Can't connect right now! retry
Advertisement

صحت و سائنس
09 نومبر ، 2017

’اکھیاں والو۔۔۔‘

— فائل فوٹو

آنکھیں بڑی نعمت ہیں مگر اس با ت کا احساس صرف ان لوگوں کو ہی ہو سکتا ہے جو اس نعمت سے محروم ہیں۔ مگر بعض اوقات اللہ اپنے بعض بندوں کو آزمائش میں ڈال کر ان کو اپنی نعمتوں کا احساس دلاتا ہے اور اسی بہانے ان سے کوئی نیک کام لے لیتا ہے۔

حاجی عبدالرزاق جانو کراچی کے ایک بڑے اور جانے پہچانے تاجر تھے مگر اچانک بصارت کے مسائل سے دوچار ہو گئے اور ان کی بینائی جاتی رہی۔ یہ 15ستمبر 1989 کی بات ہے۔ کراچی کے ایک معروف اور بڑے آئی سرجن نے حاجی عبد الرزاق جانو کی آنکھوں کا آپریشن کیا مگر بد قسمتی سے یہ کامیاب نہ ہو سکا اور حاجی عبدالرزاق جانو کی رہی سہی بینائی بھی جاتی رہی۔

ڈاکٹر نے پٹی کھولنے کے بعد آنکھوں کا مکمل معائنہ کیااور بتایا کہ آپریشن مکمل طور پر کامیاب ہوا ہے مگر سمجھ میں نہیں آرہا کہ بینائی کیوں نہیں بحال ہوئی۔ ڈاکٹر نے آنکھوں کی پٹی دوبارہ بند کر دی اور حاجی صاحب کو اللہ سے دعا کرنے کا کہہ کر ایک ہفتے بعد دوبارہ بلایا۔

ڈاکٹر نے پٹی کھولنے کے بعد آنکھوں کا مکمل معائنہ کیااور بتایا کہ آپریشن مکمل طور پر کامیاب ہوا ہے مگر سمجھ میں نہیں آرہا کہ بینائی کیوں نہیں بحال ہوئی۔

حاجی عبدالرزاق جانوگھر واپس آئے اور نماز عشاء کے بعد بارگاہِ الہی میں گڑگڑا کر دعا کی اور عہد کیا کہ اگر ان کی بینائی بحال ہو گئی تو وہ بینائی سے متاثرہ افراد کے لیے فلاحی کام کریں گے۔

مقررہ دن حاجی صاحب چیک اپ کے لیے کلینک پہنچے اور ڈاکٹر نے پٹی کھولنا شروع کی اور جب مکمل پٹی کھلی تو حاجی عبدالرزاق کی بینائی معجزانہ طور پر واپس آچکی تھی ۔اب بینائی کی بحالی کے بعد اللہ سے کئے ہوئے اس وعدے کی تکمیل باقی تھی جو کہ بینائی جانے پر کیاگیا تھا۔

حاجی صاحب نے اللہ سے کیا ہوا وعدہ پورا کرنے کے لئے بینائی سے محروم اور متاثرہ افراد کے مفت علاج کی تیاریاں شروع کر دیں مگر شاید اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا اس واقعے کے چند ہی ہفتوں بعد 3 اکتوبر 1989 کو حاجی عبدالرزاق جانو 62برس کی عمر میں خالق حقیقی سے جا ملے۔

اپنی زندگی میں انہوں نے نابینا افراد کے علاج کیلئے مفت آئی کیمپ لگانے کا ارادہ کیا تھا مگر وہ جیتے جی اس کا آغاز نہ کر سکے البتہ ان کی وفات کے 33 دن بعد ہی ان کے اہل خانہ نے اس کام کا باقاعدہ آغاز کیااور1990میں پہلا کیمپ کشمیر کے علاقے باغ میں لگایا گیا۔

اس کے بعدبہاولپور کے قریب سمہ سٹہ میں پہلی بار آنکھوں سے محروم افراد کا مفت علاج شروع کیا گیا اور 1991سے متواتر اس ٹرسٹ کے تحت مختلف مقامات کے ساتھ ساتھ ہر سال پاک پتن میں فری آئی کیمپ لگایا جاتا ہے اور نابینا افراد کا مفت علاج اور آپریشن کیے جاتے ہیں۔

حاجی صاجب کا مشن ان کے بیٹے حنیف جانو اور عبدالرحیم جانو پورا کررہے ہیں اور اب آئی کیمپس کا یہ سلسلہ حاجی عبدلرزاق جانو میموریل ٹرسٹ کی صورت اختیار کر چکا ہے جس کے تحت سیکڑوں آئی کیمپس میں ایک لاکھ سے زائد افراد کی آنکھوں کا آپریشن کرکے بینائی بحال کی جا چکی ہے ۔

اس کیمپ کی سب سے خاص بات یہ ہے اس کے لئے کسی قسم کے عطیات نہیں لئے جاتے اور سارے اخراجات جانو فیملی خود برداشت کرتی ہے ۔

ٹرسٹ کے روح رواں عبدالرحیم جانو نے بتایا کہ میرے والد کی وصیت تھی کہ جس طرح مال کی زکوۃ ہر سال ادا کرتے ہو، اسی طرح ہر سال اپنے جسم کی زکوٰۃ بھی ادا کرناچاہیے ۔

میں نے اور میرے اہلِ خانہ نے یہ بات پلے باندھ لی اور اب ہم اپنی جسمانی زکوٰۃ ہر سال آئی کیمپ میں خدمات انجام دے کر ادا کرتے ہیں۔

اب تک تقریباً ایک لاکھ افراد کاکامیابی کے ساتھ موتیا کا آپریشن کر کے آنکھوں کی روشنی بحال کی گئی ہے، 
— عبدالرزاق جانو

انہوں نے بتایا کہ 1991سے ہر سال اس ٹرسٹ کے تحت 9 تا 15نومبر پاک پتن میں فری آئی کیمپ لگایا جاتا ہے اور ہزاروں نابینا افراد کا مفت علاج اور آپریشن کیے جاتے ہیں۔

گزشتہ سال اس آئی کیمپ میں 26 سو افراد کے آپریشن کئے گئے ۔رواں سال بھی 9نومبر سے پاک پتن میں آنکھوں کے مفت علاج کے لئے 253 واں کیمپ لگایا جائے گا جہاں تین ہزاربینائی سے متاثرہ مریضوں کے آنکھوں کے آپریشن کرنے کاہدف ہے۔

جبکہ 28تا 29 دسمبر 2017 کو سندھ،راجن پور، بہاول نگر، جبکہ دادو میں آئندہ سال مفت آئی کیمپس لگائے جائیں گے۔

عبد الرحیم جانو نے بتایا کہ اس ٹرسٹ کے تحت اب تک فری آئی کیمپس میں تقریباً 2.5ملین مریضوں کا علاج کیا جاچکا ہے اور تقریبا ایک لاکھ افراد کاکامیابی کے ساتھ موتیا کا آپریشن کر کے آنکھوں کی روشنی بحال کی گئی ہے ۔

یہ پاکستان کاسب سے بڑا فیملی ٹرسٹ ہے جو سرجری کے ساتھ ساتھ آنکھوں کی مختلف بیماریوں کا مفت علاج کرتا ہے اور جانو فیملی نہ صرف بغیر کسی حکومتی مدد کے تمام اخراجات خود برداشت کرتی ہے بلکہ اس کام کے لیے کسی بھی فرد یا ادارے سے کوئی مالی امداد بھی نہیں لی جاتی۔

ٹرسٹ کے تحت پاکستان کے علاوہ بنگلہ دیش، سری لنکا اور افغانستان میں بھی مفت آئی کیمپس لگائے گئے ہیں جن سے ہزاروں مریضوں نے استفادہ کیا۔ مگر بنگلہ دیش کے سیاسی حالات کے پیش نظر وہاں یہ سلسلہ معطل کردیا گیا۔

عبدالرحیم جانو نے بتایا کہ اگر چہ بنگلہ دیش میں آئی کیمپس کی بہت ضرورت ہے مگر حسینہ واجد کی پاکستان مخالف سرگرمیوں نے ٹرسٹ کو مجبو رکیا کہ وہ اپنا آپریشن بند کر دے ۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان سے محبت کی سزا پر پھانسی پانے والے صلاح الدین قادر نے ان کے کیمپس کے قیام کے لئے بہت مدد اور تعاون فراہم کیا ۔

ٹرسٹ کے تحت پاک پتن کے علاوہ بہاول نگر، دادو اور آزاد کشمیر کے علاقے باغ میں بھی مفت آئی کیمپس لگائے جاتے رہے ہیں جن میں ملک کے نامور آئی سرجنزاور اسپیشلسٹ ہزاروں مریضوں کے آنکھوں کا آپریشن اور جدید لیزر ٹریٹمنٹ کرچکے ہیں۔

ان کیمپس میں مریضوں کے لئے دوائیوں کے ساتھ ساتھ ان کی اہل خانہ کو بھی تین وقت کا کھانا بھی فراہم کیا جاتا ہے جس کے لیے 15سے زائد باورچیوں کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں جبکہ ان کی براہ راست نگرانی عبدالرحیم جانو کی اہلیہ خود کرتی ہیں۔

مجموعی طور پر پاک پتن میں لگنے والے کیمپ میں 100سے زائد رضاکار کام کرتے ہیں جس میں 8سے 10آئی سرجن شامل ہوتے ہیں ۔

پاک پتن میں ہر سال لگائے جانے والے آئی کیمپ میں علاج معالجے کے ساتھ ساتھ تقریبا 55ہزار افراد کو دس دن تک کھانا فراہم بھی کیا جاتا ہے۔

ان آئی کیمپس کا معیار کسی بھی بڑے ہسپتال سے کم نہیں ہوتا ہے دور دراز علاقوں سے آنے والے مریضوں کو جدید ترین سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ سوئٹزر لینڈ کی آئی سو سائٹی نے اس کیمپ کے انتظامات کو بہترین قرار دیا ہے اور اس کے لیے دوائیں ، لیزر لینس اور دیگر ضرورت کی چیزیں وہیں سے منگوائی جاتی ہیں۔

فروری 2017 میں جانو ٹرسٹ نے دادو میں فری کیمپ لگایا تھا جہاں4ہزارمریضوں کا مفت علاج کیا گیا اورفری اوپی ڈیز میں نامور ماہرین بصارت اور آئی سرجنز نے 500 مریضوں کا آپریشن کیا۔ اس ٹرسٹ کا مقصدفری آپریشن ،سرجری اور لینس کے ذریعے بصارت سے محروم افراد کے آنکھوں کا نور کو واپس لانا ہے۔

آنکھوں کے اس نوعیت کے ایک آپریشن میں 5 سے 7 ہزار خرچہ آتا ہے۔ پاک پتن میں ہر سال لگائے جانے والے آئی کیمپ میں علاج معالجے کے ساتھ ساتھ تقریبا 55ہزار افراد کو دس دن تک کھانا فراہم بھی کیا جاتا ہے۔

پاک پتن میں آئی کیمپ لگانے کی اصل وجہ یہ کی اس پورے علاقے میں ریت کے باعث آنکھوں کے امراض بہت زیادہ ہوتے ہیں،
— عبدالرزاق جانو

بابا فرید کے عرس اور ٹرسٹ کے تحت لگنے والے آئی کیمپ میں حاضری تقریباً برابر ہوتی ہے اور جانو فیملی کے تمام افرادذاتی طور پر اس کیمپ میں حصہ لے کے اپنے جسم کی زکوٰۃدیتے ہیں۔

پاک پتن میں آئی کیمپ لگانے کی اصل وجہ یہ کی اس پورے علاقے میں ریت کے باعث آنکھوں کے امراض بہت زیادہ ہوتے ہیں اور اب چونکہ یہ کیمپ کئی برسوں سے مخصوص تاریخوں لگ رہا ہے تو بہت سے لوگ پورا سال اس کا انتظار کرتے ہیں اور کئی دن پہلے ہی پاک پتن مین آکر ڈیرے لگا لیتے ہیں۔

آئی کیمپ کو نہایت منظم انداز میں چلایا جاتا ہے ، سب سےپہلے مریضوں کی رجسٹریشن ہوتی ہے اور ڈاکٹر او پی ڈی میں مریض کی آنکھوں کا معائنہ کر کے اس بات کا فیصلہ کرتے ہیں کہ مریض کی آنکھوں کا آپریشن کیا جانا ہے یا یہ محض دوائی سے ٹھیک ہو سکتی ہیں۔

معمولی نوعیت کے مریض کو دوا دے کر فارغ کر دیا جاتا ہے اور جن مریضوں کو آپریشن کی ضرورت ہوتی ہے انہیں داخل کر لیا جاتا ہے۔ داخلے کے بعد مریض کے ضروری ٹیسٹ کئے جاتے ہیں اور آپریشن کا وقت دے دیا جاتا جو کہ عموماً اگلے دن کا ہوتا۔

رحیم جانو نے بتایا کہ ہر سال کیمپ میں جدت لانے کی کوشش کی جاتی ہے اور رواں سال پاک پتن کے آئی کیمپ میں نئی ٹیکنالوجی سے موتیا کے آپریشن کئے جائیں گے جس میں Foldableلینس استعمال کیا جائے گا۔

1995 میں ہمارے کیمپ میں ایک بصارت سے محروم بچی کو لایا گیا  جسے ڈاکٹرز نے اسے لا علاج قرار دے دیا مگر  ہمارے ڈاکٹرز نے آپریشن کیا جو اللہ کے فضل سے کامیاب ہوگیا،
— عبدالرزاق جانو

اس طریقہ علاج میں قرنیہ میں ایک باریک سوراخ کیا جاتا ہے اور موتیا نکال کر اس میں Foldedلینس داخل کیا جاتا ہے جو اندر جاکر کھل جاتا ہے۔چونکہ یہ ایک مہنگا طریقہ علاج ہے اس لئے ابتدائی طور پر اس سال ایک ہزار سے 1500 افراد کویہ سہولت فراہم کی جائے گی۔

رحیم جانو نے بتایا کہ یہ 1995 کی بات ہے کہ ہمارے کیمپ میں ایک بچی کو لایا گیا جو بصارت سے محروم تھی اور ڈاکٹرز نے اسے لا علاج قرار دے دیا تھالیکن ہمارے ڈاکٹرز نے اس کی آنکھوں کے معائنے کے اس کے آپریشن کا فیصلہ کیا اور اس کا آپریشن اللہ کے فضل سے کامیاب ہوگیا۔

جب ڈاکٹرز اس کی پٹی کھولنے والے تھے تو بچی نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ بینائی واپس آنے کے بعدمیں سب سے پہلے اس کیمپ کا انتظام کرنے والے کو دیکھنا چاہتی ہوں۔

لہٰذا ڈاکٹروں نے مجھے بلایا اور میری موجودگی میں اس بچی کی پٹی کھولی گئی ۔ یہ میری زندگی کا خوب صورت اور یادگار ترین لمحہ تھا۔ اب یہ بچی ماشا اللہ شادی شدہ ہے اور ہر سال اپنے بچوں کے ساتھ ہمارے کیمپ میں مٹھائی لے کر آتی ہے تو ہم سب کو ایسا محسوس ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے ہماری کوششوں کو قبول کرلیاہے۔

جب رحیم جانو نم آنکھوں کے ساتھ یہ سب بتا رہے تھے تو کانوں میں دور کہیں سے کسی نابینا کی دکھ بھری صدا گونج رہی تھی’’اکھیاں والو ، اکھیاں بڑی نعمت ہیں‘‘۔

Advertisement