پاکستان
22 ستمبر ، 2015

جنگ کے شہرہ آفاق قطعہ نویس رئیس امروہوی کو گزرے26برس بیت گئے

جنگ کے شہرہ آفاق قطعہ نویس رئیس امروہوی کو گزرے26برس بیت گئے

کراچی.....سلیم اللہ صدیقی...... یہ جمعرات22ستمبر1988 کی شام تھی جب ملک کے ادبی اور عوامی حلقوں کو یہ افسوسناک خبر سننے کی ملی ، ملک کے ممتاز شاعر،صحافی،دانشور، ادیب اور روزنامہ جنگ کے شہرہ آفاق قطعہ نویس 72سالہ سید محمد مہدی المعروف رئیس امروہوی پرسرار حالت میں شدید زخمی ہونے کے بعد انتقال کرگئے۔

جون ایلیا ،سید محمد تقی اورسید محمد عباس کے بڑے بھائی رئیس امروہوی 12ستمبر1914 کو سادات امروہہ کے معزز گھرانے میں سید شفیق حسن ایلیا کے گھر پیدا ہوئے۔انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم امروہہ میں ہی حاصل کی۔

گھرانہ کیونکہ علمی و ادبی تھا اس لئے جلد ہی اس ماحول میں اتنی مہارت حاصل کرلی کہ 13برس کی عمر سے ہی خوب شعر کہنے لگے۔

اپنے ادبی سفر کا آغازصبا عرفانی کے نام سے کیا لیکن والد کے مشورے پر صبا عرفانی سے رئیس امروہوی ہوگئے۔شاعری کا آغاز نظم سے کیالیکن پھر غزل کہنے پر توجہ مرکوز کی۔ان کا پہلا مجموعہ کلام ”الف “تھا۔

رئیس امروہوی کو اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی ،عربی اور فارسی زبان پر بھی عبور حاصل تھا۔ان کی صحافتی زندگی کاآغاز1941 میں مراد آباد کے ادبی ماہنامے”مسافر “ کی ادارت سے ہوتا ہے۔

بعدازاں ”جدت “کے مدیراعلیٰ مقرر ہوئے۔اس کے بعد دہلی جاکر روزنامہ ”انصاری“ سے منسلک ہوگئے اور ساتھ ساتھ ”شمع دہلی“اور مست قلندر لاہور کیلئے کالم لکھتے رہے۔دہلی کے ماہنامہ”مشہور “ سے بھی ان کا تعلق قائم رہا۔قیام پاکستان کے بعد انہوں نے کراچی میں مستقل سکونت اختیار کرلی۔

روزنامہ جنگ سے ان کا تعلق دہلی سے ہی تھا لہٰذا پاکستان سے جب” جنگ“ کا اجرا ہواتو وہ ا س سے وابستہ ہوگئے۔جنگ میں ان کا پہلا قطعہ24اکتوبر1947 کو آزادی کی پہلی عید قرباں کے موقع پر شائع ہوا۔وہ کہتے ہیں :

کیوں نہ تسکیں ہو مسلماں کی دل ناکام کو۔۔۔سن رہا ہے وہ خلیل اللہ کے پیغام کو
ارض پاکستان پر ہے فضل ورحمت کا نزول۔۔۔ہومبارک عید قربان ملت اسلام کو

رئیس امروہوی کے قطعات ہمیشہ وقت اور حالات پر تازہ ترین تبصرہ کی حیثیت رکھتے تھے،قطعات کیلئے موضوع کا انتخاب اور شعری اسلوب و انداز کا تعین بھی ان کا طرہ امتیاز تھا۔

رئیس امروہوی کا جنگ سے یہ تعلق اپنی زندگی کے آخری ایام تک رہا۔اس دوران وہ 41برس تک مستقل قطعہ نگاری کے ساتھ ساتھ کالم نگاری بھی کرتے رہے جس میں مختلف علوم و فنون پرمضامین لکھے۔

موضوعات میں فلسفہ، سماجیات، سیاسیات، اخلاقیات نفسیات، مابعدالطبعیات، یوگا، علم نجوم، علم فلکیات، ہیپناٹزم ، روحانیت سمیت کئی اوردیگر علوم شامل تھے۔اپنے ان کالم میں وہ عوام کے خطوط کا جواب بھی دیتے تھے۔ ان کے جوابی خطوط کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہوگی۔

الف کے علاوہ ان کے دیگر شعری مجموعوں میں ’پس غبار‘،’حکایت نے‘،’لالہ صحرا‘،’ملبوس بہار‘ ،’آثار اور قطعات کے چار مجموعے ہیں۔نفسیات اور مابعدالطبیعات کے موضوعات پر ان کی نثری تصانیف کی تعداد ایک درجن سے زائد ہیں۔

مزید خبریں :