03 جون ، 2024
متعدد ممالک میں آج کل شدید گرمی اور ہیٹ ویوز کے باعث کروڑوں افراد معمول سے زیادہ درجہ حرارت کا سامنا کر رہے ہیں۔
گرم موسم میں ائیر کنڈیشنر کے بغیر گزارا کرنا مشکل محسوس ہوتا ہے مگر اکثرمقامات میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ یا اے سی نہ ہونے یا مالی سکت نہ ہونے کے باعث اس ٹھنڈی مشین کا استعمال ممکن نہیں ہوتا۔
ہمارے جسم کو بہت زیادہ دیر تک گرم موسم میں رکھنا جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ درجہ حرارت بڑھنے سے دماغ اور دیگر اعضا کو نقصان پہنچتا ہے۔
ہمارا جسم پسینے کے ذریعے خود کو ٹھنڈا رکھنے کی کوشش کرتا ہے مگر جب وہ اس میں ناکام ہوتا ہے تو ہیٹ اسٹروک یا دیگر مسائل کا خطرہ بڑھتا ہے۔
خاص طور پر جب درجہ حرارت اور نمی کے امتزاج سے جسمانی درجہ حرارت بڑھنے لگتا ہے تو اسے آخری حد کہا جاتا ہے۔
اس حد سے قبل جسم اپنے درجہ حرارت کو طویل وقت تک مستحکم رکھ پاتا ہے، مگر حد عبور ہونے کے بعد وہ ایسا کرنے سے قاصر ہو جاتا ہے اور مختلف مسائل کا خطرہ بڑھتا ہے۔
ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ زیادہ نمی (50 فیصد سے زیادہ) اور درجہ حرارت کے امتزاج کے باعث انسانی جسم 35 کی بجائے 31 ڈگری سینٹی گریڈ پر ہی خود کو ٹھنڈا رکھنے میں ناکام ہونے لگتا ہے۔
مگر اچھی بات یہ ہے کہ چند عام طریقوں سے آپ جسمانی درجہ حرارت کو کنٹرول میں رکھ سکتے ہیں۔
جب موسم گرم ہو تو خود کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے پانی کی مناسب مقدار کا استعمال پہلا اور سب سے اہم قدم ہوتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق پانی گرم ہو یا ٹھنڈا، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، بس پانی پیتے رہنا چاہیے کیونکہ ہمارے جسم کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ پسینے کے ذریعے خود کو ٹھنڈا رکھ سکے۔
ٹھنڈے پانی سے نہانے سے جسم کا بنیادی درجہ حرارت کم رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
ٹھنڈے پانی کے ساتھ نہاتے ہوئے پیپرمنٹ صابن کو استعمال کریں کیونکہ اس صابن میں موجود مینتھول ایسے دماغی حصوں کو متحرک کرتا ہے جو جسم کو ٹھنڈک کا احساس دلاتے ہیں۔
ٹھنڈی پٹیوں کو کلائی یا گردن میں رکھنے سے بھی جسم کو ٹھنڈا رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
یہ جسم کے وہ مقامات ہیں جہاں خون کی شریانیں جِلد کے قریب ہوتی ہیں جس سے جسم زیادہ تیزی سے ٹھنڈا ہوتا ہے۔
اگر آپ کے گھر میں کھڑکیوں کا رخ صبح سے دوپہر کے دوران سورج کی جانب ہوتا ہے تو انہیں پردوں ڈھانپ دینا چاہیے۔
ایسا کرنے سے سورج کی حرارت براہ راست گھر میں داخل نہیں ہوتی اور گھر بہت زیادہ گرم نہیں ہوتا۔
اس حوالے سے خصوصی پردے بھی مارکیٹ میں دستیاب ہیں جو دن میں درجہ حرارت کو کم رکھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
کاٹن سے بنی چادروں کو بستر کے لیے استعمال کرنے سے رات کو خود کو ٹھنڈا رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
اگر سونے کے کمرے میں گرمی کے باعث سونا مشکل محسوس ہوتا ہے تو کسی اور جگہ نیند پوری کرنے کی کوشش کریں۔
اگر آپ کے سونے کا کمرہ گھر کی پہلی منزل پر ہے تو گراؤنڈ فلور کے کمرے میں سونے سے اس مسئلے سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے۔
اسی طرح گھر کے سب سے ٹھنڈے کمرے میں سونے سے بھی اچھی نیند کا حصول ممکن ہوتا ہے۔
ویسے تو اکثر کہا جاتا ہے کہ بستر کی چادر کو فریج یا فریزر میں رکھ کر ٹھنڈا کریں اور سونے سے قبل انہیں بستر پر بچھا دیں۔
مگر یہ اچھا خیال نہیں کیونکہ چادر چند منٹوں میں گرم ہو جاتی ہے جبکہ بستر پر نمی پھیل جاتی ہے جس کے باعث سونا مشکل ہو جاتا ہے۔
جن کمروں کو استعمال نہیں کیا جا رہا ان کے دروازوں کو بند کر دینا چاہیے تاکہ ٹھنڈی ہوا گھر کے اسی حصے تک محدود رہے جہاں آپ موجود ہیں۔
کچن یا ٹوائلٹ میں ایگزارسٹ فین کا استعمال کرنے سے گرم ہوا کو گھر سے خارج کرنے میں مدد ملتی ہے۔
ایل ای ڈی بلب کے مقابلے میں روایتی بلب سے گھر کا درجہ حرارت بڑھتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ایل ای ڈی بلب کے استعمال سے توانائی کی بچت تو ہوتی ہی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ گھر کے اندر درجہ حرارت کسی حد تک کم رکھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔
چولہے سے خارج ہونے والی حرارت گھر کو گرم کر دیتی ہے تو بہتر یہ ہے کہ گرم موسم میں دن بھر کا کھانا صبح ہی تیار کرلیں۔
آئس کریم کھانے سے بھی جسمانی درجہ حرارت کو کم رکھنے میں مدد ملتی ہے، مگر چینی کو زیادہ استعمال کرنے سے گریز کریں۔
نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع تفصیلات پر مبنی ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ کریں۔