بلاگ
12 اکتوبر ، 2016

مشرف کی بغاوت سے سبق سیکھئے

مشرف کی بغاوت سے سبق سیکھئے

 پاکستان کا آئین صرف ایک ’کاغذ کا ٹکڑا‘ نہیں ہے، یہ ایک دستاویز ہے اور جمہوری اقدار کے مطابق ملک پر حکمرانی کرنے کیلئے رہنما اصول ہیں، چاہے ہمارے حکمراں ان کے مطابق چلیں یا نہ چلیں، یہ ایک الگ بحث ہے، فوجی آمروں نے اسے ایک 'کاغذ کا ٹکڑے‘ کے طور پر ہی لیا اور جب بھی یہ آئین ان کی غیر قانونی حکمرانی کے راستے کی رکاوٹ بنا تو انہوں نے اسے پرزے پرزے کر دیا۔

1973ء کے آئین کو ایک سے زائد بار تار تار کیا گیا، پہلی بار پانچ جولائی 1977ء اور دوسری بار 12اکتوبر 1999ء کو آئین کو منسوخ کیا گیا، اس طرح آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت ’سنگین غداری‘ کا ارتکاب کیا گیا، وہ جانتے تھے کہ سویلین کبھی بھی اتنے طاقتور نہیں ہو سکتے جو اسے نافذ کر پائیں گے۔

اس میں سویلین اور فوجی قیادت، دونوں کیلئے سبق تھا لیکن کیا ہم سیکھنے کیلئے تیار ہیں؟

جمہوریت کیلئے فوجی نکتہ نظر یا نظرئیے میں بہتری آئی ہے اور سویلین نے بھی کچھ سیکھا ہے جس میں ہم نے دو انتخابات کا مشاہدہ کیا ہے اور تیسرے کی طرف گامزن ہیں جو 2018ء میں ہونے جا رہے ہیں۔

پاکستان میں اکتوبر کے مہینے کی اپنی ایک اہمیت ہے۔پہلا مارشل لاء 8اکتوبر 1958ء کو نافذ کیا گیا، دوسر ی فوجی حکمرانی 12اکتوبر 1999ء کو نافذ ہوئی۔ اس عرصے کے دوران ہم نے جنرل یحییٰ کا مختصر دورانیے کا مارشل لاء بھی دیکھا پھر ایک سویلین حکمرانی کے بعد ایک اور طویل مارشل لاء اور پھر چار غیر مستحکم سویلین حکومتوں کو دیکھا۔

یہ پھر اکتوبر ہے اور ایک سیاسی بحران ابھر رہا ہے جس میں 30اکتوبر کو عمران خان نے اسلام آباد کے محاصرے کی دھمکی دی ہے۔ کچھ قیاس آرائی پر مبنی کہانیاں گردش میں ہیں کہ سویلین اور فوجی رہنماؤں کے درمیان کچھ تناؤ ہے تاہم ابھی تک غیر معمولی پیش رفت کا کوئی اشارہ نہیں۔

سترہ برس قبل، وزیر اعظم نواز شریف اور اس وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے درمیان بھی تعلقات اچھے نہیں تھے حتیٰ کہ وہ بات بھی نہیں کرتے تھے، اکتوبر 2016ء میں وزیر اعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے درمیان خوشگوار تعلقات ہیں، اس کے باوجود بعض معاملات پر اختلافات موجود ہیں جن کا ان کی ریٹائرمنٹ یا توسیع کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

جنرل راحیل شریف نو ماہ قبل ہی ریٹائرمنٹ کا اعلان کر کے تاریخ رقم کرچکے ہیں اور وہ تاریخ کے سب سے زیادہ مقبول آرمی چیف کہلائے جائیں گے۔

آج صورت حال بہت بہتر ہے اور 1999ء کے مقابلے میں سول ملٹری تعلقات بھی ٹھیک ہیں، ایک شخص دونوں بحرانوں میں مشترک ہے اور وہ وزیر اعظم نواز شریف ہیں لہٰذا یہ بھی نواز شریف کے سیاسی تدبر کا ایک امتحان ہے جیسا کہ ذرائع کا کہنا ہے کہ فوج نے غیر جانبدار رہنے اور سیاسی پیش رفت سے خود کو دور رکھنے فیصلہ کیا ہے۔

فی الحال نوازشریف کے اقتدار کیلئے عمران خان چیلنج بنے ہوئے ہیں جو 1999ء میں ایک جونیئر سیاسی رہنما تھے اور مشرف کی بعض معاملات پر حمایت کرتے تھے، 2016ء میں نواز شریف ان کے دوبارہ اہم مخالف ہیں اور پی پی بھی، لیکن 17 سال قبل کے مقابلے میں آج نواز شریف کو بہت زیادہ عوامی حمایت حاصل ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ تاریخ پرویز مشرف اور ان کی نو سالہ حکمرانی کو کیسے یاد رکھے گی۔ انہوں نے یقینی طور پر اقتدار پر غاصبانہ قبضہ کیا اور اس طرح ایک فوجی آمر اور غاصب کہلائیں گے، جب مشرف نے بغاوت کی تو وہ جانتے تھے کہ اس وقت ان کے پاس حکمرانی کا کوئی قانونی اور آئینی اختیار نہیں تھا لہٰذا ان کی پہلی تقریر سے قبل قومی ترانہ نہیں پڑھا گیا تھا کیونکہ وہ چف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کا نہیں، ایک خالصتاً آرمی چیف کا خطاب تھا۔ ان کی جنرلوں کی ٹیم نے منتخب وزیر اعظم سے گن پوائنٹ پر اختیارات چھینے تھے۔

لہٰذا 12 اکتوبر کی رات کو تجربہ کار وکیل شریف الدین پیرزادہ جو قانونی اور غیر آئینی اقدامات کو آئینی رخ دینے میں پی ایچ ڈی رکھتے تھے، ان سے مشرف نے رابطہ کیا اور ان سے مشورے کی کوشش کی، پیرزادہ نے ایک بار کہا تھا کہ ”جب مشرف نے پہلی بارانہیں کال کی تو وہ انہیں نہیں جانتے تھے، انہوں نے کہا کہ میں جنرل پرویز مشرف ہوں کیا کل ہم مل سکتے ہیں؟“

انہوں نے کہا کہ میرا پہلا مشورہ انہیں یہ تھا کہ مارشل لاء نہیں لگائیں کیونکہ دنیا اسے قبول نہیں کرے گی۔ میں نے انہیں یہ بھی بتایا کہ اس وقت وہ صدر نہیں بن سکتے اور چیف ایگزیکٹو کا ٹائٹل استعمال کرنے کو کہا۔

جنرل مشرف کی شخصیت اور حکمرانی کے متعلق کراچی میں ان کے پرانے دوست اور پڑوسی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائر معین الدین حیدر نے مجھے ایک بار بتایا کہ میری ان کے ساتھ ایک طویل وابستگی تھی، جب انہوں نے اقتدار پر قبضہ کر لیا تو وہ سویلین اور فوجی دونوں معاملات پر اپنے قریبی دوستوں کے مشورے سنا کرتے تھے اور ان کے مطابق فیصلے کرتے تھے، اس کے بعد انہوں نے اپنے طور پر فیصلے لینے شروع کر دئیے لیکن اب بھی وہ ہماری بات سنا کرتے تھے، اپنے آخری چند سالوں میں وہ مشورہ لینے سے رک گئے اور اپنی مرضی کرنے لگے تھے۔

اگر وہ ان مشوروں کو سن لیتے تو وہ وکلاء تحریک، لال مسجد واقعہ، 3نومبر کی ایمرجنسی اور ببنظیر بھٹو کے ساتھ نمٹنے جیسے معاملات سے بچ جاتے۔ اگر وہ ان کو سن لیتے تو اقتدار چھوڑ دیتے اور2004ء میں متحدہ مجلس عمل کے ساتھ اپنے کیے گئے وعدے کو شرف بخشتے۔ اگر وہ اپنے دوست کی بات سن لیتے تو2001ء میں ریفرنڈم میں نہ جاتے، اس کی بجائے وہ انتخابات کے بعد آرمی چیف کے طور پر ریٹائر ہوتے۔ اگر انہوں نے جاوید جبار، لیفٹیننٹ جنرل تنویر نقوی اور لیفٹیننٹ جنرل معین الدین حیدر سمیت اپنے دس قریبی دوستوں کی پبلک اپیل پر غور کیا ہوتا تو حالات مختلف ہوتے، یہ اپیل تمام معروف اخبارات میں شائع ہونے والے ایک خط کے ذریعے کی گئی تھی۔

مشرف نے ایک فوجی آمر کی راہ منتخب کی لیکن اپنے شہری پس منظر کی وجہ سے انہوں نے دو اہم اصلاحات کیں، جو بلدیاتی ادارے اور پولیس آرڈر2002ء تھے، انہوں نے کارگل جنگ کے دوران میڈیا وار کے تجربے سے سبق سیکھتے ہوئے ملک میں کارپوریٹ میڈیا کلچر کی راہ ہموار کی تاہم 2007ء کی ایمرجنسی میں انہوں نے تمام نیوز چینلز کو بند کردیا جس میں ’جیو‘ دیگر کے مقابلے میں زیادہ متاثر ہوا، خاص طور پر جیو اسپورٹس پر پابندی عائد کردی گئی۔

کسی بھی دوسرے رہنما کی طرح جنرل مشرف بھی اپنے اقتدار کو طول دینے کی کوشش میں تھے، انہوں نے عدلیہ اور سیاسی جماعتوں پر حملہ کیا، انہوں نے بینظیر اور نواز شریف دونوں کو انتخابی عمل سے باہر رکھا، انہوں نے پی پی پی اور مسلم لیگ ن میں دراڑ ڈالی، ایم کیو ایم سے معاہدہ کیا اور عمران کی حوصلہ افزائی کی، ابتدائی طور پر ان کا خیال تھا کہ ایک تیسرے متبادل کے طور پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) انہیں قبول کرے گی لیکن مشرف، نوازشریف اور بینظیر بھٹو کو کمزور کرنا چاہتے تھے اس لیے انہوں نے چوہدری شجاعت حسین کی قیادت میں مسلم لیگ ق بنائی اور مخدوم امین فہیم کے وزیر اعظم بننے کے انکار کے بعد انہوں نے پیپلز پارٹی پیٹریاٹ بنائی۔

کارگل کی جنگ تک وہ جہادیوں کے ایک ہیرو تھے لیکن ستمبر 2001ء کے بعد وہ ان کیلئے ولن بن گئے جب انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد کے ساتھ ہاتھ ملایا ااور تمام فرقہ وارانہ اور جہادی تنظیموں پر پابندی لگا دی۔

انہوں نے پاکستان کے لبرلز اور سیکولرز کا دل جیتنے کی کوشش کی لیکن کسی بھی لبرل یا سیکولر پارٹی نے ان کی حمایت نہیں کی، اس کے برعکس، مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے ان کی طویل حکمرانی میں اہم کردار ادا کیا، انہوں نے عدلیہ کو دبایا اور عبوری آئینی حکم (پی سی او) کو لانے سے پہلے انہوں نے ان ججوں کے خلاف طاقت کے ہتھکنڈوں کی تمام ا قسام استعمال کیں جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف لینے سے انکار کردیا تھا جبکہ پاکستان کے چیف جسٹس کو اپنے گھر سے باہر آنے کی اجازت نہیں تھی۔

سیاستدانوں نے سبق سیکھا اور بینظیر و نواز شریف دونوں نے 2006ء میں جمہوریت کے تاریخی چارٹر ’میثاق جمہوریت‘ پر دستخط کئے لیکن جب دونوں نے میثاق جمہوریت میں کئے گئے اپنے وعدوں سے انحراف کرنے کی کوشش کی تو اس کی قیمت بھی ادا کی۔

بینظیر بھٹو کی شہادت جنرل مشرف کی رخصتی اور ان کے نوسال کے متنازع دور کو دیکھا جائے کہ جب انہوں نے جنرل اشفاق پرویز کیانی کو فوج کے سربراہ کے طور پر تبدیل کیا، جب مشرف نے آرمی چیف کے عہدے سے استعفیٰ دیا تو وہ صدارت جاری رکھنا چاہتے تھے لیکن وہ اس وقت حیران رہ گئے جب کیانی نے سیاست میں فوج کو شامل کرنے سے انکار کر دیا اور انتخابات کے دوران غیر جانبدار رہنے کا اعلان کیا۔

یہ بھی صدر کے طور پر مشرف کے زوال کا باعث بنا، انہوں نے بینظیر بھٹو کے خاوند آصف علی زرداری کو منتخب کرایا جنہوں نے مشرف کو محفوظ راستہ دینے اور ان کے نوسالہ دور کو جوابدہ نہ بنانے کا وعدہ کیا تھا، یہاں تک کہ ان کے خلاف بینظیر قتل کیس کا مقدمہ بھی نہیں چلایا گیا، اس کے بدلے پیپلز پارٹی نے تاریخ رقم کی اور اپنی مدت مکمل کی، اس سے قبل مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کو بھی پہلی حکومت کا دور مکمل کرنے کو ملا تھا تاہم انہوں نے ایک سال قبل انتخابات منعقد کرائے۔

مسلم لیگ ن نے 2013ء میں الیکشن جیتا اور نواز شریف تیسری بار وزیر اعظم بنے جو ایک ریکارڈ ہے اور اس ملک نے ایک سویلین حکومت سے دوسری سویلین حکومت کو اقتدار کی منتقلی کا مشاہدہ کیا، ان کی حکومت نے آرٹیکل چھ کے تحت مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کا خطرہ لیا لیکن ان کی گرفتاری اور مقدمے کی سماعت سول ملٹری تعلقات میں محاذ آرائی کا مرکزی نقطہ بن گئی، مشرف نے اپنے ادارے فوج کو بھی مشکل میں ڈال دیا جب وہ فوج کے مشورے کے برعکس انتخابات میں حصہ لینے کیلئے 2013ء میں واپس آئے۔

آخر کار نواز شریف کی حکومت پر دباؤ بڑھا اور ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے ہٹا دیا گیا اور سات سال میں ان کی دوسری محفوظ واپسی کیلئے راہ ہموار کی گئی، اس طرح زرداری اور نہ ہی نوازشریف اتنے طاقتور ہو سکے کہ ایک سابق سربراہ کے خلاف مقدمہ چلاتے۔

بارہ اکتوبر 1999ء کو کون کس طرح یاد رکھ سکتا ہے؟ یہ مارشل لاء ہے، بغاوت، یا 2007ء کی طرح کی ایمرجنسی ہے؟ کوئی بات نہیں کہ آپ اسے کس طرح دیکھتے ہیں، یہ ایک آمر کے دور کے طور پر یاد رکھا جائے گا جنہوں نے آئین کے ساتھ کاغذ کے ایک ٹکڑے کی طرح سلوک کیا۔

اب یہ سیاست دانوں کی ذمے داری ہے کہ وہ پارلیمنٹ کو بچائیں اور اس کی بالادستی قائم رکھیں اور یہ وزیر اعظم نواز شریف کی منتخب حکومت کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ پارلیمنٹ کا احترام کرے اور خود کو اور اپنے خاندان والوں کو بدعنوانی کے الزامات سے کلیئر کرائیں۔

کوئی بھی ماورائے آئین اقدام کی حمایت نہیں کرے گا لیکن اس وقت حکومت کو پاناما الزامات سے خود کو کلیئر کرانے کی ضرورت ہے، ہم چاہتے ہیں کہ ایک منتخب وزیر اعظم آئین اور پارلیمنٹ کے پیچھے پناہ نہ لے۔

مصنف روزنامہ ’جنگ‘ اور ’دی نیوز‘ کے سینئر کالم نگار اور ’جیو‘ کے تجزیہ نگار ہیں۔