عدالت کو یہ حکم دینا چاہیے تھا کہ عمران خان گاڑی سے اتر کر پیش ہو: وزیر داخلہ

انتہائی افسوس ہے کہ انہیں گاڑی میں ہی حاضری لگوانے کی سہولت دی گئی، بعد میں سنا ہے کہ دستخط والی فائل بھی کہیں غائب ہوگئی: رانا ثنا— فوٹو: فائل
انتہائی افسوس ہے کہ انہیں گاڑی میں ہی حاضری لگوانے کی سہولت دی گئی، بعد میں سنا ہے کہ دستخط والی فائل بھی کہیں غائب ہوگئی: رانا ثنا— فوٹو: فائل

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ عمران خان پہلے بھی جتھے کےساتھ جوڈیشل کمپلیکس گیا تھا اور توڑ پھوڑ کی تھی، آج بھی 100 کے قریب لوگ مسلح تھے، انہیں کیسے عدالت میں جانے کی اجازت دی جاسکتی تھی؟

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عدالت کو  یہ حکم دینا چاہیے تھا کہ گاڑی سے اتر کر پیش ہو،  ایسا ہونا ضروری تھا تاکہ اس قسم کے واقعات کو  مزید نہ پنپنے دیا جائے، انتہائی افسوس ہے کہ انہیں گاڑی میں ہی حاضری لگوانے کی سہولت دی گئی، بعد میں سنا ہے کہ دستخط والی فائل بھی کہیں غائب ہوگئی۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ عدالتوں کا احترام ہے لیکن عدلیہ کے اس رویے نے عمران خان کی خرمستی میں اضافہ کیا ہے، لوگوں کو عمران خان نے ماہ و سال جیل میں رکھا اور خود جیل سے اتنا خوفزدہ ہے۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اگر 2018 میں قوم ڈٹ جاتی اور اس کا راستہ روکتی تو حالات آج بہتر ہوتے، اس کو لانے والے بھی یقیناً  آج پچھتا رہے ہیں، عمران خان سیاستدان نہیں اس کا رویہ جمہوری نہیں ہے، قوم اس کا ادراک کرے اور ووٹ کی طاقت سے اس کو مائنس کرے۔

انہوں نے کہا کہ زمان پارک سے گرفتار 65 افراد میں سے اکثریت کا تعلق پنجاب سے نہیں ہے ، زمان پارک سے جو اسلحہ برآمد ہوا ہے وہ سارا ناجائز اسلحہ ہے ،  آج یہ لوگ جوڈیشل کمپلیکس میں داخل ہونا چاہتے تھے اور بہت سے مسلح تھے۔ عمران خان نے اپنے ارد گرد تین چار سو مسلح افراد جمع کیے ہوئے ہیں۔

رانا ثنا نے کہا کہ زمان پارک سے جو ثبوت سامنے آئے ہیں وہ تحریک انصاف کو کالعدم قرار دینے کا ریفرنس بنانے کیلئے کافی ہیں۔