شوکت صدیقی برطرفی کیس، فیض حمید نے عدلیہ پر اثر انداز ہونے کا الزام مسترد کردیا

شوکت عزیز صدیقی سے کبھی رابطہ نہیں کیا اور نہ ہی ان سے نوازشریف کی اپیلوں پربات ہوئی: سابق ڈی جی آئی ایس آئی کا جواب— فوٹو:فائل
شوکت عزیز صدیقی سے کبھی رابطہ نہیں کیا اور نہ ہی ان سے نوازشریف کی اپیلوں پربات ہوئی: سابق ڈی جی آئی ایس آئی کا جواب— فوٹو:فائل

اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کے کیس میں سابق ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کرا دیا۔

ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ میں جمع جواب میں فیض حمید نے عدلیہ پر اثرانداز ہونے کا الزام مسترد کردیا اور کہا کہ شوکت عزیزصدیقی نے اپنی تقریر اور جوڈیشل کونسل کے سامنے کسی مبینہ ملاقات کا ذکر نہیں کیا۔

جواب کے متن کے مطابق شوکت عزیز صدیقی خود مان چکےکہ مبینہ ملاقات میں کی گئی درخواست ردکی گئی تھی، شوکت عزیز صدیقی سے کبھی رابطہ نہیں کیا اور نہ ہی ان سے نوازشریف کی اپیلوں پربات ہوئی۔

فیض حمید کے جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ کبھی یہ نہیں کہا ہماری دو سال کی محنت ضائع ہوجائے گی، شوکت عزیز صدیقی کے تمام الزامات بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔

فیض حمید کے جواب کے متن کے مطابق شوکت عزیزصدیقی کے الزامات بعد میں آنے والے خیالات کے مترادف ہیں۔

خیال رہے کہ چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 5رکنی لارجر بینچ کل کیس کی سماعت کرے گا اور لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کی نمائندگی وکیل خواجہ حارث کریں گے۔

دوسری جانب سابق چیف جسٹس اسلام آبادہائیکورٹ انورکاسی اوربریگیڈیئرریٹائرڈ عرفان رامے کے بھی جوابات جمع کرادیے گئے۔

انورکاسی اور عرفان رامے نے بھی شوکت عزیزصدیقی کے الزامات مسترد کردیے۔ شوکت عزیز صدیقی نے الزامات لگائے تھےکہ عرفان رامے فیض حمید کے ساتھ ان کے گھر آئے تھے۔

سابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ انورکاسی پرشوکت صدیقی کی شکایت نہ سننے کا الزام تھا۔

مزید خبریں :