والدین کے علاوہ بطور گلوکار خاندان میں کسی نے قبول نہیں کیا: علی عظمت

میرے مامو بھی کہتے تھے وہ مراسی ہو گئے ہیں ہم ان سے نہیں ملیں گے جس پر دکھ ہوتا تھا: پروگرام میں گفتگو/ فائل فوٹو
میرے مامو بھی کہتے تھے وہ مراسی ہو گئے ہیں ہم ان سے نہیں ملیں گے جس پر دکھ ہوتا تھا: پروگرام میں گفتگو/ فائل فوٹو

معروف گلوکار علی عظمت نے کہا ہےکہ ان کو بطور گلوکار والدین کے علاوہ خاندان میں کسی نے قبول نہیں کیا۔

علی عظمت حال ہی میں ایک نجی ٹی وی شو کے مہمان بنے جہاں ان سے میوزیکل کیرئیر کے حوالے سے گفتگو کی گئی، اس دوران گلوگار نے انکشاف کیا کہ والدین کے علاوہ خاندان نے میوزیکل کیرئیر کو قبول نہیں کیا۔

ایک قصہ سناتے ہوئے گلوکار نے بتایا کہ میری دادی مجھے کہتی تھیں کہ پڑھتا لکھتا نہیں ہے جا کر ناچ گا کر پیسے کما لے، جب میں پہلی بار اپنے ایک کانسرٹ میں اپنی دادی کو لے کر گیا تو میری دادی رونے لگی جس پر میں ان سے وجہ دریافت کی تو دادی نے روتے ہوئے کہا میں نے تو ویسے ہی بد دعا دی تھی تو سچ مچ میں مراسی بن گیا۔

علی عظمت نے بتایا کہ میرے ماموں بھی کہتے تھے وہ مراسی ہوگئے ہیں ہم ان سے نہیں ملیں گے جس پر دکھ ہوتا تھا۔

گلوکار نے مزید کہا کہ میرا خاندان کہتا تھا تم گلوکار نہیں بننا، ایسا کرو ٹی وی اور ریڈیو کے مکینک بن جاؤ، اگر نہیں پڑھنا تو اسے گاڑی کا مکینک بنا دو  اور  طرح سے بھی پیسے کمائے جاسکتے ہیں لیکن انہیں پتا ہی نہیں تھا کہ ہم پیسے بنانا نہیں چاہتے شوق کیلئے گاتے ہیں، ہمیں کبھی پیسا نہیں ملا بلکہ دوسروں نے ہمارے پیسے مارے ہی ہیں۔