Can't connect right now! retry
Advertisement

بلاگ
09 نومبر ، 2017

ایم کیوایم پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی کو کس نے ملایا؟

کراچی کے سیاسی منظرنامے نےاچانک کروٹ بد لی ہے۔ ایم کیوایم پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی(پی ایس پی)جو کل تک ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑی تھیں، نہ صرف ایک ساتھ بیٹھ گئی ہیں بلکہ اپنی اپنی شناخت کومٹاتے ہوئے ایک ہی نام اور ایک ہی انتخابی نشان کے ساتھ الیکشن لڑنے پر بھی آمادہ ہو گئی ہیں۔

مصطفیٰ کمال اور ڈاکٹر فاروق ستار جو ایک دوسرے پر لفظوں کی گولہ باری کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے ۔آج کے اخبارات میں شائع ہونے والی تصویربتاتی ہے کہ اب وہ شیر وشکر ہو چکے ہیں یا کر دیے گئے ہیں۔

کل کی مشترکہ پریس کانفرنس میں ڈاکٹر فاروق ستار اور رؤف صدیقی سب سے پہلے کراچی پریس کلب پہنچے۔ان کے بعد خواجہ اظہارالحسن آئے اور پھرمیئر کراچی وسیم اختراور سینٹرنسرین جلیل۔پاکستان سرزمین پارٹی کی طرف سےحفیظ الدین پہلے رہنما تھے جو ایم کیوایم پاکستان کے رہنمائوں کے بعد پریس کلب میں دکھائی دیے۔

حفیظ الدین مسلم لیگ (ن) چھوڑ کر تحریکِ انصاف میں شامل ہوئے تھے اور اب پی ایس پی کا حصہ ہیں۔ان کے بعد انیس ایڈوکیٹ پہنچے۔مصطفیٰ کمال اپنے ساتھیوں رضا ہارون اور دیگر کے ساتھ خاصی تاخیر سے آئے ۔ان کے ساتھ سیکڑوں کارکن بھی تھے۔جب ایک ٹی وی رپورٹر نے مصطفیٰ کمال سے پوچھا کہ آپ دیر سے کیوں آئے ہیں؟ تو ان کا جواب تھا ’’لڑکے والے دیر سے آیاکرتے ہیں‘‘۔

پریس کانفرنس کا آغاز ڈاکٹر فاروق ستار نے کیا۔ان کاکہنا تھا کہ یہ تقریب ایم کیوایم پاکستان کی طرف سے سجائی گئی ہےجس میں پاک سرزمین پارٹی ان کی مہمان ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ دونوں پارٹیوں میں گفت وشنید کا سلسلہ کئی ماہ سے جاری تھااور اب وہ اگلاالیکشن ایک ہی نام اور ایک ہی نشان کے ساتھ لڑیں گے۔

ان کی اس بات کی تائیدمصطفیٰ کمال نے بھی کی لیکن ایک بارپھراپنے اس موقف کو دہرایا کہ اس سیاسی اتحاد یاانتخابی الائنس کانام ایم کیوایم ہرگز نہیں ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ وہ بانی ایم کیوایم کی پارٹی اور ان کے نام کو نیست ونابود کرنے آئے تھے اور آخر دم تک اپنے اس مشن کی تکمیل کے لیے کوشاں رہیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے نئے نام کے لیے وہ پاک سرزمین پارٹی کے نام سے بھی دستبردار ہونے کو تیار ہیں۔

ایک دن قبل میئر کراچی وسیم اختر اعلان کرچکے تھے کہ وہ ایم کیوایم پاکستان اور اس کے انتخابی نشان پتنگ کے ساتھ ہی الیکشن میں جائیں گے لیکن ایک ہی دن بعد ان کے اس دعویٰ کی نفی ہو گئی ۔ان کے نائب یعنی ڈپٹی میئر کراچی ڈاکٹر ارشد وہرہ پہلے ہی ایم کیوایم پاکستان چھوڑ کر پی ایس پی میں شامل ہو چکے تھے۔اور اب دونوں پارٹیاں بھی یک جان ہونے جارہی ہیں۔اس صورتِ حال میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نئی پارٹی کا سربراہ کون ہوگااور باقی کلیدی عہدے کن کن رہنمائوں کو ملیں گے؟

پیپلزپارٹی کے رہنما منظور وسان یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ مستقبل قریب میں دونوں پارٹیاں ایک ہو جائیں گی اور ان کی قیادت دبئی کے ہاتھ میں ہوگی۔دبئی میں اس وقت سابق گورنرسندھ ڈاکٹر عشرت العباد یا سابق صدر پرویزمشرف۔ عشرت العباد نے فوری طور پر دونوں پارٹیوں سے کسی قسم کے تعلق سے انکار کیا ہے جبکہ پرویزمشرف اس پیش رفت پر خاصے خوش دکھائی دیتے ہیں۔

کل کی پریس کانفرنس سے پہلے ہی ان کا ایک وڈیوبیان سامنے آیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ یہ بات ان کے لیے باعثِ مسرت ہے کہ مہاجر کمیونٹی ایک بار پھر متحد ہو رہی ہے۔

جنرل (ر) پرویزمشرف کے اس بیان سے لگتا ہے کہ وہ بھی اپنی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کو نئی پارٹی میں ضم کرنے اور اس کی قیادت کرنے لیے کس حد تک مچل رہے ہیں۔تاہم مصطفیٰ کمال، انیس قائم خانی اور فاروق ستار کے ہوتے ہوئے پارٹی کی قیادت پرویزمشرف یا عشرت العباد کے حوالے کرنابعیدازقیاس دکھائی دیتاہے۔

نئی پارٹی کا نظم ونسق مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی ہی کے ہاتھ میں رہے گا۔رہی بات ڈاکٹر فاروق ستار کی تو انہیں مرکز میں پارلیمانی لیڈر کے طور پر برقرار رکھا جاسکتا ہے ۔ سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر خواجہ اظہارالحسن کے مستقبل کا فیصلہ الیکشن کے بعد ہو گا۔

واقفانِ حال بتاتے ہیں کہ وہ قوتیں جو دونوں پارٹیوں میں اختلافات دور کرنے کے لیے پچھلے کچھ عرصے سے ثالثی کا کردار ادا کررہی تھیں انہوں نے ایک دن قبل ڈیفنس میں ہونے والی میٹنگ کے دوران واضح پیغام دیاکہ اب جبکہ ایم کیوایم پاکستان کے بہت سے رہنما پیپلزپارٹی میں شامل ہونے کے لیے پر تول رہے ہیں۔

دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ دونوں پارٹیاں اپنے اختلافات فوری طور پر ختم کرکے سیاسی اتحاد کا اعلان کردیں۔ایم کیوایم پاکستان کے بہت سے کلیدی رہنما جن میں عامرخان اور فیصل سبزواری بھی شامل ہیں۔

پی ایس پی سے فوری اتحاد کے ڈاکٹر فاروق ستار کے اس فیصلے پرناراض دکھائی دیتے ہیں جنہیں منانے اور سمجھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔پی ایس پی میں ایسا کوئی اختلافِ رائے موجود نہیں ہے۔

نوٹ: یہ مواد 9 نومبر کے روزنامہ جنگ میں شائع ہوا


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Advertisement