Time 05 جون ، 2023
بلاگ

پی ٹی آئی اوور سیز لوورز کے نام

امریکا سمیت مختلف ممالک میں آباد پاکستان (پی ٹی آئی) کے حامی سانحہ 9 مئی میں ملوث گرفتار افراد پر مظالم کی داستانیں بیان کر کے پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت کی اپیلیں کر رہے ہیں۔

پی ٹی آئی کے ان اوورسیز لوورز کے جذبات عمران خان کے اس ویڈیو پیغام سے مزید بھڑکے ہیں جس میں پی ٹی آئی کے سربراہ نے کہا ہے کہ 'اگر ہمارے لوگوں نے مجھے دیکھا کہ غیر قانونی طریقے سے اغوا کر کے لے کر جارہی ہے، رینجرز، جو پاکستانی فوج ہے اور لوگوں کو ڈنڈے مارے، مجھے مارا، جس طرح مجھے لے کر جا رہے تھے، تو کیا ان کا حق پر امن احتجاج کرنے کا نہیں تھا؟ اور انہوں نے کدھر احتجاج کرنا تھا؟ جی ایچ کیو کےسامنے کرنا تھا۔ جو بھی آرمی جدھر ہوگی، ادھر ہی کرنا تھا۔'

پرامن احتجاج سے متعلق عمران خان کی یہ دلیل بے وزن ہے کیونکہ جذبات بھڑا کر کسی کو جی ایچ کیو یا کور کمانڈر ہاؤس جانے دیا جائے تو یہ تصور دیوانگی ہوگا کہ مظاہرین وہاں جا کر پھول پیش کریں گے۔

اسی لیے پی ٹی آئی کے بیرون ملک آباد طرفداروں سے کچھ معصومانہ سوالات ہیں؟

امریکا اور برطانیہ میں آباد ان انصافیوں کو یقینی طورپر عراق جنگ یاد ہوگی۔ وہی جنگ جو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی عراق میں موجودگی کا ڈھونگ رچا کر لڑی گئی تھی۔صدام حکومت الٹنے کے لیے مسلط کردہ اس جنگ کے خلاف امریکا میں بڑی تعداد میں مظاہرے کیے گئے تھے جن میں لاکھوں افراد شریک ہوئے تھے۔

لیبر پارٹی کے مقبول لیڈر ٹونی بلیئر اس وقت برطانیہ کے وزیراعظم تھے۔بلیئر کی اس امن دشمن پالیسی کے خلاف لندن میں بھی 10 لاکھ سے زائد افراد نے مارچ کیا تھا۔

امریکا اور برطانیہ میں کیے گئے ان تاریخی مظاہروں میں نہ تو کسی اہم شخصیت کا گھر تاراج کیا گیا نہ ہی فوجیوں کی یادگاروں کی بے حرمتی کی گئی۔ طاقت کے اس اظہار کو جمع ہونے کا جمہوری حق اور آزادی اظہار کہا جاتا ہے۔

دوسرے ملک کے خلاف جنگ کیلئے احتجاج پرامن رہے تو سمجھ میں آتا ہے، حالیہ صورتحال کا بھی جائزہ لے لیں۔

کورونا وبا سے دنیا بمشکل باہر نکلی ہی تھی کہ یوکرین جنگ کا آغاز ہوگیا۔ یہ الگ بحث ہے کہ جنگ کس نے شروع کی مگر اس جنگ کے نتیجے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قلت اور فوڈ بحران نے جو مسائل پیدا کیے ہیں، ان کے نتیجے میں امریکا میں مہنگائی کا تاریخی طوفان ہے، برطانیہ میں لوگ فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔ حد یہ ہے کہ مڈل کلاس کیلئے بھی سفید پوشی کا بھرم رکھنا مشکل ہوچکا ہے۔

اس یوکرین جنگ کے خلاف مظاہرے تو ہوئے مگر کسی نے امریکا میں پینٹاگان یا لندن میں فوجی ہیڈ کوارٹر کے سامنے احتجاج یا جلاؤ گھیراو نہیں کیا، کسی افسر کا گھر تاراج نہیں کیا۔

امریکا میں فوجیوں کے احترام کا عالم یہ ہے کہ سادہ کپڑوں میں ملبوس فوجی بیرون ملک جانے کے لیے ائیرپورٹ آئے تو شناختی دستاویز دیکھنے والا اہلکار اس فوجی کو سیلوٹ کرتا ہے اور یہ کہے بنا نہیں رہ پاتا کہ ' ہم آپ کی خدمات کے تہہ دل سے مشکور ہیں'۔

ویتنام جنگ میں بدترین شکست کے باوجود امریکی فوج کے اس قدر احترام کی وجہ یہ ہے کہ امریکیوں کو یقین ہے کہ ملکی فوج قومی مفاد کے لیے جان نچھاور کرتی ہے،شکست کے اسباب کچھ بھی ہوں، جنگ میں فوج سے جو بن پڑتا ہے،وطن کیلئے کر گزرتی ہے۔

جنگوں کو چھوڑیں، امریکا کے سابق صدر جان ایف کینیڈی اور ان کے بھائی سینیٹر رابرٹ کینیڈی قتل کیے گئے، کیا ان کے لواحقین یا حامیوں نے فوج کو مورد الزام ٹہرا کر کسی کو 'ڈرٹی ہیری' کہا؟ کیا کینیڈی فیملی کے کسی شخص نے کہا کہ ' انہوں نے کدھر احتجاج کرنا تھا؟ جی ایچ کیو کےسامنے کرنا تھا۔ جو بھی آرمی جدھر ہوگی، ادھر ہی کرنا تھا۔'

انتہائی دائیں بازو کی پالیسیاں اختیار کرنے والے سابق صدر ٹرمپ کو الیکشن میں شکست ہوئی تو ان کے مشتعل حامیوں نے کیپٹل ہل پر دھاوا بولا، پینٹاگان پر نہیں۔کیا منہ پھٹ سمجھے جانے والے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ' انہوں نے کدھر احتجاج کرنا تھا؟ جی ایچ کیو کےسامنے کرنا تھا۔ جو بھی آرمی جدھر ہوگی، ادھر ہی کرنا تھا۔'

فرض کرلیتے ہیں کہ امریکی فوج کو اپنے مفادات کیلئے سازشوں میں گھسیٹنے کے بجائے ایسا احترام صرف نسلی امریکنز ہی کرتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ امریکا کی مستقل شہریت اختیار کرنے والا کوئی امیگرینٹ تصور کرسکتا ہے کہ وہ کسی نامعلوم سازش یا حملے پر منہ اٹھا کے امریکی فوج کے سربراہ کی توہین کر ڈالے؟

امریکا میں کئی پاکستانی نامور ڈیموکریٹ اور ری پبلکنز ہیں۔ کیا ان میں سے کوئی سوچ بھی سکتا ہے کہ اگر اسے عمران خان جیسے حالات کا سامنا ہو تو وہ امریکی فوج کے سربراہ کو 'ڈرٹی ہیری، جنرل ڈائر، میر جعفر، میرصادق جیسے توہین آمیز القابات سے نوازے یا کسی سینیئر افسر کا نام لیے بغیر اسے مسٹرایکس اور مسٹر وائی کہہ کر پکارے؟

شاید اوورسیز پاکستانی بھول گئے کہ عمران خان پر تو محض فائرنگ کی گئی تھی جبکہ بے نظیر بھٹو کے والد کو فوجی آمر نے پھانسی دی تھی، اسے بے نظیر کو 8 اکتوبر کو کراچی میں خود کش حملےکا نشانہ بنایا گیا تھا، جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف سے نمٹنے والی بے نظیر بھٹو نے کیوں نہیں کہا کہ 'انہوں نے کدھر احتجاج کرنا تھا؟ جی ایچ کیو کےسامنے کرنا تھا۔ جو بھی آرمی جدھر ہوگی، ادھر ہی کرنا تھا۔'

اسی بے نظیر کو تین ماہ بعد راول پنڈی میں شہید کر دیا گیا تو سابق صدر زرداری نے' پاکستان کھپے؛ کا نعرہ کیوں لگا دیا؟

نوازشریف کو بھی ایک فوجی آمرہی نے جلاوطنی پر مجبور کیا تھا۔سابق وزیراعظم نے تو نہیں کہا کہ'' انہوں نے کدھر احتجاج کرنا تھا؟ جی ایچ کیو کے سامنے کرنا تھا۔ جو بھی آرمی جدھر ہوگی، ادھر ہی کرنا تھا۔'

سازشی نظریات اپنی جگہ، بے نظیربھٹو، نوازشریف اور آصف زرداری جانتے تھے کہ فوج کے خلاف عوام کو کھڑا کرنے کا مطلب ملک کو کمزور کرنا ہوگا۔

لابنگ فرمز اور بااثر امریکیوں کی بدولت اراکین کانگریس سے ملاقاتیں کرنے والے پی ٹی آئی اوورسیز لوورز کو بھی دیکھنا ہوگا کہ مداخلت کے ان مطالبات سے کس کےایجنڈے کی تکمیل ہوگی۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔