹ بورڈ کے پیٹرن ان چیف سے لے کر چیئرمین پی سی بی، ہیڈ کوچ، فیلڈنگ کوچ اور کپتان سب نئے ہیں۔

قومی ٹیم کے سابق کپتان عمران خان جو ملک کے وزیراعظم ہونے کے ساتھ پی سی بی کے پیٹرن ان چیف بھی ہیں۔ انہوں نے آئی سی سی کے سابق سربراہ احسان مانی کو چیئرمین کرکٹ بورڈ تعینات کیا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ سرفراز احمد کا بطور کپتان اور مکی آرتھر کا بطور کوچ پاکستانی ٹیم ایشیا کپ کھیلنے کا پہلا تجربہ ہے۔

نئے کوچ، نئے کپتان اور سوائے ایک دو تجربہ کار کھلاڑیوں کے نوجوان مگر با صلاحیت کھلاڑیوں کے ساتھ گرین شرٹس کچھ عرصے سے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتی چلی آ رہی ہے اور اس نے ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، ویسٹ انڈیز، زمبابوے اور اسکاٹ لینڈ کو شکست دی جب کہ روایتی حریف بھارت کو سرفراز الیون نے گزشتہ برس چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں شکست دی تھی۔

سرفراز الیون کی حالیہ پرفارمنس اور کھلاڑیوں کی فٹنس کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستانی کرکٹ شائقین نے گرین شرٹس سے بڑی توقعات وابستہ کی ہوئی ہیں اور امید ہے کہ اس بار ٹیم قوم کی توقعات پر پورا اترے گی اور ایشیا کرکٹ کپ کی ٹرافی پاکستان لے کر آئے گی۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM