Time 31 دسمبر ، 2023
صحت و سائنس

اچھی صحت کے لیے چہل قدمی کرنے کا بہترین وقت کونسا ہوتا ہے؟

چہل قدمی کی عادت صحت کے لیے بہت زیادہ مفید ہوتی ہے / فائل فوٹو
چہل قدمی کی عادت صحت کے لیے بہت زیادہ مفید ہوتی ہے / فائل فوٹو

ہم میں سے بیشتر افراد کی نظر میں چہل قدمی کی کوئی اہمیت نہیں کیونکہ یہ وہ کام ہے جو ہم روز ہی کرتے ہیں، مگر یہ عادت ورزش کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔

یہ بات تو پہلے ہی ثابت ہوچکی ہے کہ زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا متعدد امراض جیسے ذیابیطس، امراض قلب اور موٹاپے کا باعث بن سکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ روزانہ کے معمولات میں چہل قدمی کو شامل کرکے متعدد امراض سے متاثر ہونے کا خطرہ کم کیا جا سکتا ہے۔

مگر سوال یہ ہے کہ صحت کو بہتر بنانے کے لیے چہل قدمی کرنے کا بہترین کونسا ہوتا ہے؟

اس سوال کا جواب سادہ نہیں بلکہ مختلف عناصر کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

چہل قدمی کے بہترین وقت کا انحصار آپ کے شیڈول اور طرز زندگی پر ہوتا ہے اور دیکھنا ہوتا ہے کہ اسے آپ اپنی مصروفیات میں کیسے شامل کر سکتے ہیں۔

اس حوالے سے کافی تحقیق کام بھی ہوا ہے۔

2012 کی ایک تحقیق میں صبح کے وقت چہل قدمی کے اثرات پر روشنی ڈالی گئی تھی۔

اس تحقیق میں بتایا گیا کہ صبح کے وقت چہل قدمی کرنے والے افراد میں کھانے کی اشتہا کم ہوتی ہے جبکہ وہ دن بھر جسمانی طور پر متحرک رہتے ہیں۔

تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا کہ صبح کے وقت ورزش جیسے چہل قدمی کرنے سے جسمانی توانائی کا احساس بڑھ سکتا ہے۔

صبح کے وقت ورزش سے خون کا بہاؤ بڑھتا ہے اور صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں، البتہ رات گئے تک جاگنے والے افراد کے لیے اس وقت چہل قدمی کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

جہاں تک دوپہر میں چہل قدمی کرنے کی بات ہے تو اس حوالے سے بھی تحقیقی کام ہوا ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق اگر آپ ایسی ملازمت کرتے ہیں جس میں زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا ہوتا ہے تو ضروری ہے کہ کچھ دیر بعد کرسی سے اٹھ کر چہل قدمی کرلیں۔

ماہرین کے مطابق چہل قدمی کرنے سے لوگوں کو اپنے دفتری ساتھیوں سے ملنے جلنے کا موقع بھی ملتا ہے جبکہ خون کے لیے بہاؤ بہتر ہوتا ہے، جس سے کام پر توجہ مرکوز کرنے میں مدد ملتی ہے۔

اسی طرح اگر دوپہر کو غنودگی کا ساما ہوتا ہے تو چہل قدمی کرنے سے اس سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے اور تناؤ بھی گھٹ جاتا ہے۔

کچھ تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا کہ سہ پہر کو چہل قدمی کرنے سے جسمانی اور ذہنی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔

اس وقت جسمانی سرگرمیوں سے کھانے کی اشتہا کو دبانے میں بھی مدد ملتی ہے اور جسمانی وزن کو کنٹرول کرنا بھی ممکن ہوتا ہے۔

جہاں تک شام میں چہل قدمی کرنے کی بات ہے تو اس سے سے دن بھر کی تھکاوٹ دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔

اس وقت چہل قدمی کرنے سے بے وقت کچھ کھانے کی خواہش کو قابو کرنے میں مدد ملتی ہے اور رات کے کھانے کے بعد چہل قدمی کرنے سے بلڈ شوگر کی سطح مستحکم رہتی ہے۔

کچھ عرصے قبل ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ رات کو کھانے کے بعد چہل قدمی کرنے سے پیٹ پھولنے، گیس، قبض یا معدے میں تیزابیت جیسے مسائل سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔

ماہرین کے مطابق رات کے کھانے کے بعد چہل قدمی سے جسمانی گھڑی کے افعال بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔

جسمانی گھڑی ہمارے سونے جاگنے کے قدرتی سائیکل کے لیے اہم ہوتی ہے اور اس کے افعال بہتر ہونے سے نیند کا معیار بہتر ہوتا ہے جبکہ جلد سونے میں بھی مدد ملتی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق چہل قدمی ایسی ورزش ہے جسے روزمرہ کی مصروفیات میں آسانی سے شامل کیا جا سکتا ہے اور دیگر مصروفیات متاثر نہیں ہوتیں۔

انہوں نے بتایا کہ چہل قدمی کا وقت جو بھی ہو، وہ ایسا ہو کہ آپ کی زندگی کو پیچیدہ نہ بنائے۔

نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع تفصیلات پر مبنی ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ کریں۔