Can't connect right now! retry

پاکستان
09 اپریل ، 2019

جعلی اکاؤنٹس کیس میں نیب کا دوسرا ریفرنس بھی سماعت کیلئے منظور

پنک ریزیڈنسی ریفرنس کی اسکروٹنی مکمل، احتساب عدالت نمبر2 کے جج ارشد ملک ریفرنس پر سماعت کریں گے۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد: جعلی اکاؤنٹس کیس میں نیب کی جانب سے دائر دوسرا ریفرنس بھی احتساب عدالت نے سماعت کے لیے منظور کرلیا۔

نیب کی جانب سے گزشتہ روز پنک ریزیڈنسی ریفرنس اسلام آباد کی احتساب عدالت میں جمع کرایا گیا جہاں رجسٹرار نے ریفرنس کی اسکروٹنی مکمل کرلی۔

عدالت نے نیب کا ریفرنس منظور کرلیا جس کی سماعت احتساب عدالت نمبر 2 میں ہوگی اور جج محمد ارشد ملک پنک ریزیڈنسی ریفرنس کی سماعت کریں گے۔

نیب کی جانب سے پنک ریزیڈنسی ریفرنس میں کل 19 ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے، آفتاب میمن، عبدالغنی مجید اور دیگر کے خلاف غیر قانونی زمین کی الاٹمنٹ کا الزام ہے۔

نیب کے مطابق پنک ریزیڈنسی فرم کے نام خلاف قانون زمین الاٹ کی گئی اور ملزمان نے جعلی اکاؤنٹس کا استعمال کیا اور اختیارات سے تجاوز کیا۔ 

نیب نے ریفرنس دائر کر کے کراچی میں متعلقہ 30 ایکڑ زمین بھی ضبط کرلی تھی جب کہ ملزمان پر خزانے کو 2.5 ارب روپے نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔

جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کا پسِ منظر

منی لانڈنگ کیس 2015 میں پہلی دفعہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے اُس وقت اٹھایا گیا، جب مرکزی بینک کی جانب سے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو مشکوک ترسیلات کی رپورٹ یعنی ایس ٹی آرز بھیجی گئیں۔

ایف آئی اے نے ایک اکاؤنٹ سے مشکوک منتقلی کا مقدمہ درج کیا جس کے بعد کئی جعلی اکاؤنٹس سامنے آئے جن سے مشکوک منتقلیاں کی گئیں۔

معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا تو اعلیٰ عدالت نے اس کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ( جے آئی ٹی) تشکیل دی جس نے گزشتہ برس 24 دسمبر کو عدالت عظمیٰ میں اپنی رپورٹ جمع کرائی جس میں 172 افراد کے نام سامنے آئے۔

جے آئی ٹی نے سابق صدر آصف علی زرداری اور اومنی گروپ کو جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے فوائد حاصل کرنے کا ذمہ دار قرار دیا اور ان کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کی۔

اس کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور سے بھی تفتیش کی گئی جب کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی تحریری طور پر جے آئی ٹی کو اپنا جواب بھیجا جب کہ اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید اور نجی بینک کے سربراہ حسین لوائی ایف آئی اے کی حراست میں ہیں۔

سپریم کورٹ نے 7 جنوری 2019 کو اپنے فیصلے میں نیب کو حکم دیا کہ وہ جعلی اکاؤنٹس کی از سر نو تفتیش کرے اور 2 ماہ میں مکمل رپورٹ پیش کرے جب کہ عدالت نے جے آئی ٹی رپورٹ بھی نیب کو بجھجوانے کا حکم دیا۔

اعلیٰ عدالت نے حکم دیا کہ تفتیش کے بعد اگر کوئی کیس بنتا ہے تو بنایا جائے۔

نیب نے 7 جنوری کو ہی جعلی اکاؤنٹس کیس کی تحقیقات کے لیے کمبائنڈ انویسٹی گیشن ٹیم (سی آئی ٹی) تشکیل دی جس کی سربراہی ڈی جی نیب راولپنڈی کو دی گئی۔

آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے 20 مارچ کو نیب کی کمائنڈ انویسٹی گیشن کے سامنے پیش ہو کر بیان ریکارڈ کرایا۔

نیب راولپنڈی نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں تین ریفرنسز تیار کر کے نیب ہیڈ کوارٹر بھجوائے اور چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی زیر صدارت نیب ایگزیکٹو بورڈ نے 2 اپریل کو جعلی اکاؤنٹس کیس میں پہلا ریفرنس اومنی گروپ کے چیف ایگزیکٹو عبدالغنی مجید اور دیگر کے خلاف دائر کرنے کی منظوری دی۔

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM